<p>یہودیوں کو فرینکفرٹ ایم مین کے قریبی مقام ھینو سے تھیریسئن شٹٹ گھیٹو میں جلا وطن کیا جا رہا ہے۔ ھینو، جرمنی، 30 مئي، 1942۔</p>

تھیریسئن شٹٹ

تھیریسئن شٹٹ کیمپ کی یہودی بستی 24 نومبر 1941 سے 9 مئی 1945 کے درمیان ساڑھے تین برس تک قائم رہی۔ اس کے قیام کے دوران تھیریسئن شٹٹ کے تین مقاصد تھے:

1۔ پہلے تھیریسئن شٹٹ ان چیک یہودیوں کے لئے ٹرانزٹ کیمپ کے طور پر استعمال کیا گیا جنہیں جرمنوں نے جلاوطن کر کے مقبوضہ پولینڈ، بیلاروس اور بالٹک ریاستوں میں قتل کے مراکز، حراستی کیمپوں اور جبری مزدوری کے کیمپوں میں بھیج دیا۔

2- دوسرے یہ ایک یہودی بستی کا مزدور کیمپ تھا جہاں ایس ایس اہلکار جرمن، آسٹرین اور چیک یہودیوں کے بعض گروپوں کو اُن کی عمر، اُن کی سابقہ فوجی ملازمت کے نتیجے میں ہونے والی معذوری یا پھر فنون اور دیگر ثقافتی زندگی کی بنیاد پر جلاوطن کر کے زیر حراست رکھتے تھے۔ عظیم تر جرمن سلطنت سے جلا وطن کئے جانے والے یہودیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو خفیہ رکھنے یا اُن کے بارے مین دنیا کو گمراہ کرنے کی خاطر نازی حکومت نے جرمنی کے اندر یہ فرضی کہانی بیان کی کہ جلا وطن کئے جانے والے یہودیوں کو مشرقی علاقوں کے پیداواری کارخانوں میں مزدوری کیلئے لایا گیا ہے۔ چونکہ عمر رسیدہ یہودیوں کو مشقت کیلئے استعمال کرنا محال سمجھا جاتا تھا، اسلئے نازیوں نے جلاوطنیوں کی نوعیت کو چھپانے کیلئے تھیریسئن شٹٹ کو استعمال کیا۔

3 تیسرے، تھیریسئن شٹٹ مذکورہ بالا گروپوں سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کے لئے ایک عارضی جگہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہاں موجود انتہائی خراب حالات جلاوطن ہونے والے بہت سے افراد کی موت کا سبب بنیں گے اور زندہ بچ جانے والوں کو ایس ایس اور پولیس مشرقی علاقوں میں موجود قتل کے مراکز میں لے جاتے۔

تھیریسئن شٹٹ نہ تو ایک یہودی بستی تھا اور نہ ہی حراستی مرکز۔ یہ ایک لحاظ سے آبادکاری کا مرکز، اسمبلی کیمپ اور حراستی کیمپ کے طور پر کام کرتا تھا۔ دھوکہ اور فریب دینے کے مقصد کیلئے تھیریسئن شٹٹ ایک منفرد تنصیب تھی۔

نازیوں کا فریب

تھیریرسئن شٹٹ جرمنوں کے لئے ایک اہم پراپیگینڈے کا مقصد پورا کرتا تھا۔ جرمنی سے یہودیوں کی جلاوطنی کی وجہ سرکاری طور پر "مشرق میں دوبارہ آبادکاری" بتائی جاتی تھی جہاں انہيں جبری مزدوری کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا تھا۔ یہ بہت ناممکن سی بات تھی کہ عمر رسیدہ یہودیوں کو جبری مزدوری کے لئے استعمال کیا جا سکتا تھا، نازیوں نے جلاوطنی کی نوعیت چھپانے کے لئے تھیریسئن شٹٹ کو استعمال کیا۔ نازی پراپیگینڈے میں تھیریسئن شٹٹ کو طنزیہ انداز میں ایک "اسپا ٹاؤن" بتایا جاتا تھا، جہاں بوڑھے جرمن یہودی سکون و سلامتی کے ساتھ ریٹائرمنٹ کی زندگی گذار سکتے تھے۔ تاہم تھیریسئن شٹٹ جلاوطنی نازی دھوکہ دہی کی حکمت عملی کا حصہ تھی۔ یہودی بستی اصل میں مقبوضہ مشرقی یورپ میں یہودی بستیوں اور قتل کے مراکز کی طرف جلاوطنی کے لئے یہودیوں کو جمع کرنے کا مرکز تھا۔

