برلن جرمنی میں یہودی آبادی کا مرکز تھا اور مملکت کا دار الحکومت ہونے کے ناطے برلن"حتمی حل" کے منصوبے کا بھی مرکز تھا، جس کا مقصد یورپ کے یہودیوں کا خاتمہ تھا۔ جنوب مغربی برلن میں واقع وانسی نامی سیروتفریح کے مقام پر جنوری 1942 میں منعقد ہونے والی کانفرنس کا نام اس علاقے کے نام پر وانسی کانفرنس رکھا گیا۔ نازی پارٹی، ایس ایس اور جرمن ریاست کے اعلی افسران نے مل کر "یہودیوں کے مسئلے کے حتمی حل" کے منصوبے کی وضاحت کی اور اس کو حتمی صورت دی۔ کانفرنس میں ان اہلکاروں کو اطلاع دی گئی کہ قتل و غارت کے پروگرام کی عملداری ایس ایس کی ذمہ داری ہوگی اور یورپ کے یہودیوں کو مقبوضہ پولینڈ میں جلاوطن کرکے جان سے مار دیا جائے گا۔
آئٹم دیکھیںجنوری 1942 میں برلن کی وانسی کانفرنس میں ایس ایس (نازی ریاست کے ایلیٹ گارڈ) اور جرمن حکومت کی وزارتوں کے نمائیندوں نے اندازہ لگایا کہ فائنل حل یعنی یورپی یہودیوں کو قتل کرنے کا نازی منصوبہ 11 ملین یورپی یہودیوں پر محیط ہو گا جس میں آئرلنڈ، سویڈن، ترکی ، اور برطانیہ جیسے غیر مقبوضہ علاقوں کے یہودی بھی شامل ہونگے۔ جرمنی اور جرمن مقبوضہ یورپ سے یہودیوں کو ریل گاڑیوں کے ذریعے مقبوضہ پولینڈ میں موجود قتل گاہوں میں لایا گيا جہاں ان لوگوں کو ہلاک کر دیا گيا۔ جرمنی نے اپنے مقاصد کو چھپانے کی کوشش میں اس جلاوطنی کو "مشرق میں نئی آبادکاری" کے نام سے موسوم کیا۔ مرنے والوں سے کہا جاتا تھا کہ انھیں مزدور کیمپوں میں لے جایا جا رہا ہے، لیکن اصل میں 1942 کے بعد سے جلاوطنی کا مطلب اکثر یہودیوں کو قتل کرنے والے مراکز میں لے جا کر اُنہیں قتل کرنا تھا۔
آئٹم دیکھیںWe would like to thank Crown Family Philanthropies and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.