<p>'ایک خطرناک جھوٹ: پروٹوکولز آف دی ایلڈرلی آف زائیون' کا آغاز اپریل 2006 میں امریکی ہالوکاسٹ میموریل میوزیم کے گونڈا تعلیمی مرکز میں  ہو گیا۔</p>

صیہونی زعماء اور راہنماؤں کے خفیہ اجلاسوں کی تفصیل

"اگر کبھی کوئی تحریر وسیع پیمانے پر نفرت پیدا کر سکتی ہے تو وہ یہی تحریر ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتاب جھوٹ اور تضحیک پر مبنی ہے۔" یہ بات نوبل انعام یافتہ ایلی ویزل نے کہی ہے۔

صیہونی زعماء کے خفیہ اجلاسوں کی تفصیل دور جدید میں سب سے زیادہ رسوا کن اوروسیع پیمانے پر تقسیم کی جانے والی یہود مخالف اشاعت ہے۔ یہ یہودیوں کے بارے میں جھوٹ کا پلندہ ہے اور اِس کی بار بار ملامت کی گئی ہے۔ تاہم اِس کے باوجود اِس کی اشاعت آج بھی جاری ہے اور خاص طور پر انٹرنیٹ پر اِس کی ترسیل مسلسل ہو رہی ہے۔ جن افراد اور گروہوں نے پروٹوکولز کو استعمال کیا ہے اُن سب کا مقصد ایک ہی ہے یعنی یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانا۔

پروٹوکولز مکمل طور پر ایک من گھڑت کہانی ہے جسے اِس ارادے کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے کہ یہودیوں کو کئی برائیوں کیلئے مورد الزام ٹھیرایا جائے۔ اسے تقسیم کرنے والے دعوٰی کرتے ہیں کہ یہ دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی یہودی سازش کی دستاویز ہے۔ یہ سازش اور اِس کے مبینہ راہنما یعنی صیہونی زعماء کا دراصل کوئی وجود ہی نہ تھا۔

ایک جھوٹ کی ابتدا

1903 میں پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف دا زائیون کے حصوں کو ایک روسی اخبار زنامیہ (دا بینر) میں سلسلہ وار شائع کیا گیا۔ پروٹوکولز کا جو متن مسلسل جاری رہا اور جس کا درجنوں دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوا وہ دراصل پہلی مرتبہ 1905 میں روس میں "دا گریٹ اِن دا سمال: دا کمنگ آف دا اینٹی۔ کرائیسٹ اینڈ دا رول آف سیٹن آن ارتھ" کے دیباچے کے طور پر چھپا جسے روسی مصنف اور تصوف پسند سرگی نائلس نے تحریر کیا۔

اگرچہ پروٹوکولز کی اصل ابتدا کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے تاہم اِس کا مقصد یہودیوں کو ریاست کے خلاف سازش کرنے والوں کے طور پر ثابت کرنا تھا۔ 24 اسباق یا پروٹوکولز مبینہ طور پر یہودی لیڈروں کی ملاقاتوں کی تفصیل ہے۔ پروٹوکولز میں دنیا پر حکمرانی کرنے کی غرض سے یہودیوں کے "خفیہ منصوبوں" کی تفصیل "بیان" کی گئی ہے۔ اِن کی رو سے دنیا پر حکمرانی کا مقصد معیشت کو چالاکی سے برتنے، ذرائع ابلاغ پر کنٹرول حاصل کرنے اور مذاہب کے درمیان تنازعات پیدا کرنے کے ذریعے حاصل کیا جانا تھا۔

1917 میں روسی انقلاب کے بعد بالشوک تحریک کے نقل مکانی کرنے والے مخالفین پروٹوکولز کو مغربی دنیا میں لائے۔ جلد ہی اِن کی جلدیں یورپ، امریکہ، جنوبی امریکہ اور جاپان میں پھیل گئیں۔ پروٹوکولز کا عربی زبان میں ترجمہ 1920 کی دہائی میں سامنے آیا۔

کلیدی کار ساز شخصیت ہینری فورڈ کے اخبار "دا ڈیربورن انڈیپنڈنٹ" نے 1920 میں پروٹوکولز کے چند حصوں پر مشتمل مضامین کا سلسلہ چھاپنا شروع کیا۔ مضامین کا سلسلہ "دی انٹرنیشنل جیو" نامی کتاب میں شامل کیا گیا۔ اِس کتاب کا کم سے کم 16 زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ ایڈولف ہٹلر اور بعد میں پراپیگنڈے کے نازی وزیر بننے والے جوزف گوئبیلز دونوں نے فورڈ اور "دی انٹرنیشنل جیو" کی تعریف کی۔

