پہلی جنگ عظیم: معاہدے اور تاوان جنگ

پہلی جنگ عظیم کے بعد فاتح مغربی قوتوں نے شکست پانے والے ممالک پر کئی سخت معاہدے مسلط کردئے۔ ان معاہدوں کے تحت مرکزی قوتوں (جرمنی اور آسٹریا-ہنگری کے ساتھ ساتھ سلطنت عثمانیہ ترکی اور بلغاریہ) سے وسیع علاقے چھین لئے گئے اور بھاری بھرکم تاوان جنگ مسلط کر دئے گئے۔

اس سے پہلے شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ یورپ کے نقشے کی بنیادیں اس طرح ہل گئی ہوں۔ جنگ کے بعد جرمنی، آسٹرو ہنگیرین، روسی اور سلطنت عثمانیہ کا وجود ہی ختم ہو گیا۔ 10 ستمبر 1919 کو سینٹ۔جرمین۔این۔لائے کے معاہدے کے تحت جمہوریہ آسٹریہ قائم ہوئی، جس میں بیشتر علیحدہ ہونے والے ہیبسبرگ کی ریاستوں کے جرمن زبان بولنے والے علاقے شامل تھے۔ آسٹرین سلطنت نے 1929 میں چیکوسلواکیہ، پولینڈ اور کنگ ڈم آف سلوینز، کرویٹ اور سرب، جسے یوگوسلاویہ کا نام دیا گيا تھا، جیسی نئی قائم ہونے والی ریاستوں کو زمینیں دے دیں۔ اٹلی کو جنوبی ٹائرول، ٹریسٹ، ٹرینٹینو اور آسٹریہ اور رومانیہ کو بوکووینا دے دیا گيا۔ اس معاہدے کے اہم نقطے کے تحت آسٹریہ کے لئے اپنی نئی آزادی پر سمجھوتہ کرنے پر پابندی عائد ہوگئی۔ اس پابندی کی وجہ سے جرمنی کے ساتھ اتحاد پر پابندی عائد ہوگئی، جو"پین جرمنسٹ" اور آسٹریہ میں پیدا ہونے والے ایڈولف ہٹلر اور اس کی قومی سوشلٹ (نازی) پارٹی کی خواہشات کے برخلاف تھا۔

ہنگری نے بھی، جو دوہری بادشاہت کا دوسرا حصہ تھا، آزادی حاصل کر لی: ٹریانن کے معاہدے (نومبر 1920) کی شرائط کے تحت ہنگری نے رومانیہ کو ٹرانسیلوینیا، نئی ریاست چیکوسلواکیہ کو سلواکیہ اور ٹرانس کارپیتھین روس؛ اور مستقبل میں قائم ہونے والے یوگوسلاویہ کو ہنگری کی دوسری زمینیں دے دیں۔ عثمانیہ سلطنت نے 10 اگست 1920 کو سیوریس کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد حامیوں کے ساتھ دشمنیاں ختم کر لیں؛ لیکن اس کے کچھ عرصے بعد ہی ترکی میں جنگ آزادی شروع ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی نئی جمہوریہ ترکی نے 1923 میں سبقت لے جانے والے لوسین کے معاہدے پر دستخط کے ذریعے سابقہ سلطنت عثمانیہ کو تقسیم کرلیا۔

جنوری 1918 میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام سے تقریبا دس ماہ قبل امریکی صدر ووڈرو ولسن نے جنگ کے تجویز کردہ اہداف کی فہرست تیار کی تھی، جسے انہوں نے "چودہ نقاط" کا نام دیا تھا۔ ان میں سے آٹھ نقاط خصوصی طور پر اینٹینٹ قوتوں کی فتح سے وابستہ علاقائی اور سیاسی تصفیوں سے تعلق رکھتے تھے، جس میں یورپ کی نسلی آبادیوں کے لئے قومی خود مختاری شامل تھی۔ باقی اصول مستقبل میں جنگ کی روک تھام پر مرکوز تھے، ان میں سے آخری نقطے میں آئيندہ بین الاقوامی تنازعات کی ثالثی کے لئے لیگ آف نیشن کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ولسن کو امید تھی کہ اس تجویز کے ذریعے منصفانہ اور دیرا امن قائم ہو گا، جو ان کے بقول "تمام جنگوں کو ختم کرنے والی جنگ" کے اختتام کے لئے "فتح کے بغیر قائم ہونے والے امن" کا کردار کرنے والا تھا۔

