میوزک

میرا خواب

اصلی عنوان: مین خولیم

موسیقار: ڈینیل کیمپن
شاعر: مورڈیسائی گیبرٹگ
نغمہ گر: مورڈیسائی گیبرٹگ / ڈینیل کیمپن

عبرانی زبان کے عوامی شاعر اور نغمہ نگار مورڈیسائی گیبرٹگ 1877 میں پولینڈ کے شہر کراکاؤ میں پیدا ہوئے۔ وہ 1940 میں مقبوضہ کراکاؤ سے بھاگ کر قریبی مقام لیگیونیکی جانے پر مجبور ہو گئے۔ وہاں مئی 1941 میں اُنہوں نے نظم "میرا خواب" لکھی جس میں انہوں نے امن اور انتقام کے خواب دیکھے۔ مارچ 1942 میں گیبرٹگ کو زبردستی کراکاؤ کی یہودی بستی میں بھیج دیا گیا جہاں وہ جون 1942 میں مارے گئے۔

میں نے ابھی ایک بہت ہی سہانا خواب دیکھا ہے--
میں اب تک محسوس کر سکتا ہوں کہ میرا دل کیسے خوشی سے دھڑک اُٹھتا ہے--
امن ہو گیا ہے! ہاں امن ہو گیا ہے!
تمام تر وسیع دنیا میں امن

لوگ سڑکوں پر گیت گا رہے ہيں،
بچے بوڑھے ناچ رہے ہيں
صف در صف لوگ جمع ہو رہے ہیں--
خوش کن خبر گا کر سنا رہے ہيں

امن ہو گیا ہے! ہاں امن ہو گیا ہے!
دشمنوں کی جگہ دوست آ گئے ہيں
دوسروں سے زیادہ، یہودی گا رہے ہيں،
اپنے عظیم ترین دن کا جشن منانے کیلئے

لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کر رہے ہيں
جیسے مسیحا آ گیا ہو؛
اچانک مجھے زنجیروں کی آواز آتی ہے --
اور میں کیا منظر دیکھتا ہوں!

ایک لوہے کے پنجرے میں،
ایک ننگا آدمی لیٹا ہوا ہے۔
ایک بپھرے ہوئے وحشی جانور کی طرح
جنگلی بھیڑیے کی طرح بھوکا

مرد عورت اور بچے بھی
ہر عمر کا راہگیر
اُس کے ساتھ ایک سڑی ہوئی لاش جیسا سلوک کر رہے ہيں
پنچرے میں تھوک رہے ہيں

اور جوش اور خوشی کے ساتھ
وہ سیدھے اس کے منہ پر تھوک رہے ہيں
اور کاٹنے والے کیڑوں کا ایک ہجوم
قطار بنا کر انتظار کر رہا ہے

"اُس پر تھوکو! "اُس پر تھوکو! مجھے آواز سنائی دیتی ہے
"اس نے ہماری تمام دنیا میں زہر گھول دیا ہے!
ہمیشہ کیلئے، قابیل کی طرح
اس کے نام پر لعن طعن کی جائے گی!"

"اُس پر تھوکو!اُس پر تھوکو!" سڑکیں اس آواز سے گونچ رہی ہيں
آواز گونج رہی ہے؛
اور جیسے لوگ اس کے پنجرے کے آگے سے گزرتے ہیں،
ہر کوئی نشانہ لگا کر تھوکتا ہے

میں نے یہ خواب میں دیکھا؛
میں اُمید کرتا ہوں کہ بہت جلد
میرا یہ خوبصورت سہانا خواب
حقیقت میں سچ ہو جائے۔