<p>سبکارپیتھئن رس سے یہودی جلاوطنی کی گاڑی سے اتر کر مقبوضہ پولینڈ میں آشوٹز۔برکیناؤ کی قتل گاہ کے ریمپ پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔ مئی 1944 </p>
<p> </p>

ہولوکاسٹ

 ہولوکاسٹ نازی حکومت اور اُس کے اتحادیوں کی طرف سے کم و بیش 60 لاکھ یہودیوں کے نہایت ہی منظم، ریاستی ایماء پر مبنی اور سرکاری سرپرستی میں ہونے والے ظلم و ستم اور قتلِ عام کا واقعہ ہے۔ نازی جتمنی میں جنوری 1933 میں برسر اقتدر آئے۔ اُن کا خیال تھا کہ جرمن ’’اعلیٰ ترین نسل‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ یہودی گھٹیا تھے اور  وہ نام نہاد جرمن نسلی کمیونٹی  کیلئے ایک خطرہ تھے۔

اہم حقائق

  • 1

    جرمنوں اور اُن کے حلیفوں نے ’’حتمی حل‘‘ کے ایک حصے کے طور پر 1945 تک یورپ کے ہر تین میں سے دو یہودیوں کو قتل کر دیا۔ ’’حتمی حل‘‘ یورپ کے یہودیوں کے قتل عام کیلئے نازی حکمت عملی تھا۔ 

  • 2

    ہولوکاسٹ کے دوران جرمن حکام نے دیگر گروپوں کو بھی ہدف بنایا جنہیں وہ نسلی اور حیاتیاتی اعتبار سے گھٹیہ تصور کرتے تھے۔ ان میں روما (خانہ بدوش)، معذوری کے شکار لوگ اور پولش اور سوویت شہریوں کے علاوہ سیاہ فام افراد شامل تھے۔

  • 3

    جرمن حکام نے دیگر گروپوں کو بھی سیاسی، نظریاتی اور کردار پر مبنی وجوہات پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ ان میں کمیونسٹ، سوشلسٹ، یہووا کے گواہان اور ہم جنس پرست شامل تھے۔

تعارف

ہولوکاسٹ - تصویریں ہولوکاسٹ نازی حکومت اور اُس کے اتحادیوں کی طرف سے کم و بیش 60 لاکھ یہودیوں کے نہایت ہی منظم، ریاستی ایماء پر مبنی اور سرکاری سرپرستی میں ہونے والے ظلم و ستم اور قتلِ عام کا واقعہ ہے۔ لفظ "ہولوکاسٹ"کا ماخذ دراصل یونانی زبان سے ہے جس کے معنی ہیں "آگ کے ذریعے قربانی"۔ جرمنی میں نازی جنوری 1933 میں اقتدار میں آئے۔ وہ اِس بات پر یقین رکھتے تھے کہ جرمن نسلی طور پر سب سے اعلیٰ و ارفعٰ قوم ہے جبکہ یہودی سب سے گھٹیا ہیں اور یوں وہ بیرونی طور پر نام نہاد جرمن نسلی برادری کیلئے خطرہ ہیں۔

ہولوکاسٹ کے دور میں جرمنوں نے کچھ دوسرے گروپوں کو بھی نسلی طور پر گھٹیا تصور کرتے ہوئے نشانہ بنایا جن میں روما خانہ بدوش، جسمانی طور پر معذور افراد اورسلاوک لوگوں میں سے کچھ شامل تھے جیسے پولش، روسی اور دیگر۔ کچھ دوسرے گروپوں پر سیاسی، نظریاتی اور مخصوص رویوں کی بنیاد پر ظلم روا رکھے گئے۔ اِن میں کمیونسٹ، سوشلسٹ، یہووا کے گواہان اور ہم جنس پرست لوگ شامل تھے۔

ہولوکاسٹ کیا تھا؟ 

1933 میں یورپ میں یہودیوں کی آبادی 90 لاکھ سے زائد تھی۔ یورپ کے بیشتر یہودی ایسے ملکوں میں رہتے تھے جن پر دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی نے یا تو قبضہ کر لیا یا پھر اُنہیں اپنے زیرِ اثر کر لیا۔ جرمنوں اور اُن کے اتحادیوں نے 1945 تک یورپ کے ہر تین میں سے تقریباً دو یہودیوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ اقدام یورپی یہودیوں کے قتلِ عام پر مبنی نازی پالیسی کا حصہ تھا جسے اُنہوں نے فائنل سولیوشن یعنی "حتمی حل" سے موسوم کیا تھا۔

