View of the Nazi Party rally grounds in Nuremberg, Germany.

جرمن سلطنت کا تیسرا دور: نازی فلسفئہ زندگی کا ابلاغ

قومی سوشلزم ایک سیاسی تحریک سے کہيں زیادہ تھی۔ جنوری 1933 میں اقتدار میں آنے والے نازی لیڈر سیاسی اختیارحاصل کرنے اورسیلس کے معاہدے کی تجدیدِ نو کرنے اور پہلی جنگ عظیم کی شرمناک شکست کے بعد کھوئے گئے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرکے ان کی توسیع کرنے کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنا چاہتے تھے۔ وہ ثقافتی منظر کو بھی تبدیل کرنا چاہتے تھے: وہ ملک کو روایتی "جرمن" اور "نارڈک" اصولوں پر واپس لانا چاہتے تھے، یہودی، "غیر ملکی" اور "زوال پذیر" اثرات کو حذف کرنا اور اُنہیں محدود کرنا چاہتے تھے اور نازی نظریات کے مطابق ایک نسلی برادری (“واکس جرمائن شیفٹ") کی تخلیق کرنا چاہتے تھے۔

یہ نظریات بعض اوقات متضاد بھی ہوتے تھے: قومی سوشلزم بیک وقت جدید اور جدت مخالف ہوتا تھا؛ یہ کبھی فعال ہوتا اور کبھی خیالی۔ لیکن پھر بھی اس میں سے جرمنی کے پرسکون اور رومانوی ماضی کی بھی خوشبو آتی تھی۔ بعض معاملوں میں نازیوں کے ثقافتی اصولوں میں مستقل مزاجی موجود تھی: انہوں نے جرمن اقدار کی بہترین نمائیندگی کے طور پر جرمن خاندان، نسل اور اصولوں کی اعلیٰ ترین نمائندگی کرنے کے لئے خاندان، نسل اورلوک ریتوں پر زور دیا۔ ان اصولوں کے تحت وفاداری، جدوجہد، ذاتی قربانی اور تنظیم کی اوزاقدار کو فروغ دینے کے بجائے مادیت پرستی، عالمیت اور "بورژوائی دانشوری" کو مسترد کیا گیا۔ نازی ثقافتی اقدار نے جرمنوں کی اُن کی اپنی زمین کے ساتھ وابستگی (ھائمت) اور فطرت کے ساتھ تعلق پر بھی بہت زور دیا اور انفرادی ارکان سے بڑھ کر لوک روایات اور قومیت کو فوقیت دی۔

نازی جرمنی میں ثقافت کا اولین مقصد نازی فلسفہ زندگی کو پھیلانا تھا۔ 1933 کے آغاز میں اقتدار حاصل کرنے کے وقت نازی لیڈروں نے جو کام سب سے پہلے کئے اُن میں تمام پیشہ ورانہ اور سماجی تنظیموں کو نازی نظریے سے ہم آہنگ (گلائخ شیلٹونگ) کرنا تھا۔ فنونِ لطیفہ اور ثقافت سے متعلقہ ادارے بھی اِس کوشش سے مستثنیٰ نہیں تھے۔ وزیر برائے مقبولِ عام روشن خیالی اور پراپیگنڈا جوزف گوبیلز نے فنون اور ثقافت کی برادریوں کو نازی مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ حکومت نے ثقافتی تنظیموں کو یہودیوں اور اُن دیگر لوگوں سے پاک کر دیا جن کے بارے میں حکومت کا خیال تھا کہ وہ سیاسی یا فنی طور پر مشکوک تھے۔

10 مئی 1933 کو نازی کارکنان اورجرمنی کے اشتراکی طلباء کی قومی تنظیم (نیشنل سوزیالسٹیشر ڈیوئشر اسٹوڈنٹین بنڈ یا این ایس ڈی ایس ٹی بی) نے ملکی سطح پر کتابیں جلانے کی تقریبات منعقد کیں جن میں اُنہوں نے برٹولٹ بریخٹ، ٹامس مان اورایرک ماریا ریمارک جیسے غیر جرمن مصنفوں کے علاوہ یہودی مصنفوں کی تحریروں کو بھی نظر آتش کیا۔ اِن میں مشہور جرمن مصنف فرانز ورفیل، لائن فیوخٹ وینگراور ھائن ریخ ھائن شامل ہیں۔

