سائنس بطور نجات: وائمر یوجینکس، 1919 - 1933

  • Twitter
  • Facebook
  • حوالہ دیں
  • پرنٹ کریں
  • اُردو

    یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

پہلی عالمی جنگ میں جرمنی کی شکست اور اس کے نتیجے میں وائمر جمہوریہ کے سیاسی اور معاشی بحرانوں کے دوران نسلی صفائی اور یوجینکس نامی خیالات آبادی کی پالیسی، عوامی صحت کی تعلیم اور سرکاری تحقیق میں استعمال ہونا شروع ہو گئیں۔ "غیر صحتمند" افراد کو آبادی میں اضافے کی خاطر زندہ رکھنے کے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے یوجینکس کے حامیوں کا کہنا تھا کہ جدید دوائیں اور ویلفیر کے پروگراموں کی خطیر لاگت سے قدرتی انتخاب کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ یہ تصور ڈارون کے "موذوں ترین افراد کی بقا" کے نظرئیے کے عین مطابق ہے جو اُس نے جانوروں اور پودوں کے حوالے سے پیش کیا تھا۔ علاوہ اذیں "موذوں" تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد دیر سے شادی کرتے تھے اور اپنے خاندان کو چھوٹا رکھنے کے لئے خاندانی منصوبہ بندی کرتے تھے۔ یوجینکس کی وکالت کرنے والوں کے مطابق اس کے نتیجے میں آبادی کی مجموعی حیاتیاتی زوال پذیری واقع ہورہی تھی۔ انہوں نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ حکومت کو دو طرح کی پالیسیاں اپنانی چاہئیں: مثبت پالیسیاں مثلاً بڑے، "قیمتی" خاندانوں کو پروان چڑھانے کے لئے ٹیکس کریڈٹ دینا اور منفی پالیسیاں مثلاً نسلی طور پر کمتر افراد کی نس بندی کرنا۔

جرمنی میں یوجینکس کے حامیوں میں ڈاکٹر، صحت کے سرکاری افسران اور بائیو میڈیکل شعبے سے تعلق رکھنے والے سیاسی طور پر بائیں اور دائیں بازو کے نظریات کے حامل ماہرین شامل تھے۔ حکومت کی قائم کردہ کمیٹیوں میں کام کرتے ہوئے یوجینکس پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر قوم نے صحت یاب بچے پیدا نہیں کئے تو نسل انسانی ناپید ہو جائے گی۔ ایک بڑھتے ہوئے گروپ نے یوجینکس اور نسلوں کو آپس میں منسلک کرتے ہوئے لمبے سر اور گوری چمڑی والی نارڈک قوم کے "نسلی اعتبار سے سودمند" ہونے کے تصور کو فروغ دیا اور "نسلوں کے امتزاج" کو حیاتیاتی زوال پذیری کا ذریعہ بتایا۔ یوجینکس سے تعلق رکھنے والے خیالات کو 1920 کی دہائی میں پروان چڑھنے والی نازي پارٹی کے نظریے کا حصہ بنا لیا گیا۔

"اگر کوئی تصور کرے . . ایک میدان جنگ جس میں ہزاروں مردہ نوجوان ہوں ۔۔۔ اور پھر بے وقوقوں کے لئے ہمارے ادارے اور ان کی دیکھ بھال ۔۔۔ یہ سن کر بہت دھچکا لگتا ہے . . . کہ بہترین انسانوں کی قربانیاں دی جارہی ہیں جب کہ منفی قیمت رکھنے والی زندگیوں پر بہترین دیکھ بھال ضائع کی جارہی ہے۔

کارل بائینڈنگ اور ایلگریڈ ھوچ، زندہ رہنے کیلئے نااہل زندگی کی تقسیم کا اختیار، لائیپ زگ، 1920

بین الاقوامی یوجینکس
یوجینکس کی حمایت کرنے والے جرمن بین الاقوامی تحریک کا ایک حصہ تھے۔ برطانوی سائنسدان فرانسس گالٹن نے 1883 میں یوجینکس کی اصطلاح وضح کی تھی جس کے معنی "اچھی پیدائش" کے تھے۔ حیاتیات کے جرمن ماہراوگسٹ وائزمین کے 1892 میں شائع کردہ نظریے "اممیوٹیبل جرم پلازم" نے یوجینکس کے لئے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حمایت کو پروان چڑھایا۔ یہی سب کچھ 1900 میں آسٹریا کے ماہر نباتات گریگر مینڈل کے اس نظریئے کی دوبارہ دریافت کی وجہ سے بھی ہوا کہ عضویوں کی حیاتیاتی شکل و صورت اُن "عناصر" کی مرہون منت ہے جنہیں بعد میں جین کہا گیا (جین کی اصطلاح سب سے پہلے ڈنمارک کے ایک سائینسدان نے 1909 میں استعمال کی)۔

دنیا بھر میں نسلیاتی اصلاحات کے حامیوں نے شہروں میں تبدیل ہونے والے اور صنعتی ترقی حاصل کرنے والے معاشروں کو درپیش سماجی مسائل کے لئے حیاتیاتی حل پیش کئے۔ اس دور کے سائنسی طریقے – مشاہدے، خاندانوں کے سلسلہ نصب، جسمانی پیمائشیں اور ذہانت کی جانچ – استعمال کرکے افراد کو مختلف گروپوں میں تقسیم کرنے کے بعد انہیں "برترین" سے "کم ترین" گروپوں میں ترتیب دیا گیا۔ بہترین معیار حاصل کر لینے کے بعد آپریشن کے ذریعے نس بندی کرنا لاحاصل کم تر افراد کو بچے پیدا کرنے سے روکنے اور خاص دیکھ بھال اور تعلیم کے اخراجات بچانے کا سب سے عام حل قرار دیا گیا۔ لیکن جبری نس بندی کو صرف محدود سیاسی تعاون ہی حاصل ہوا۔ کیتھلک لوگوں نے انسانی تولید کے ساتھ ایسی مداخلت پر اعتراض کیا اور لبرل افراد نے انفرادی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے آواز بلند کی۔ 1933 سے قبل جیلوں اور سرکاری دماغی ہسپتالوں میں رہنے والے افراد کے رضاکارانہ طور پر نس بندی کرانے کے عمل کو قانونی بنانے کے قوانین صرف ڈنمارک میں ہی سیاسی طور پر قابل عمل ثابت ہوئے۔ لیکن ڈنمارک میں بھی اس کا استعمال کم ہی کیا جاتا تھا۔ یوجینکس کے ماہرین نے کینیڈا، سوئٹزرلینڈ اور ریاستہائے متحدہ امریکا کی ریاستوں، کینٹن یا صوبوں میں نس بندی کرنے کے قوانین کو زيادہ کامیابی کے ساتھ فروغ دیا۔