شمالی افریقہ میں فوجی کارروائیاں

دوسری عالمی جنگ کے دوران شمالی افریقہ میں فوجی کارروائیاں 13 ستمبر 1940 اور 13 مئی 1943 کے درمیان کی گئیں۔ یہ کارروائیاں مغربی اتحادیوں اور حلیف قوتوں دونوں کیلئے حساس نوعیت کی اہمیت رکھتی تھیں۔ حلیف طاقتوں کی کوشش تھی کہ وہ اتحادیوں کیلئے مشرقِ وسطٰی سے تیل کی سپلائی منقطع کردیں، حلیف طاقتوں کی اُس تیل تک رسائی بڑھائیں اور برطانیہ کو ایشیا اور افریقہ میں پھیلی اپنی سلطنت سے مادی اور انسانی وسائل سے یکسر کاٹ کر رکھ دیں۔

مزید براں 1940 کے موسم بہار کے دوران مغربی یورپ میں ذلت آمیز شکست کے بعد شمالی افریقہ کی مہم نے اتحادی فوجوں کو یہ موقع دیا کہ وہ حلیف قوتوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھولیں۔ پھر جون 1941 میں سوویت یونین پر جرمن حملے کے بعد وہ مشرقی محاذ پر جرمن دباؤ کو کم کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

شمالی افریقہ کی مہم کے تین حصے تھے یعنی مغربی صحرا کی مہم (مغربی مصر اور مشرقی لیبیا)، آپریشن ٹارچ (الجزائر اور مراکش) اور تیونس کی مہم۔

شمالی افریقہ کی تمام تر مہم کے دوران جرمنی اور اٹلی کو 620,000 اموات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ برطانوی دولتِ مشترکہ کو 220,000 جانوں کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ صرف تیونس میں امریکی اموات کی تعداد 18,500 سے زائد تھی۔ شمالی افریقہ میں اتحادی فوجوں کی فتح کے نتیجے میں جرمنی اور اٹلی کے 9 لاکھ فوجی یا تو مارے گئے یا پھر ناکارہ ہو گئے۔ اِس فتح کے بعد اتحادیوں نے حلیف قوتوں کے خلاف دوسرا محاذ کھول دیا، اُنہوں نے 1943 کے موسم گرما میں سسلی اور اٹلی کے بنیادی علاقے پر حملوں کی اجازت دے دی اور مشرق وسطٰی کے تیل کے ذخائر اور ایشیا اور افریقہ سے برطانیہ کی سپلائی کے ذرائع کیلئے حلیف قوتوں کی طرف سے خطرات کو دور کر دیا۔ یہ اقدامات دوسری عالمی جنگ کے دوران انتہائی اہمیت کے حامل رہے۔

مصر، لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش < P>1940 میں شمالی افریقہ کے پانچوں علاقوں یعنی مصر، لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش میں سے ہر ایک کو یورپی طاقتوں کے ماتحت نوآبادیاتی اور نیم نوآبادیاتی حیثیت حاصل تھی۔ برطانیہ نے 1914 میں مصر کو اپنی ماتحت ریاست بنا لیا۔ 1922 میں سلطان فواد کے دور میں مصر کو برائے نام خود مختاری دینے کے باوجود برطانیہ نے مصر کی خارجہ پالیسی اور دفاعی امور پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔ برطانیہ نے نہر سویز کے کناروں پر بھی قبضہ کر لیا۔ مصر پر برطانوی کنٹرول کی تجدید 1936 کے اینگلو ایجپشن معاہدے کے تحت کی گئی۔ اٹلی نے 1911 میں سائرینیکا، ٹریپولیٹانیہ اور فیزن کے صوبوں کو ترکوں سے چھین لیا اور 1934 میں ان تینوں کو یکجا کر کے لیبیا کی متحد کالونی سے موسوم کر دیا۔

فرانس نے 1881 میں تیونس کو باقاعدہ طور پر اپنے ماتحت علاقے کا درجہ دے دیا تھا۔ تیونس کے حکمران کی نگرانی ایک فرانسیسی ریذیڈنٹ جنرل کے سپرد تھی۔ مراکش پر ایک سلطان کی حکمرانی تھی مگر 1912 کے فیز معاہدے کے تحت یہ بھی فرانسیسی ماتحت علاقہ قرار دے دیا گیا۔ تیونس کی طرح یہاں بھی ایک فرانسیسی ریذیڈنٹ جنرل کو سلطان اور اُن کی انتظامیہ کی نگرانی پر معمور کر دیا گیا۔ فرانس نے 1830 میں الجزائر کو فتح کرنے کا آغاز کر دیا۔ 1940 تک الجزائر کو باقاعدہ طور پر فرانس کا حصہ بنا لیا گیا جہاں کی حکمرانی کیلئے ایک گورنر جنرل کا تقرر کیا گیا۔ فرانس کی شکست اور 1940 میں وکی حکومت کے قیام کے ساتھ شمالی افریقہ کی فرانسیسی کالونیاں وکی کنٹرول میں چلی گئیں۔