ستمبر 1933 سے جرمنوں کی نئی نسل کا ایوان ثقافت (ریخ سکلٹر کمر) قائم کیا گیا۔ یہ ایک نگران تنظیم تھی جس میں ریخ فلم، موسیقی، تھیٹر، صحافت، ادب، فنون لطیفہ اور ریڈيو سب ہی شامل تھے اور اس ایوان نے جرمن ثقافت کے تمام پہلوؤں کو زیر کنٹرول لانے اور اُن کی نگرانی کے اقدامات کئے۔

نئی نازی جمال پرستی نے کلاسیکی حقیقت پسندی کو اپنایا۔ بصری فنون اور "اعلی" ثقافت نے اِس ھیئت سے کام لیتے ہوئے کسانوں کی زندگی، خاندان اور برادری اور میدان جنگ میں بہادری کو اجاگر کیا اور صنعت، ذاتی قربانی اور آرین نسل کی پاکیزگی جیسی "جرمن خوبیوں" کی مثالیں پیش کرنے کی کوشش کی۔ نازی جرمنی میں فن صرف خوبصورتی کے لئے نہیں استعمال کیا جاتا تھا بلکہ اس میں پراپیگینڈا کا ایک محتاط عنصر بین السطور موجود تھا۔ وہ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں رونما ہونے والے جدید فن کے رجحانات سے بالکل متضاد تھا جس میں زیادہ تر تجریدی، ایکس پریشنسٹ اور سر ریئلسٹ رجحانات سے کام لیا گیا تھا۔ جولائی 1937 میں میونخ میں جرمن آرٹ کے ایوان میں "جرمن فنون کی ایک عظیم نمائش" کا انعقاد کیا گیا جس میں قومی سوشلسٹ فنی ذوق کے ثقافتی پہلوؤں کا مظاہرہ کیا گیا

اس کے برعکس ایک قریبی نمائش کے ہال میں “زوال پذیر فن کی نمائش” ("این ٹارٹیٹ کونسٹ") پیش کی گئی تاکہ جرمن عوام کو جدید آرٹ کے "حوصلہ شکن" اور "منفی" اثرات کا بھی یقین دلایا جائے۔ زوال پزیر فن کی نمائش میں میکس ارنیسٹ، فرانز مارک، مارک شیگال، پال کلی اور ویسیلی کانڈنسکی جیسے مصوروں کی تصاویر رکھی گئیں۔ یہ تمام مصور آجکل بیسویں صدی کے عظیم مصوروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اسی سال گوئبیلز نے جرمنی بھر میں موجود عجائب گھروں اور جمع کئے گئے مصوری کے نمونوں میں سے "زوال پذیر" فن کے ہزاروں نمونے ضبط کرنے کے احکامات جاری کردئے۔ ان میں سے بیشتر نمونوں کو تباہ کردیا گیا یا انہيں عوامی نیلامی میں فروخت کر دیا گیا

فن تعمیرات میں پال ٹروسٹ اور ایلبرٹ سپیئر جیسے فنکاروں نے قومی سوشلسٹ تحریک کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ایک نفیس کلاسیکی فنکاری کے یادگار تعمیراتی نمونے تخلیق کئے۔ ادب میں نازیوں کے ثقافتی حکام نے ایڈولف بارٹیلز اور ہٹلر کے ساتھ ساتھ نوجوان شاعر ھینز باؤمین کی تصنیفات کو فروغ دیا۔ ترجیحی افسانوں کے طور پر ایسے ادب کو ابھارا گیا جس میں کسانوں کی ثقافت کو جرمن برادری کی بنیاد ٹھہرایا گیا یا وہ ایسے تاریخی ناول جن میں "واک" کی مرکزیت کو اجاگر کیا گیا اور جنگ کی ایسی کہانیاں شامل کی گئیں جن میں لوگوں کو تصادم کے لئے تیار کرنے اور جنگ کے زمانے میں اُن کی توجہ برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ سنسر کی پالیسی تصویر کا دوسرا رُخ پیش کرتی تھی۔ ایوان ادب فوری طور پر ایسی "بلیک لسٹیں" تیار کرتا تھا جن کے مطابق عوامی لائبریریوں سے ناقابل قبول کتابوں کو ہٹا دیا جاتا۔

