Adolf Hitler stands with an SA unit during a Nazi parade in Weimar [LCID: 02286]

ہٹلر نے اقتدار حاصل کر لیا

1930 کی دہائی کے آغاز میں جرمنی میں ماحول پریشان کن حد تک سنجیدہ تھا۔ عالمی معاشی انحطاط نے اس ملک کو خاص طور پر بہت متاثر کیا تھا اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے تھے۔ بہے سے لوگوں کے دماغ میں پندرہ سال قبل پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شرمناک شکست کی یاد اب تک تازہ تھی اور جرمنوں کو اپنی کمزور حکومت وائمار جمہوریہ پر اعتماد نہیں تھا۔ ان حالات نے ایک نئے لیڈر ایڈولف ہٹلر اور اس کی پارٹی نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پاری (مختصراً نازی پارٹی) کو اُبھرنے کا موقع فراہم کیا۔

ہٹلر ایک طاقت ور اور مسحور کر دینے والا مقرر تھا جس نے تبدیلی کے خواہاں جرمنوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس نے مایوس لوگوں سے ایک بہتر زندگی اور ایک نئے اور عظیم جرمنی کا وعدہ کیا۔ نازيوں نے خاص طور پر بے روزگار افراد، نوجوانوں اور لوئر مڈل کلاس کے افراد یعنی چھوٹی دکانوں کے مالکان، دفتری ملازمین، کاشتکار اور کاریگروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

پارٹی نے بہت تیزی کے ساتھ اقتدار حاصل کر لیا۔ معاشی پستی سے پہلے نازی پارٹی بالکل غیر معروف تھی اور 1924 کے انتخابات میں رائخ اسٹاگ (جرمن پارلیمنٹ) کے صرف تین فیصد ووٹ حاصل کر سکی تھی۔ 1932 کے انتخابات میں نازیوں نے 33 فیصد ووٹ حاصل کئے جو کسی بھی دوسری پارٹی سے کہیں زيادہ تھے۔ جنوری 1933 میں ہٹلر کو چانسلر، یعنی جرمن حکومت کا صدر بنا دیا گيا اور کئی جرمن یہ ماننے لگے کہ انہيں اپنے قوم کا مسیحا مل گیا ہے۔

اہم تواریخ

28 جون 1919
ورسائے کے معاہدے کے ساتھ پہلی جنگ عظیم کا اختتام

پہلی جنگ عظیم کے بعد ورسائے کے معاہدے کے تحت فاتح قوتوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دوسرے اتحادی ممالک) نے جرمنی پر کڑی شرائط عائد کردیں۔ حملے کے ڈر سے جرمنی معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور تھا۔ دوسرے ضوابط کے علاوہ جرمنی نے جنگ کی ذمہ داری بھی قبول کی اور بڑی رقوم کی ادائيگياں کرنے (جنہيں تلافی کا نام دیا گيا)، اپنی فوج کو ایک لاکھ ٹروپس تک محدود کرنے اور اپنے پڑوسیوں کو زمین دینے کی حامی بھرلی۔ اس معاہدے کی شرائط کی وجہ سے جرمنی میں سیاسی عدم اطمنان پیدا ہوگیا۔ ایڈولف ہٹلر نے حالات بہتر کرنے کا وعدہ کرکے حمایت حاصل کی۔

24 اکتوبر 1929
نیویارک کے بازار حصص میں شدید مندی

نیو یارک کے بازار حصص کے ساتھ منسلک حصص کی قیمتوں میں شدید مندی کی وجہ سے کئی کاروبار دیوالیہ ہو گئے۔ امریکہ میں بے روزگاری زور پکڑنے لگی۔ اسے "عظیم معاشی پستی" کا نام دیا گیا اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی بحران پیدا ہوگیا۔ جرمنی میں جون 1932 تک ساٹھ لاکھ افراد بے روزگار تھے۔ معاشی پریشانی کی وجہ سے نازی پارٹی کی حمایت ایک دم بڑھ گئی۔ اس کے نتیجے میں جولائی 1932 میں رائخ اسٹاگ (جرمن پارلیمنٹ) کے انتخابات میں نازی پارٹی نے تقریباً 40 ووٹ حاصل کرلئے۔ نازی پارٹی اس وقت جرمن پارلیمنٹ کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔

6 نومبر 1932
نازی پارٹی پارلیمانی انتخابات میں حمایت سے محروم ہو گئی

نومبر 1932 میں رائخ اسٹاگ (جرمن پارلیمنٹ) کے انتخاب میں نازیوں کو جولائی کے انتخابات کے مقابلے میں بیس لاکھ ووٹ کم ملے۔ انہوں نے صرف 33 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ یہ بات واضح ہونے لگی کہ نازی جمہوری انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہيں گے اور ایڈولف ہٹلر روایت پسندوں کے ساتھ ایک مخلوط اتحاد بنانے کے لئے راضی ہوگیا۔ کئی مہینوں کے مذاکرات کے بعد جرمنی کے صدر پول وون ہنڈنبرگ نے 30 جنوری 1933 کو روایت پسندوں کی اکثریت کی حکومت میں ہٹلر کو جرمنی کا چانسلر بنا دیا۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.