Germans in front of Jewish-owned department store in Berlin, anti-Jewish boycott. Berlin, Germany, April 1, 1933.

یہودی کاروباروں کا بائيکاٹ

1933 میں جرمنی میں تقریباً 5 لاکھ یہودی رہتے تھے، یعنی آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم۔ جرمنی کے بیشتر یہودی جرمن ہونے پر فخر محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ اس ملک کے باشندے تھے جس سے کئی عظیم شاعروں، مصنفین، فن کاروں اور موسیقاروں کا تعلق تھا۔ جرمنی کے ایک لاکھ سے زائد یہودی پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمن فوج کا حصہ رہے اور ان میں سے کئی کو بہادری کے تمغات بھی ملے تھے۔

یہودی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز تھے اور جرمنی کی اہم جامعات میں پڑھاتے تھے۔ 1905 اور 1936 میں جرمن مصنفین اور سائنسدانوں کو ملنے والے اڑتیس نوبل انعاموں میں سے چودہ یہودیوں نے حاصل کئے تھے۔ یہودیوں اور غیریہودیوں کے درمیان شادیاں بھی عام ہونے لگیں۔ باوجود اس کے کہ جرمنی کے یہودیوں کو اپنی سماجی زندگیوں اور پیشوں میں کچھ حد تک امتیاز کا سامنا تھا۔ زیادہ تر جرمنوں کی حیثیت سے اپنے مستقبل کے بارے میں پراعتماد تھے۔ وہ جرمن زبان بولتے تھے اور جرمنی کو اپنا گھر سمجھتے تھے۔

نازیوں کے اقتدار سنبھالنے پر جرمنی کے یہودیوں کی زندگیاں مکمل طور پر بدل گئيں۔ یکم اپریل 1933 کو نازیوں نے ان کے خلاف پہلے قومی منصوبے پر عمل کیا: یہودی کاروباروں کا بائيکاٹ۔ نازی ترجمانوں نے دعوی کیا کہ اس بائيکاٹ کے ذریعے نازی حکومت پر تنقید کرنے والے جرمن یہودیوں اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف، جن میں امریکی اور انگریز صحافی شامل تھے، بدلہ لیا جارہا تھا۔ بائیکاٹ کے دن اسٹار ٹروپر یہودی دکانوں کے سامنے دھمکی آمیز انداز میں جا کر کھڑے ہوگئے۔ ہزاروں دروازوں اور کھڑکیوں پر چھ نقطوں والا "اسٹار آف ڈيوڈ" بنایا گيا۔ "یہودیوں سے نہ خریدیں" اور "یہودی ہماری بدقسمتی ہيں" کے نوٹس لگائے گئے۔

ملک بھر میں ہونے والا بائیکاٹ زیادہ کامیاب نہ تھا اور صرف ایک دن چلا لیکن یہ ملک بھر میں جرمنی کے یہودیوں کے خلاف نازی پارٹی کی مہم کا آغاز تھا۔ ایک ہفتے بعد حکومت نے سول سروس میں "آرینوں" کو محدود کرنے کا قانون نافذ کیا۔ حکومت میں کام کرنے والے یہودیوں کو ملازمت سے برطرف کردیا گيا جن میں عوامی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ بھی شامل تھے۔

اہم تواریخ

مارچ 1933
جرمنی بھر میں یہودیوں کے خلاف ایس اے کی دہشت ناک کارروائیاں

یہودیوں کو معاشرے سے علیحدہ کرنے کی کوشش میں ایس اے (اسٹارم ٹروپرز) نے جرمن شہروں میں یہودیوں کے ڈیپارٹمنٹ اسٹورز پر حملہ کردیا۔ مقامی پولیس۔، جو ابھی نازی کنٹرول کے تحت نہیں آئی تھی، حملے روکنے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔ ایس اے کے ارکان نے اپنے حملے جاری رکھے اور عدالتوں میں داخل ہو کر یہودی وکیلوں اور ججوں کو سڑکوں پر گھسیٹ کر لے آئے اور اُنہیں کھلے عام رسوا کیا۔ بین الاقوامی یہودی تنظیموں اور اخبارات نے ان حملوں کو مشتہر کیا اور جرمن اشياء کے بائيکاٹ کی ترغیب دی۔ اس کے جواب میں نازیوں نے جرمنی بھر میں یہودی کاروباروں کا بائيکاٹ کروایا اور یہودیوں کو بین الاقوامی پریس میں سامنے آنے والی جرمن مخالفت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

یکم اپریل 1933
ملک بھر میں یہودی کاروباروں کا بائیکاٹ

صبح 10 بجے ایس اے اور ایس ایس کے ممبران نے جرمنی بھر میں یہودی کاروباروں کے سامنے کھڑے ہو کر عوام کو ان کے مالکان کے یہودی ہونے کے متعلق مطلع کیا۔ دکانوں کی کھڑکیوں پر "جیوڈ" لکھا گیا، جس کا مطلب جرمن زبان میں "یہودی" تھا، اور دروازوں پر سیاہ اور زرد رنگوں میں اسٹار آف ڈیوڈ بنایا گيا۔ ان نعروں کے ساتھ یہودیوں کی مخالفت کرنے والے نشانات لگائے گئے۔ کچھ قصبوں میں ایس اے سڑکوں پر یہودیوں کی مخالفت میں نعرے لگاتے ہوئے اور پارٹی کے گانے گاتے ہوئے چل نکلے۔ دوسرے قصبوں میں بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ تشدد کا بھی استعمال کیا گیا؛ کئیل میں ایک یہودی وکیل کو قتل کردیا گیا۔ رات کے بارہ بجے سرکاری بائيکاٹ ختم ہوگیا۔

7 اپریل 1933
قانون کے تحت یہودیوں کو سول سروس سے برطرف کردیا گیا

نازی حکومت نے پیشہ ورانہ سول سروس کی بحالی کے قانون پر عملدرآمد کیا۔ اس قانون کا مقصد نازی ریاست کے مخالفین کو خارج کرنا تھا – یعنی یہودی اور سیاسی مخالفین۔ اس کے نتیجے میں سول سروس کے ملازمین کو اپنی "آرین" نسلیت کے ثبوت کے طور پر اپنے والدین اور نانی نانا اور دادی دادا کے مذہب کی دستاویز پیش کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہيں سروس سے برطرف کردیا جاتا تھا۔ ہٹلر نے بہت مشکل سے صدر پال وون ہنڈن برگ کا ان سول ملازمین کو برطرفی سے مستثنی کرنے کا مطالبہ مانا، جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا، یا جن کے قریبی رشتہ دار اس جنگ میں مارے گئے تھے۔ آنے والے ہفتوں میں ایسے دوسرے قوانین سے یہودی وکیل اور ڈاکٹر بھی متاثر ہوئے تھے۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.