 1933 میں یورپ میں یہودیوں کی آبادی 90 لاکھ سے زائد تھی۔ یورپ کے بیشتر یہودی ایسے ملکوں میں رہتے تھے جن پر دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی نے یا تو قبضہ کر لیا یا پھر اُنہیں اپنے زیرِ اثر کر لیا۔ جرمنوں اور اُن کے اتحادیوں نے 1945 تک یورپ کے ہر تین میں سے تقریباً دو یہودیوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ اقدام یورپی یہودیوں کے قتلِ عام پر مبنی نازی پالیسی کا حصہ تھا جسے اُنہوں نے فائنل سولیوشن یعنی "حتمی حل" سے موسوم کیا تھا۔ اگرچہ نازیوں نے یہودیوں کو جرمنی کیلئے سب سے بڑا خطرہ تصور کیا تھا اور وہ نازی نسلی امتیاز کا بنیادی نشانہ بنے مگر نشانہ بننے والے دوسرے افراد میں دو لاکھ کے لگ بھگ روما خانہ بدوش بھی تھے۔ جرمن نسل سے تعلق رکھنے والے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور کم از کم دو لاکھ افراد بھی جو اداروں کی طرز پر قائم مراکز میں رہائش پزیر تھے، یوتھینیسیا پروگرام یا "رحمدلانہ موت" کے نام پر ہلاک کردئے گئے۔

جیسے جیسے نازیوں کی بربریت یورپ میں پھیلتی گئی جرمنوں اور اُن کے اتحادیوں نے لاکھوں دیگر افراد کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا اور اُنہیں ہلاک کر دیا۔ بیس سے تیس لاکھ کے درمیان روسی جنگی قیدیوں کو بھی یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر وہ بھوک، بیماری، لاتوجہی اور بدسلوکی کے باعث ہلاک ہو گئے۔ جرمنوں نے پولینڈ کے غیر یہودی دانشوروں کو بھی قتل کیلئے ہدف بنایا اور لاکھوں پولش اور سویت شہریوں کو جرمنی اور مقبوضہ پولینڈ میں جبری مشقت کیلئے بھجوا دیا جہاں یہ افراد مشقت پر مامور کر دئے جاتے اور اکثر انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں یہ افراد مر جاتے۔

نازی تسلط کے ابتدائی دنوں سے ہی جرمن حکام ہم جنس پرست اور ایسے دوسرے افراد پر بھی ظلم کرتے جن کا کردار جرمنوں کی سماجی توقعات پر پورا نہیں اُترتا تھا۔ جرمن پولیس اہلکاروں نے ھزاروں سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنایا جن میں کمیونسٹ، سوشلسٹ اور مزدور یونینوں کے ارکان شامل تھے۔ اِن کے علاوہ ان میں یہووا کے گواہان جیسے مذہبی طور پر اختلاف رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔ اِن میں سے بہت سے افراد جیلوں میں بند کئے گئے اور بدسلوکی کے باعث ہلاک ہو گئے۔

حتمی حل‘‘ کا انتظام’’

نازی حکومت کے اوّلین برسوں کے دوران قومی سوشلسٹ حکومت نے جبری کیمپ قائم کئے جہاں خیالی اور حقیقی سیاسی و نظریاتی مخالفین کو قید رکھا جاتا۔ جنگ کے آغاز سے پہلے زیادہ تر ایس ایس اور پولیس اہکاروں نے یہودیوں، روما خانہ بدوشوں اور دوسرے افراد کو نسلی اور فرقہ وارانہ نفرت کی بنا پر اِن کیمپوں میں قید کر لیا۔ یہودی آبادی پر ظلم کرنے اور اُن کی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ بعد میں اُنہیں ڈی پورٹ کرنے کیلئے جرمنوں اور اُن کے اتحادیوں نے جنگ کے دوران مخصوص یہودی بستیاں یعنی گھیٹو، عارضی کیمپ اور جبری مشقت کے کیمپ قائم کئے۔ جرمن حکام نے نام نہاد عظیم تر جرمن سلطنت اور جرمن مقبوضہ علاقوں دونوں میں ایسے غیر یہودیوں کیلئے بھی بے شمار جبری کیمپ قائم کئے جن کی مشقت کا استحصال جرمن کرنا چاہتے تھے۔

