تفصیلات
نقشے

جرمن کے علاقائی نقصانات، معاہدہ ورسائی، 1919

جرمنی پہلی جنگ عظیم میں ہار گیا۔ 1919 میں معاہدہ ورسائی میں فاتح قوتوں (ریاستہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر اتحادی ممالک) نے شکست خوردہ جرمنی پر سزا کے طور پر علاقائی، فوجی اور اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔ مغرب میں جرمنی نے فرانس کو السیس لورین لوٹا دیا جو 40 برس سے زیادہ عرصے تک جرمنی کے قبضے میں رہا۔ علاوہ ازیں، بلجیم کو ایوپن اور مالمیڈی واپس کر دئے گئے، سار کے صنعتی علاقے کو 15 سالوں تک لیگ آف نیشنز کے زیر انتظام رکھا گیا اور ڈنمارک کو شمالی شلیسوگ واپس کردیا گیا۔ بالاخر رائن لینڈ کو غیر فوجی علاقہ بنا دیا گیا جس کا مطلب یہ تھا کہ جرمن فوجوں یا اُن کی حصار بندی کی مکمل ممانعت کر دی گئی۔ مشرق میں پولینڈ نے مغربی پرشیا اور سیلیسیا کے علاقے جرمنی سے واپس لے لیے۔ اس کے علاوہ چیکوسلواکیا نے جرمنی سے ھلٹشن کا ضلع حاصل کرلیا، جرمنی کا بڑا شہر ڈینزگ لیگ آف نیشنز کی حمایت سے ایک آزاد شہر بن گیا؛ اور بحر بالٹک کے قریب مشرقی پرشیا میں واقع ایک چھوٹے سے مامی نامی علاقے کو قطعی طور پر لیتھووانیا کے کنٹرول میں رکھا گیا۔ یورپ کے باہر جرمنی اپنی تمام نوآبادیوں کو کھو بیٹھا۔ مختصر طور پر جرمنی یورپ کے 13 فیصد علاقوں (27،000 مربع میل سے زائد) اور اپنی آبادی کے دسویں حصے (6،5 تا 7 ملین لوگ) سے ہاتھ دھو بیٹھا۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum

شیئر کریں

German territorial losses, Treaty of Versailles, 1919 [LCID: ger71020]

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.