<p>عوامی طور پر رسوا کرنا: "میں نسلی حرمت کو داغدار کرنے والا ہوں۔" اس تصویر میں ایک جوان آدمی کو عوامی طور پر رسوا کرنے کیلئے گلیوں میں گھمایا جارہا ہے جس کے ایک یہودی خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ جرمن پولیس افسر کے ساتھ چلتے ہوئے اس شخص نے ایک علامت پہن رکھی ہے جس کی سرخی ہے، "میں نسلی حرمت کوداغدار کرنے والا ہوں۔" ایسے واقعات مبینہ ملزمان کو سزا دینے اور ایسے لوگوں کو روکنے کیلئے عوامی مثال قائم کرنے کے واسطے تیار کیے گئے تھے جنہوں نے ابھی بھی نازی نسلی اصول کو پوری طرح قبول نہیں کیا تھا۔ نارڈین، جرمنی، جولائی 1935۔</p>

دشمن کی پہچان کرنا

نازی نوجوانوں کے پروگراموں میں فعال ایک جرمن خاتون کی بعد از جنگ ملنے والی یادداشتوں میں لکھا ہے "میں نیشنل سوشلسٹ بن گئی کیونکہ قومی برادری کے تصور نے مجھے متاثر کیا۔ جس بات کا احاس مجھے کبھی نہیں ہوا وہ یہ تھا کہ جرمنوں کی ایک بڑی تعداد کو اس قابل نہ سمجھا گیا کہ اُنہیں اس برادری میں شامل کیا جا سکے۔"

ایک متحد گروپ کی تشکیل میں ایک اہم پہلو اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کسے رکنیت سے خارج کیا جائے۔ نازی پروپیگنڈا کنندگان نے اخراج والے گروپوں کی عوامی طور پر شناخت کر کے منافرت کو ہوا دے کر یا اختلافات پیدا کر کے اورعوام الناس میں اپنی نفرت انگیز حیثیت کو معقول ثابت کر کے حکومت سے متعلق پالیسیاں تیار کرنے میں تعاون کیا۔ نازی پروپیگنڈا نے جرمنوں میں "قومی برادری" کے تصور کو عام کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا جو اتحاد، قومی افتخار و عظمت، اور ماضی کی سماجی درجہ بندی کے سخت نظام کو توڑنے کیلئے بے قرار تھے۔ لیکن نازی تصور کا ایک دوسرا اور کہیں زیادہ برا پہلو یہ تھا کہ سبھی جرمنوں کو نئی برادری میں شامل نہیں کیا گیا۔ پروپیگنڈے نے اس بات کی وضاحت میں مدد کی کہ کسے نئے معاشرے سے خارج کیا جائے گا اور "خارجیوں" کیلئے پیمانوں کا تعین بھی کیا گیا۔ یہودیوں، سنٹی اور روما (خانہ بدوشوں)، ہم جنس پرستوں، سیاسی مخالفین اور ایسے جرمن جنہیں نسلی طور پر کمتر اور "قومی صحت" کیلئے نقصاندہ تصور کیا جاتا تھا (دماغی بیماری اور عقلی یا جسمانی معذوری، مرگی زدہ، پیدائشی بہرے اور اندھے افراد، عادی شرابی، منشیات استعمال کرنے والے، اور دیگر)۔

یہود مخالف پروپیگنڈا

پہلے سے موجود خاکوں اور روایات کا استحصال کرتے ہوئے نازی پروپیگنڈا کنندگان نے یہودیوں کو "ایلیئن نسل" یعنی غیر ملکی نسل قرار دیا جنہوں نے اپنے میزبان ملک کو تباہ کیا، اس کی ثقافت میں زہر گھول دیا، اس کی معیشت پر قبضہ کر لیا، اور اس کے کارکنان اور کسانوں کو اپنا غلام بنا لیا۔ یہ منافرتی خاکے نازی پارٹی کیلئے نہ تو نئے تھے نہ ہی منفرد، اب ریاست کے حمایت یافتہ خاکے بن گئے۔ 1933 کے بعد جیسے جیسے نازی حکومت نے پریس اور طباعت اشاعت پر اپنا قبضہ مستحکم کرنا شروع کیا، پروپیگنڈا کنندگان نے متفرق برادریوں کیلئے حسب ضرورت پیغامات تیار کرنے شروع کئے، جن میں بہت سے ایسے جرمن تھے جو نازی نہیں تھے اور انہوں نے پارٹی کی دستاویزات بھی نہیں پڑھیں تھیں۔ نازی جرمنی میں یہود مخالف عوامی اشتہارات مختلف شکلوں میں پیش کیے گئے جن میں پوسٹر اور اخبارات سے لے کر فلم اور ریڈیو خطابات تک شامل تھے۔ پروپیگنڈا کنندگان نے تعلیم یافتہ، متوسط طبقے کے جرمنوں کیلئے مبہم یہود مخالف اشارات و کنایات اور نظریات کے ساتھ متجسسانہ کارٹون پیش کئے۔ یونیورسٹی کے پروفیسروں اور مذہبی رہنماؤں نے اپنے لکچروں اور چرچ کے خطابات میں یہود مخالف عنوانات کو زیادہ اہمیت دی۔