فراڈ ظاہر ہو گیا

1921 میں لندن ٹائمز نے ایک جامع ثبوت پیش کیا کہ پروٹوکولز ایک فضول سا "چربہ" ہے۔ دا ٹائمز نے تصدیق کی کہ پروٹوکولز کے بڑے حصے کو فرانس کی ایک ساسی طنزیہ تحریر سے لیا گیا ہے لیکن اُس میں یہودیوں کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ یہ فرانسیسی طنزیہ تحریر موریس جولی کی کتاب "میکاولی اور مانٹیسکیوئی کے درمیان دوزخ میں مکالمہ" (1864) تھی۔ دوسری تحقیق سے معلوم ہوا کہ ہرمین گوئڈشے کے لکھے ہوئے پرشین ناول بیارٹز (1968) کے ایک باب نے بھی پروٹوکولز کی تخلیق کیلئے "تحریک" فراہم کی۔

نازی دور

نازی پارٹی کے نظریہ ساز ایلفریڈ روزن برگ نے 1920 کی دہائی کے دوران ہٹلر کو اُس وقت پروٹوکولز سے روشناس کرایا جب وہ اپنے عالمی نظرئیے کی تشکیل میں تھا۔ ہٹلر نے اپنی اولین تقاریر میں سے کچھ میں پروٹوکولز کا حوالہ دیا اور اپنے تمامتر کیریر کے دوران اِس تصور سے بھرپور فائدہ اُٹھایا کہ "یہودی بالشوک" دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے سازش کر رہے ہیں۔

1920 اور 1930 کے عشروں کے دوران "صیہونی زعماء کے خفیہ اجلاسوں کی تفصیل" نے نازی پراپیگنڈے میں اہم کردار ادا کیا۔ نازی پارٹی نے 1919 اور 1939 کے دوران پروٹوکولز کے کم از کم 23 ایڈیشن شائع کئے۔ 1933 میں نازیوں کے برسراقتدار آنے کے بعد کچھ اسکولوں نے طلبا کو نظریاتی تعلیم دینے کیلئے پروٹوکولز کو استعمال کیا۔

فراڈ ظاہر ہو گیا

1935 میں ایک سوئس عدالت نے دو نازی لیڈروں پر برن، سوٹزرلینڈ میں پروٹوکولز کا جرمن زبان میں ایڈیشن تقسیم کرنے پر جرمانہ عائد کیا۔ مقدمے کی صدارت کرنے والے جج نے اعلان کیا کہ پروٹوکولز "گمراہ کن"، واضح طور پر "جعلی" اور "مضحکہ خیز حماقت" ہیں۔

امریکی سنیٹ نے 1964 میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ پروٹوکولز "من گھڑت" ہیں۔ سنیٹ نے پروٹوکولز کے مشتملات کو فضول قرار دیا اور اُن لوگوں پر نقطہ چینی کی جنہوں نے ہٹلر کی طرح پراپیگنڈا تکنیک کے ذریعے پروٹوکولز کو استعمال کیا۔

1993 میں روس کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست تنظیم پامیات نے پروٹوکولز شائع کر کے یہود مخالف کارروائی کا ارتکاب کیا ہے۔

پروٹوکولز کو بار بار فراڈ قرار دئے جانے کے باوجود یہ گذشتہ ایک سو برس میں سب سے زیادہ مؤثر یہود مخالف تحریر رہی ہے اور یہود مخالف افراد اور گروپوں کو مسلسل متاثر کرتی آ رہی ہے۔

دور جدید میں پروٹوکولز

امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ "عالمی یہود دشمنی سے متعلق رپورٹ" (2004) کے مطابق "(پروٹوکولز) کا واضح مقصد یہودیوں اور اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلانا ہے"۔

امریکہ اور یورپ میں جدید دور کے نازی، سفید فام انتہا پسند اور ہالوکاسٹ سے انکار کرنے والے پروٹوکولز کی توثیق کرتے ہیں اور اِس کی تقسیم کرتے ہیں۔ پروٹوکولز پر مبنی کتابیں دنیا بھر میں دستیاب ہیں۔ اِن میں جاپان جیسے ممالک بھی شامل ہیں جہاں یہودی موجود ہی نہیں ہیں۔

تمام ترعرب اور اسلامی دنیا میں بیشتر اسکولوں میں پروٹوکولز کو حقائق کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ ان گنت سیاسی تقریریں، اداریے حتٰی کہ بچوں کے کارٹون تک پروٹوکولز سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ 2002 میں مصر کی حکومت کے زیر کنٹرول ٹیلی ویژن نے پروٹوکولز پر مبنی سلسلے وار پروگرام پیش کئے جس کی امریکی محکمہ خارجہ نے مذمت کی تھی۔ فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیلی شہریوں کے خلاف اپنی دہشت گردی کے جواز کیلئے پروٹوکولز سے ایک حصہ لیا ہے۔

انٹرنیٹ پر پروٹوکولز تک رسائی میں ڈرامائی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ بیشتر ویب سائٹس پر پروٹوکولز کو ایک فراڈ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاہم انٹرنیٹ نے یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی خاطر پروٹوکولز کے استعمال کو آسان کر دیا ہے۔ آج انٹرنیٹ پر معمول کی ایک سرچ کے نتیجے میں لاکھوں ایسی ویب سائٹس سامنے آتی ہیں جو پروٹوکولز کو فروخت کرتی ہیں، اِس پر بحث پیش کرتی ہیں یا پھر اِسے فراڈ کے طور پر بے نقاب کرتی ہیں۔