 1941 میں سوویت یونین پر حملے کے بعد جرمن سیکیورٹی پولیس کے قاتل یونٹ آئن ستزگروپن اور سیکیورٹی سروس ذیخرہیٹس ڈینسٹ یا ایس۔ ڈی اور پھر بعد میں آرڈر پولیس اہلکاروں کی فوجی بٹالینیں یہودیوں، روما خانہ بدوشوں اور سوویت ریاست اور کمیونسٹ پارٹی کے اہلکاروں کے قتلِ عام کیلئے جرمن دستوں کے پیچھے پیچھے حرکت کرتی رہیں۔ جرمن ایس ایس اور پولیس کے یونٹوں نے ویہرماخٹ کے یونٹوں اور وافن ایس ایس کی مدد سے دس لاکھ سے زائد یہودی مردوں، عورتوں اور بچوں کے علاوہ لاکھوں دیگر افراد کو ہلاک کیا۔

1941 اور 1944 کے درمیان نازی جرمن حکام نے جرمنی، جرمن مقبوضہ علاقوں اور اپنے اتحادی ملکوں سے لاکھوں یہودیوں کو یہودی بستیوں یعنی گھیٹو اور خاتمہ کر دینے والے کیمپ کے نام سے موسوم قتل گاہوں میں پہنچا دیا جہاں اُنہیں خاص طور پر تیار کی گئی گیس تنصیبات کے ذریعے ہلاک کر دیا جاتا۔

قتل گاہوں کی جانب بڑے پیمانے پر جلاوطنیاں، 1942-1944

ہولوکاسٹ کا خاتمہ

جنگ کے آخری مہینوں میں ایس ایس گارڈ قیدیوں کو ریل گاڑیوں کے ذریعے یا پھر "موت کے مارچ" سے موسوم پیدل مارچ کے ذریعے دوسرے مقامات پر منتقل کرتے رہے تاکہ قیدیوں کی بڑی تعداد کو اتحادی فوجوں کی طرف سے آزاد کرائے جانے کے اقدام سے روکا جا سکے۔ جیسے جیسے اتحادی فوجیں جرمنوں کے خلاف حملوں کے دوران یورپ کے مختلف مقامات سے گذرتی رہیں اُنہیں جگہ جگہ جبری کیمپوں میں قید قیدی یا پھر ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ میں منتقل کرنے کی کوشش میں جبری پیدل مارچ کرتے ہوئے قیدی ملے جنہیں وہ آزاد کراتی گئیں۔ یہ پیدل جبری مارچ 7 مئی 1945 کے دن تک جاری رہے جب جرمن مسلح افواج نے اتحادی فوجوں کے سامنے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دئے۔ مغربی حلیفوں کیلئے دوسری جنگ عظیم اگلے روز یعنی 8 مئی کو باضابطہ طور پر ختم ہوگئی جسے اُنہوں نے فتح کا دن یا V-E Day سے موسوم کیا۔ سوویت فوجوں نے فتح کے دن کا اعلان 9 مئی 1945 کو کیا۔

ہولوکاسٹ کے بعد بہت سے بچ جانے والے لوگوں نے اتحادی طاقتوں کے زیر انتظام بے دخل افراف کے کیمپوں میں پناہ لی۔ 1948 اور 1951 تقریباً سات لاکھ یہودیوں نے اسرائیل ہجرت کرلی جن میں یورپ نے 136,000 بے دخل یہودی بھی شامل تھے۔ دیگر بے دخل ہونے والے یہودیوں نے امریکہ اور دیگر ممالک کا رخ کیا۔  بے دخل یہودیوں کے آخری کیمپ کو 1957 میں بند کر دیا گیا۔

ہولوکاسٹ کے دوران کئے جانے والے جرائم بیشتر یورپی یہودی کمیونیٹیز کو تباہ کر کے رکھ دیا اور مقبوضہ مشرقی یورپ کی سیکڑوں یہودی کمیونیٹیز کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا۔

  ہولوکاسٹ - شخصی کہانیاں/ذاتی تاریخ