<p>اپنے اسکول کے باہر نازی جھنڈے کے سامنے تصویر کھینچوانے والی جرمن لڑکیوں کا گروپ فوٹو۔ اس تصویر میں للی ایکسٹائن بھی ہیں جنہیں چھ مہینے بعد یہودی ہونے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔ ھیلڈن برگن، جرمنی، 1935.</p>

سواسٹیکا کی تاریخ

سواسٹیکا کی ایک جامع تاریخ ہے۔ ایڈولف ہٹلر کے نازی پرچم وضع کرنے سے کم از کم پانچ ھزار برس قبل یہ نشان استعمال ہوتا تھا۔ سواسٹیکا کا لفظ سنکرت کے لفظ سواستیکا سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں "خوش قسمتی" یا "خیروعافیت"۔ یہ نشان (مڑا ہوا کراس) سب سے پہلے نیولیتھک یوریشیاء میں استعمال ہوا۔ شاید اِس سے آسمان پر سورج کی نقل و حرکت کی نمائیندگی کی گئی۔ آج تک اسے ہندومت، بدھ مت، جین مت اوراوڈینزم عقیدے میں مقدس سمجھا جاتا ہے۔ بھارت یا پھرانڈونیشیا میں مندروں اور مکانون پر دیکھا جانے والا یہ عام نشان ہے۔ یورپ میں بھی سواسٹیکا کی تاریخ قدیم ہے اور اسے قبل از مسیح یورپی ثقافتوں سے ملنے والی اشیاء پر دیکھا جا سکتا ہے۔

19 ویں صدی کے آخر میں اِس نشان یا علامت کا دوبارہ ظہور ہوا جس سے پہلے ماہرِ آثارِ قدیمہ ھائینرش شلائیمان کی طرح آثارِ قدیمہ پر جامع انداز میں کام ہوا۔ شلائیمان کو قدیمی ٹروئے کے مقام پرمڑے ہوائے کراس کا نقش ملا۔ اُنہوں نے اسے جرمنی میں ملنے والے ظروف پر پائے جانے والے مشابہ نقوش سے مربوط کیا اور یہ قیاس آرائی کی کہ یہ ہمارے دور دراز کے آباؤاجداد کی ایک ممتاز مذہبی علامت ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں یورپ میں سواسٹیکا کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔ اس کے متعدد معانی تھے۔ سب سے زہادہ معروف مفہوم خوش قسمتی اور فراخی کے حوالے سے تھا۔ تاہم شلائیمان کے کام کو جلد ہی واکش تحریکوں نے آگے بڑھایا جن کیلئے سواسٹیکا آریائی شناخت اور جرمنی کی قوم پرستی پر فخر کی علامت تھا۔

جرمن افراد کی آریائی ثقافت والی نسل کا قیاس ہی غالباً اُن بنیادی وجوہات میں سے ایک تھا کہ نازی پارٹی نے باضابطہ طور پر سواسٹیکا یا مڑے ہوئے کراس کو 1920 میں اپنی علامت کے طور پر منتخب کر لیا۔

تاہم نازی پارٹی جرمنی میں سواسٹیکا کو استعمال کرنے والی واحد جماعت نہیں تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد انتہائی دائیں بازو کی کئی قوم پرست تحریکوں نے سواسٹیکا کا انتخاب کر لیا۔ ایک علامت کے طور پر اسے نسلی لحاظ سے "پاک" ریاست کے تصور کے ساتھ منسوب کیا گیا۔ جب نازیوں نے جرمنی کا کنٹرول حاصل کر لیا تو سواسٹیکا کے نظرئیے اور مفہوم میں ہمیشہ کیلئے تبدیلی آ گئی۔

ایڈولف ہٹلر نے "مائین کامپف" میں تحریر کیا ہے "میں نے بذاتِ خود کئی کاوشوں کے بعد ایک حتمی شکل منتخب کر لی، ایک پرچم جس کے سرخ پس منظر پر ایک سفید ڈسک تھی جس کے عین درمیان میں سیاہ رنگ کا سواسٹیکا تھا۔ کئی طویل کوششوں کے بعد مجھے پرچم کے سائز اور وھائیٹ ڈسک کے سائز کے درمیان متعین تناسب کا اندازہ پوا اور اس کے ساتھ ساتھ سواسٹیکا کی شکل اور موٹائی کے بارے میں بھی طے کر لیا گیا۔

سواسٹیکا نازی پراپیگنڈے کا انتہائی جانا پہچانا نشان بن گیا۔ ایڈولف ہٹلر کی "مائین کامپف" میں اس حوالے کے بعد یہ انتخابی پوسٹروں، بازو بند، طغروں اور فوج کے علاوہ دوسری تنظیموں کے بیجز پر بھی استعمال ہونے لگا۔ یہ آریائی لوگوں کے درمیان فخر پیدا کرنے کی علامت تھا۔ سواسٹیکا نشان یہودیوں اور نازی جرمنی کے دوسرے دشمنوں کیلئے دہشت کی علامت بن گیا تھا۔

سواسٹیکا اپنی ابتدا کے باوجود نازی جرمنی کے ساتھ مکمل طور پر منسوب ہو گیا تھا جس کو عام طور پر تنازعہ آریائی کو بھڑکانے کیلئے بھی استعمال کیا گیا۔