صلح پر دستخط کرنے والے کئی جرمن لیڈر یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ چودہ نقاط مستقبل میں تیار ہونے والے امن کے معاہدے کی بنیاد ہوں گے، لیکن جب امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی کی حکومتوں کے سربراہان پیرس میں معاہدے کی شرائط پر مذاکرات کرنے کے لئے مل بیٹھے تو معلوم ہوا کہ "عظیم چار" پر مشتمل یورپی گروپ کا کچھ اور ہی منصوبہ تھا۔ یورپی حامیوں نے جرمنی کو تصادم کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے شکست خوردہ جرمنی پر خصوصی طور پر سنگین شرائط مسلط کردیں۔

7 مئی 1919 کو جرمن سربراہان کو پیش ہونے والے ورسیلز کے معاہدے کے تحت جرمنی کو بیلجیم (یوپن-مالمیڈی)، چیکوسلواکیہ (ہلٹشین ضلع) اور پولینڈ (پوزنین، مشرقی پرشیا اور اپر سائلیسیا) کو اپنے علاقہ جات دینے پڑے۔ 1871 میں فرانکو پرشن جنگ کے بعد حاصل ہونے والے الساشے اور لورین فرانس کے پاس واپس چلے گئے۔ جرمنی کی سمندر پار تمام کالونیں لیگ آف نیشنز کی نگرانی کے تحت آ گئيں، اور شہر ڈينزگ، جس میں کثیر تعداد میں جرمن نژاد افراد رہائش پذیر تھے، آزاد ہوگیا. اس معاہدے میں رہائن لینڈ کو اسلحے سے پاک کرنے اور اس کے قبضے اور فرانسیسی کنٹرول کے تحت خصوصی حیثیت کا مطالبہ کیا گیا؛ ڈینیش اور جرمن سرحد پر شمالی شلیسوگ اور اپر سائلیسیا کے علاقوں کے مستقبل کا تعین ووٹوں کے ذریعے ہونا تھا۔

شکست خوردہ جرمنی کے لئے معاہدے کی سب سے شرمناک شق، شق 231، تھی، جسے "جنگ کے لئے ذمہ داری کی شق" کا نام دیا گيا تھا۔ اس کے تحت جرمنی کو پہلی جنگ ‏عظیم کے لئے مکمل ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہوگیا۔ اس طرح جرمنی پر تمام مالی نقصانات کی ذمہ داری عائد ہو گئی، اور فرانس کے صدر جورجس کلیمینسیو نے خاص طور پر بھاری بھرکم تاوان مسلط کرنے پر زور دیا تھا۔ کلیمنساؤ اس بات سے باخبر تھے کہ جرمنی اس قرض کا بوجھ نہيں اٹھا سکے گا، لیکن اس کے باوجود جرمنی کی جلد بحالی اور فرانس کے خلاف نئی جنگ کا خوف تھا۔ اس وجہ سے فرانسیسوں نے بعد از جنگ معاہدے کے نظام کے تحت جرمنی کو دوبارہ معاشی برتری حاصل کرنے اور اپنے آپ کو جنگی سامان سے آراستہ کرنے سے روکنا چاہا۔