تھیریسئن شٹٹ کی جانب ڈینش یہودیوں کی جلاوطنی کے بعد دباؤ کی وجہ سے جرمنوں نے جون 1944 میں بین الاقوامی ریڈ کراس کو ان علاقوں کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ بھی ایک وسیع و عریض قسم کا دھوکہ تھا۔ جرمنوں نے ریڈ کراس کے دورے سے کچھ ہی پہلے لوگوں کے یہودی بستی سے جلا وطن کرنا شروع کر دیا اور خود یہودی بستی کی تزئین و آرائش کر دی گئی۔ باغات لگائے گئے، گھروں کو رنگ کیا گیا اور بیرکوں کو بیتر بنایا گیا۔ نازیوں نے دورہ کرنے مہمانوں کیلئے سماجی اور ثقافتی تقریبات منعقد کیں۔ دورہ ختم ہو جانے کے بعد جرمنوں نے تھیریسئن شٹٹ سے جلاوطنیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جو اکتوبر 1944 تک چلتا رہا۔

تھیریسئن شٹٹ سے جلاوطنیاں

1942 کے آغاز سے ایس ایس حکام نے یہودیوں کو تھیریسئن شٹٹ سے جلاوطن کر کے مقبوضہ مشرقی یورپ میں دوسری یہودی بستیوں، حراستی مراکز اور قتل گاہوں میں بھیجا۔ جرمن حکام نے یا تو ریگا، وارسا، لوڈز، منسک اور بیالسٹاک میں قائم یہودی بستیوں میں پہنچنے کے فوراً بعد یہودیوں کو قتل کر دیا یا انہيں وہاں سے بھی جلاوطن کر کے قتل کے مراکز میں بھیج دیا۔ تھیریسئن شٹٹ سے سواریاں نکل کر سیدھے آشوٹز، مجدانیک اور ٹریبلنکا کے قتل کے مراکز بھی گئيں۔ یہودی بستی میں ہزاروں لوگ زیادہ تر بیماری یا بھوک سے مر گئے۔ 1942 میں شرح اموات کی زیادتی کی وجہ سے جرمنوں نے یہودی بستی کے جنوب میں ایک لاشیں جلانے کی بھٹی تعمیر کی جس میں ایک دن میں تقریباً 200 نعشوں کو جلایا جا سکتا تھا۔

تھیریسئن شٹٹ منتقل ہونے والے تقریباً 140000 یہودیوں میں سے 90000 کو قریب ہی مشرق میں دوسری جگہوں پر بھیج دیا گیا، جہاں ان کی موت یقینی سمجھی جا سکتی تھی۔ تھیریسئن شٹٹ میں ہی 33000 کے قریب لوگ ہلاک کر دئے گئے۔

تھیریسئن شٹٹ کی ثقافتی زندگی

رہنے کیلئے انتہائی ناگفتہ بہ حالات اور جلاوطنی کے مسلسل ڈر کے باوجود بھی تھیریسئن شٹٹ کی ثقافتی زندگی کافی حد تک ترقی یافتہ تھی۔ غیر معمولی قابلیت کے حامل مصوروں نے، جن کا تعلق زیادہ تر چیکوسلواکیا، آسٹریا اور جرمنی سے تھا، تصویریں بنائيں، جن میں سے کچھ تو یہودی بستی کی تلخ حقیقتوں کا عکس تھا۔ ادیبوں، پروفیسروں، موسیقاروں اور اداکاروں نے لیکچر دئے، کانٹسرٹ کروائے اور ڈرامے پیش کئے۔ یہودی بستی میں ایک لائبریری بھی تھی جس میں 60000 سے زائد کتابیں تھیں۔

تھیریسئن شٹٹ میں پندرہ ہزار بچے بھی پائے گئے۔ پابندیوں کے باوجود وہ اسکول جاتے رہے۔ انہوں نے تصویریں بنائيں، نظمیں لکھیں اور عام زندگی کے کچھ پہلو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ان میں سے تقریباً 90 فیصد پچے قتل کے مراکز میں ختم ہو گئے۔