نازی "آرٹ کے فروغ" کا اطلاق سنیما پر بھی ہوتا تھا۔ اسے حکومت کی طرف سے بھاری مراعات حاصل تھیں اور فلم انڈسٹری پراپیگینڈا کا ایک اہم ذریعہ تھی۔ لینی ریفینز ٹاہل کی "ٹرائینف ڈیس ویلینز" ("عظم کی فتح") اور"ڈیر ھٹلر جُنگے کوئیکس" ("ھٹلر یوتھ ممبر کوئیکس") جیسی فلموں نے نازی پارٹی اور اس کی ذیلی تنظیموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ ایک اور فلم "ایچ کلاگے این" ("میں الزام دیتا ہوں") میں رحیمانہ قتل کے خفیہ پروگرام کی قبولیت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ "جیوڈ سوس" اور "ڈیر ایویگے جوڈے" ("آوارہ یہودی") میں نازی نظریے میں موجود سام دشمنی کا اظہار کیا گیا۔

تھیٹر کمپنیوں نے بھی جرمن سنیما کی تقلید کرتے ہوئے قومی سوشلسٹ ڈراموں کے ساتھ ساتھ یوھین وولف گانگ وان گوئٹے اور یوھین فرائڈرش کرسٹوف وان شلر جیسے ادیبوں کے ڈراموں کی روایتی اور کلاسیکی شکلیں پیش کیں۔

موسیقی کے شعبے میں نازی ثقافتی حکام نے جرمنی موسیقی کے عظیم فنکاروں کے کاموں کو فروغ دیا جن میں یوھین سباشین باخ، لوڈوگ وان بیتھوون، اینٹن برکنر اور رچرڈ ویگنر شامل ہیں جبکہ فیلکس مینڈل سوھن اور گوسٹاف ماہلر جیسے "غیر آریائی" موسیقاروں کی تخلیقات پر پابندی عائد کر دی گئی۔

ایڈولف ہٹلر خود رچرڈ واگنر کے آپرا کا شیدائی تھا، یہ ایک ایسا فنکار تھا جسے طویل عرصے سے سام دشمنی اور اُن "واک" روایات کے ساتھ منسلک کیا جاتا تھا جو نازی نظریے کی بنیاد تھیں۔ وہ باقاعدگی کے ساتھ ویگنر کی یاد میں منعقد ہونے والے سالانہ بے ریوتھ تہواروں میں شرکت کرتا تھا۔ لیکن نازی موسیقی صرف اعلی ثقافت تک محدود نہيں تھی: "ڈاس ھورسٹ۔ ویسل۔ لائیڈ" ("ھورسٹ ویسل گانا") اور "ڈیوش لینڈ، ایرواکے" ("جرمنی، جاگو") جیسے گانے ان سینکڑوں گانوں اور مارچوں میں سے تھے جنہيں نازی کارکنوں نے نازی پارٹی اور اس کے نظریات سے لوگوں کی وفاداری برقرار رکھنے کیلئے استعمال کیا۔

جرمن فنون لطیفہ اور تصنیفات کو کنٹرول کرنے، اُنہیں ہدایات کے طابع کرنے اور سنسر کرنے کے سلسلے میں نازی حکام کی کوششوں کو قدیمی جرمن مؤرخ جارج موشے نے "مکمل ثقافت کی طرف" ایک کوشش کا نام دیا۔ یہ کوشش ثقافت کی اُن نچلی سطحوں تک بھی پہنچ گئی جو عام جرمنوں کی روزمرہ زندگیوں کا ایک حصہ تھی۔ نازی قیادت جو جرمنی پر سیاسی طاقت اور دہشت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دل اور دماغ جیت کر حکومت کرنا چاہتی تھی، اس نے اپنی اس مربوط ثقافتی حکمت عملی کو استعمال کرتے ہوئے اعلی اور نچلے طبقے کے شہریوں کی زندگیوں پر بنیادی سطح پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