ایڈولف آئخمین (مقالے کی تلخیص)

ایڈولف آئخمین ہولوکاسٹ کے دوران یورپ کی یہودی آبادی کی جلاوطنی کے سلسلے میں مرکزی کرداروں میں سے ایک تھا۔ وہ اگرچہ جرمنی میں پیدا ہوا مگر لڑکپن میں ہی آسٹریہ جا بسا۔ 1932 میں آئخمین نے آسٹریہ کی نازی پارٹی اور ایس ایس میں شمولیت اختیار کر لی اور جلد ہی تنظیم کے اندر ترقی کرتا ہوا اونچے عہدے پر پہنچ گیا۔ مارچ 1938 میں آسٹریہ پر جرمن قبضے کے بعد آئخمین نے یہودیوں کی ویانا میں امیگریشن کی غرض سے ایک مرکزی دفتر قائم کیا جس نے اگست 1938 سے جون 1939 کے دوران آسٹریہ کے ایک لاکھ دس ھزار یہودیوں کیلئے امیگریشن کی "سہولت" فراہم کی۔ ویانا دفتر جبری امیگریشن کیلئے اس قدر کامیاب تھا کہ یہ یہودیوں کی امیگریشن کیلئے جرمن سلطنت بھر کے مرکزی دفتر میں ایک ماڈل کی حیثیت اختیار کر گیا۔ ستمبر 1939 میں جرمن سلطنت کے سیکورٹی صدر دفتر کے قیام کے بعد آئخمین گسٹاپو میں چلا گیا اور وہاں جلاوطنی اور یہودیوں سے متعلق دیگر معاملات کے محکمے کا ڈائریکٹر بن گیا۔ اپنے نئے عہدے کے ساتھ آئخمین نے یورپ بھر سے پندرہ لاکھ یہودیوں کو جلاوطن کر کے پولینڈ اور مقبوضہ سوویت یونین کی قتل گاہوں اور دیگر قتل کے مراکز میں پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

جنوری 1942 میں آئخمین نے وانسی کانفرنس میں شرکت کی جس کے دوران یورپ کے یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ آئخمین اور اُس کے عملے نے سلواکیہ، نیدرلینڈ، فرانس اور بیلجیم سے لاکھوں یہودیوں کی جلاوطنی کا انتظام کیا۔ 1943 اور 1944 میں اُنہوں نے یونان، شمالی اٹلی اور ہنگری کے یہودیوں کی جلاوطنی کا اہتمام کیا۔ آئخمین نے خود کو صرف ہنگری میں ہی براہ راست ملوث کیا۔ اپریل 1944 کے آخر سے جولائی کے آغاز تک آئخمین اور اُس کے معاونین نے ہنگری کے چار لاکھ چالیس ھزار یہودیوں کی قتل کے مراکز میں جلاوطنی کی نگرانی کی۔

جنگ کے اختتام پر آئخمین کو امریکہ میں زیر حراست لے لیا گیا لیکن وہ 1946 میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ کیتھلک چرچ کے اہلکاروں کی مدد سے وہ فرار ہو کر ارجنٹینا پہنچ گیا جہاں وہ ریکارڈو کلیمنٹ کے نام سے رہا۔ 1960 میں اسرائیلی سیکورٹی سروس کے ایجنٹوں نے آئخمین کو پکڑ لیا اور وہ اسے مقدمے کا سامنا کرنے کیلئے اسرائیل لے آئے۔ یروشلم میں چلنے والے اس مقدمے کی کاروائی سے بین الاقوامی سطح پر ہولوکاسٹ کے بارے میں دلچسپی بے انتہاء بڑھ گئی۔ 15 دسمبر 1961 کو آئخمین کو یہودیوں کے خلاف جرائم کے حوالے سے قصوروار پایا گیا۔ اسے 31 مئی اور یکم جون 1962 کی درمیانی شب پھانسی دے دی گئی۔ یہ واحد واقعہ ہے جب اسرائیل کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا۔ اُس کی لاش کو جلا کر راکھ سمندر میں بہا دی گئی۔