دیگر خارجین

صرف یہودیوں کا گروپ ہی ایسا نہیں تھا جسے "قومی برادری" کے تصور سے خارج کیا گیا تھا۔ پروپیگنڈے نے اس بات کی وضاحت میں مدد کی کہ کسے نئے معاشرے سے خارج کیا جائے گا اور "خارجیوں" کیلئے پیمانوں کا تعین بھی کیا: اس میں یہودی، روما (خانہ بدوش)، ہم جنس پرست، سیاسی مخالفین، اور ایسے جرمن بھی شامل تھے جنہیں نسلی طور پر کمتر اور "قومی صحت" کیلئے نقصاندہ تصور کیا جاتا تھا (دماغی بیماری اور عقلی یا جسمانی معذوری، مرگی زدہ، پیدائشی بہرے اور اندھے افراد، عادی شرابی، منشیات استعمال کرنے والے، اور دیگر)۔

شناخت، علیحدگی، اور اخراج

پروپیگنڈے نے 15 ستمبر 1935 کو نیورمبرگ میں بڑے یہود مخالف قوانین کے اعلان کیلئے زمین تیار کرنے میں مدد کی۔ اس قانون کے سبب نازی پارٹی کے بے قرار انتہاپسندوں میں یہود مخالف تشدد کی ایک لہر پیدا ہوئی۔ جرمن خون اور ناموس کے تحفظ کے قانون نے یہودیوں اور "جرمن" یا "متعلقہ خون" والے افراد کے درمیان شادی اور بغیر شادی کے جنسی روابط کو ممنوع قرار دیا اور ریخ سیٹیزن شپ لاء نے یہودیوں کو ریاست کا "محکوم" قرار دیا اور انہیں دوسرے درجے کی حیثیت دی گئی۔

ان قوانین سے لگ بھگ 450,000 "مکمل یہودی" (جن کے آباؤ اجداد میں سے چار نسلیں یہودی تھے اور وہ خود بھی یہودی مذہب کو مانتے تھے) اور250,000 دیگر افراد (بشمول مذہب تبدیل کرنے والے یہودی اور مشلنگے، جن کے والدین میں سے کوئی یہودی تھے) متاثر ہوئے، جو کل جرمن آبادی کے ایک فیصد سے کچھ زیادہ تھے۔ "نیورمبرگ قوانین" کے اعلان سے چار مہینے قبل نازی پارٹی پریس نے جرمنوں کو نسلی آبادی کے خلاف پرزور طریقے سے اشتعال دلانا شروع کر دیا جس میں عوامی سوئمنگ پول میں یہودیوں کی موجودگی کو ایک بڑا مسئلہ بنایا گیا۔

ثقافتی اداروں پر کنٹرول

ریخ چیمبر آف کلچر کے تحت ثقافتی اداروں، جیسے میوزیم پر کنٹرول کے ذریعے، نازیوں نے یہود مخالف پروپیگنڈا پھیلانے کا نیا راستہ تلاش کیا۔ خاص طور پر میونخ کے ڈچز میوزیم میں نومبر 1937 سے جنوری 1938 تک چلنے والی ایک نمائش "لافانی یہودی" (دی ایٹرنل جیو) میں روزانہ 5,000 افراد کے لحاظ سے 412,300 مشاہدین نے شرکت کی۔ نمائش کے ساتھ ساتھ بیویرین اسٹیٹ تھیٹر کے ذریعہ خصوصی مظاہروں میں یہودی مخالف تصورات کو تقویت دی گئی۔ نازیوں نے یہودیوں کو "فنون کی تباہی" کیلئے بھی مورد الزام ٹھہرایا جو میونخ میں اسی طرح کی ایک نمائش کا مرکزی خیال تھا جسے بیس لاکھ لوگوں نے دیکھا۔