جرمنی کی فوج کو 100،000 آدمیوں تک محدود کردیا گيا اور نئے فوجی بھرتی کرنے پر پابندی عائد ہوگئی۔ معاہدے کے تحت بحری افواج کو 100،000 ٹن سے زیادہ گنجائش کے جہاز رکھنے پر پابندی لگ گئی اور آبدوز جہاز کے حصول یا برقرار رکھنے پر پابندی عائد ہوگئی۔ نیز، جرمنی کے فضائی فوج برقرار رکھنے پر بھی ممانعت عائد ہوگئی۔ جرمنی کے لئے جارحانہ جنگ شروع کرنے کے لئے قیصر اور دوسرے لیڈران کے خلاف جنگی جرائم کی کارروائی شروع کرنا ضروری ہوگیا۔ لیپزگ ٹرائل میں قیصر یا دوسرے اہم قومی لیڈران کو کٹہرے میں کھڑا نہيں کیا گيا، جس کی وجہ سے زیادہ تر کو بری کر دیا گيا، اور اسے محض دکھاوا قرار دے دیا گیا، حتی کہ جرمنی میں بھی۔

نئی جرمن جمہوری حکومت کی نظر میں ورسیلز کا معاہدہ ایک "جرمنی کا امن" تھا۔ باوجود اس کے کہ فرانس نے، جسے "عظیم چار" میں شامل دوسرے فریقین سے زيادہ نقصان اٹھانا پڑا، سخت شرائط پر زور دیا تھا، اس امن کے معاہدے سے پہلی جنگ عظیم کا سبب بننے والے بین الاقوامی تنازعات حل کرنے میں مدد حاصل نہيں ہو سکی۔ بلکہ اس سے یورپی ممالک کے درمیان تعاون میں رکاوٹیں ییش آئيں اور جنگ کا سبب بننے والے مسائل مزيد بڑھتے گئے۔ دونوں طرف جنگی قربانیاں اور مالی نقصانات نہ صرف شکست خوردہ فریقین کے لئے، بلکہ اٹلی کی طرح فاتحین کے لئے بھی پریشانی کا باعث رہیں، جن کے حصے میں آنے والا مال غنیمت جانی اور مالی نقصانات کے مقابلے میں کم تھا۔

شکست خوردہ ممالک - جرمنی، آسٹریا، ہنگری اور بلغاریہ - کے لئے امن کے معاہدے ایک غیرمنصفانہ سزا سے کم نہيں تھے۔ ان کی حکومتوں نے، چاہے وہ جرمنی یا آسٹریا کی طرح جمہوریت، ہنگری اور بعض اوقات بلغاریہ میں آمریت کی شکل میں تھیں، جلد ہی معاہدوں کی جنگی اور مالی شرائط کی خلاف ورزی کرنا شروع کردی۔ امن کی پریشان کن شقوں کی ترمیم اور خلاف ورزی خارجہ پالیسیوں کا اہم حصہ بن گئيں، اور بین الاقوامی سیاست میں عدم استحکام میں مرکزی کردار ادا کرنے لگیں۔ مثال کے طور پر، جنگ کی ذمہ داری کی شق، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تاوان کی ادائيگیاں اور جرمن فوج پر پابندیاں بیشتر جرمنوں کے لئے ناقابل برداشت تھیں۔ ورسیلز کے معاہدے کی ترمیم ایک ایسا نقطہ ثابت ہوا جس کی وجہ سے جرمنی میں بنیاد پرست قدامت پسند پارٹیوں کو، جس میں ہٹلر کی نازی پارٹی بھی شامل تھی، 1920 اور 1930 کی دہائیوں کے شروع میں ووٹروں کی نظر میں قابل اعتبار ظاہر کیا گیا۔

دوبارہ اسلحے سے آراستہ کرنے، جرمن علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے، رہائن لینڈ کو دوبارہ جنگ کے قابل بنانے اور اس شرمناک شکست اور امن کے بعد یورپی اور عالمی قوتوں کے سامنے دوبارہ اہمیت حاصل کرنے کے وعدوں نے قومیت کے جذبوں کو ہوا دی جس کی وجہ سے اوسط ووٹر نازی نظریے کے بنیاد پرست اصولوں کو نظر انداز کرتے رہے۔