ایک یہود مخالف فلم دیئر ایویگ جیوڈے کے ایک انتہائی بدنام سلسلے میں یہودیوں کا موازنہ چوہوں سے کیا گیا تھا جو متعدی بیماری پھیلاتے ہیں اور پورے ملک میں پھیل کر قیمتی وسائل کو ہظم کر رہے ہیں۔ دیئر ایویج جیوڈے صرف اپنے جارح اور برے کرداروں کیلئے ہی بدنام نہیں ہے بلکہ جہاں اس کے فوٹیج میں یہودیوں کے مذہبی قصاب کو جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، وہیں اس میں مشرقی یورپ کے یہودیوں کے غیرملکی ہونے پر بھی کافی زور دیا گیا ہے۔ فلم کے سین میں ریخ بردار "قدامت پسند" پولش یہودی کو داڑھی منڈائے ہوئے اور "مغربی انداز" والے یہودیوں میں تبدیل شدہ دکھایا کیا۔ اس قسم کی "نقاب کشائی" والے سین کا مقصد جرمن سامعین و ناظرین کو یہ دکھانا تھا کہ مشرقی یورپ کی یہودی بستیوں میں رہنے والے یہودیوں اور جرمنی کے قرب و جوار میں رہنے والے یہودیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

دیئر ویج جیوڈے کا اختتام 30 جنوری 1939 میں ہٹلر کے ذریعے کی گئی بدنام ترین تقریر پر ہوتا ہے: اگر یورپ کے اور یورپ سے باہر کے بین الاقوامی یہودی سرمایہ کار ممالک کو ایک بار پھر عالمی جنگ میں جھونکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کا نتیجہ …… یہودیت کی فتح نہیں بلکہ یورپ سے یہودی نسل کا خاتمہ ہو گا۔" یہ تقریر آئندہ کے "حتمی حل" میں "یہودیت کے سوال" کے حل کیلئے ایک اہم اشارہ ثابت ہوا، اور یہ اجتماعی قتل عام کی ایک پیشگوئی ثابت ہوئی۔

نسل کشی کی تشہیر

اگرچہ زیادہ تر جرمنوں نے یہود مخالف تشدد کو نامنظور کر دیا، تاہم سختی کے دور میں یہودیوں سے منافرت میں بڑی آسانی سے اضافہ ہوا جو نازی پارٹی کے حامیوں کے علاوہ بھی کافی دور دور تک پھیل گیا۔ آخر کار جرمنوں کی اکثریت نے بددلی سے یہودیوں کے خلاف تفریق کو قبول کر لیا۔ جنوری 1936 میں جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ملک بدر لیڈران کیلئے تیار کردہ ایک خفیہ رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ: "آج کل یہ احساس بہت عام ہو چکا ہے کہ یہودی دوسری نسل کے انسان ہیں۔"

یہودیوں کے خلاف نئے پیمانے اپنانے سے قبل کے وقفے میں پروپیگنڈا مہموں نے یہودیوں کے خلاف تشدد کو برداشت کرنے کا ماحول تیار کیا یا تشدد کا آغاز کیا۔ یہ سب کچھ جانا بوجھا اور فطری نتیجہ تھا جس کے نتیجے میں منفی رجحان پیدا ہوا اور عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ایک وسیلے کے طور پر یہودی مخالف قوانین اور احکامات کو منظوری کی تحریک ملی۔ یہودیوں کو بدنام کرنے والے پروپیگنڈے نے قومی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں جرمن عوام کو بے رحمانہ پیمانے جیسے اجتماعی نقل وطنی اور آخر کار نسل کشی کے عمل کیلئے تیار کیا۔

مقبوضہ پولینڈ میں نازی پروپیگنڈا

نازی حکومت نے یہودیوں اور چوہوں یا بیماریوں جیسے پروپیگنڈے کو پھیلانے کا کام صرف جرمنی تک ہی محدود نہیں رکھا۔ مقبوضہ پولینڈ میں نازی پروپیگنڈے نے یہودیوں کو صحت کیلئے ایسا خطرہ قرار دیا جس کیلئے قرنطینہ کی ضرورت تھی۔ یہودی بستیوں میں محصور کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا گیا جبکہ جرمن پالیسی سازوں نے یہودی بستیوں کے باشندوں کی غذا، پانی اور دواؤں تک رسائی کو سختی کے ساتھ محدود کر کے ایک خود ساختہ پیشگوئی کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ پولش اسکول کے بچوں کو دکھائی گئی جرمن تعلیمی فلموں میں "یہودیوں" کو جوں اور ٹائفس کی بیماری پھیلانے والوں کے طور پر دکھایا گیا۔ وارسا ضلع کے گورنر لُڈ وِگ فشر نے پولش عوام کو یہودی بستیوں میں رہنے والے یہودیوں سے صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں بتانے کیلئے "3,000 بڑے پوسٹر، 7,000 چھوٹے پوسٹرز اور 500,000 پرچے" تقسیم کئے۔ یقینی طور پر اس قسم کا خوف پیدا کرنے سے جرمن مقبوضہ پولینڈ کے یہودی بستیوں میں رہنے والے یہودیوں کو عوامی مدد ملنی بند ہو گئی۔