View of the courtroom during the trial of John Demjanjuk. [LCID: 65258]

جان ڈیمجن جک: نازیوں کا ساتھ دینے والے کے خلاف قانونی کارروائی

جائزہ
جان (آئيوان) ڈیمجن جک کی پیدائش یوکرین میں ہوئی تھی، اور ان کے خلاف نازی حکومت کا ساتھ دینے سے متعلق جرائم کی وجہ سے چار مختلف عدالتی مقدمے دائر کئے گئے۔

ڈیمجن جک کے ہولوکاسٹ کے زمانے کے ماضی کی تحقیقات 1975 میں شروع ہوگئیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہونے والی قانونی کارروائی کی نتیجے میں اس سے دو مرتبہ امریکی شہریت چھین لی گئی، ایک دفعہ جلاوطنی کا حکم دیا گیا، اور اسے جرائم کے الزام میں دو دفعہ ریاستہائے متحدہ امریکہ سے خارج کر کے ایک دفعہ اسرائیل اور ایک مرتبہ جرمنی بھیج دیا گیا۔ ممکن ہے کہ جرمنی میں مئی 2011 میں اختتام پذیر ہونے والا مقدمہ نازیوں کے زمانے کے آخری جنگی مجرم کا مقدمہ ہو۔ اگر ایسا ہوا تو یہ 1945 میں نیورمبرگ میں بین الاقوامی فوجی عدالت کی قانونی کارروائی سے لے کر 65 سال کے عرصے کا حتمی نتیجہ ہو گا۔

ڈیمجن جک کے ماضی کے چند حقائق پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی پیدائش مارچ 1920 میں وینیٹسا اوبلاسٹ کے ایک گاؤں ڈوبووی ماخارینٹسی میں ہوئی، جو اس وقت سوویت یوکرین کا حصہ تھا۔ اسے سوویت بری فوج میں بھرتی کیا گیا اور اس کے بعد مئی 1942 میں کرچ کی جنگ میں جرمن افواج کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ ڈیمجن جک نے 1952 میں ریاستہائے متحدہ امریکہ ہجرت کر لی اور 1958 میں امریکی قومیت حاصل کر لی۔ وہ کلیولینڈ کے مضافات میں واقع سیون ہلز، اوہائیو، میں رہنے لگا اور کئی سالوں تک فورڈ گاڑیوں کے پلانٹ میں کام کرتا رہا۔

پہلا مقدمہ: اسرائیل، 1987
ریاستہائے متحدہ امریکہ کے عدالتی ادارے نے 1975 میں ڈیمجن جک کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں اور 1977 میں ٹریبلنکا کے قتل و غارت کے مرکز میں دوسری عالمی جنگ میں شرکت کو چھپانے کے لئے جعلی ہجرت اور شہریت کے کاغذات جمع کرنے کے الزام میں اس کی امریکی شہریت کی منسوخی کی درخواست دائر کر دی گئی۔

یہ مقدمہ سوبیبور کے قتل و غارت کے مرکز میں ڈیمجن جک کی مبینہ خدمات اور 1940 کی دہائی میں اگنیٹ ڈینیل چینکو نامی سوویت گواہ کی گواہی کی وجہ سے اس کیمپ کی تحقیق سے شروع ہوا۔ ڈینیل چینکو نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس کی ڈیمجن جک کے ساتھ جان پہچان پہلے سوبیبور اور پھر اس کے بعد 1945 تک فلوسنبرگ کے حراستی کیمپ میں ایک ساتھ کام کرنے کی وجہ سے ہوئی۔ تاہم، کچھ زندہ بچنے والے یہودیوں نےایک تصویر سے ٹریبلنکا کے قریب گیس چیمبروں میں کام کرتے ہوئے ڈیمجن جک کی شناخت کر لی، جس کے بعد امریکی حکومتی افسران نے ٹریبلنکا کے الزامات کی تحقیق کرنی شروع کر دی۔ 1979 میں عدالتی ادارے میں نئے خاص تحقیقاتی دفتر نے مقدمہ اپنے ذمے لے لیا۔

ایک طویل تحقیق اور 1981 میں ایک مقدمے کے بعد، کلیولینڈ میں امریکی ضلع کی وفاقی عدالت نے ڈیمجن جک سے اس کی امریکی شہریت چھین لی۔ جب امریکی حکام نے ڈیمجن جک کو جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا تو اسرائیلی حکومت نے اسے اُس کے حوالے کرنے کی درخواست کی۔ ضروری سماعت کے بعد، امریکی حکام نے ڈیمجن جک کو اسرائیل کے حوالے کر دیا، جہاں یہودیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سلسلے میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ ڈیمجن جک اسرائیل میں ان الزامات کے لئے عدالت میں کا سامنا کرنے والا دوسرا شخص تھا۔ پہلا اڈولف ایخمین تھا، جسے 1961 میں قصور وار ثابت کر کے 1962 میں سزائے موت دی گئی تھی۔

مقدمہ 16 فروری 1987 کو یروشلم میں شروع ہوا۔ استغاثہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ جرمن قبضے میں جنگی قیدی کی زندگی گزارنے کے دوران ڈیمجن جک نے ٹرونیکی کے تربیتی کیمپ (لبلن، پولینڈ کے قریب) کے ایک خصوصی ایس ایس یونٹ میں رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کی، جہاں اس نے جرمنی کے مقبوضہ پولینڈ میں رہنے والے تمام یہودیوں کو قتل کرنے کے منصوبے آپریشن رائنہارڈ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پولیس کے مددگار کی حیثیت سے تربیت حاصل کی۔ استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ وہ ٹریبلنکا کے قتل و غارت کے مرکز کا گارڈ تھا، جو قیدیوں میں "آئیون دی ٹیریبل" کے نام سے مشہور تھا، اور یہ کہ وہ ٹریبلنکا کے گیس چیمبروں میں کاربن مونوآکسائيڈ کے بخارات خارج کرنے والے ڈیزل انجن کو استعمال کرتا تھا۔ ٹریبلنکا میں زندہ بچنے والے کئی یہودیوں نے ڈیمجن جک کو "آئیون دی ٹیریبل" کے طور پر بھی شناخت کیا، جو اسے قتل و غارت کے مرکز کے ساتھ منسوب کرنے میں اہم ثبوت ثابت ہوا۔

ٹرونیکی تربیتی کیمپڈیمجن جک کا ٹرونیکی کے کیمپ کا شناختی کارڈ، جو سوویت آرکائیو میں موجود تھا، نہایت اہم ثبوت تھا۔ ٹرونیکی کے حکام یہ دستاویزات کیمپ کے باہر واقع دستے کی حفاظت پر مامور افراد کو جاری کرتے تھے۔ ڈیمجن جک کے وکیل نے دعوی کیا کہ یہ کارڈ جعلی تھا، لیکن کئی فورینزک جانچوں نے اس کے اصلی ہونے کی تصدیق کر دی۔ اس وقت 67 سالہ ڈیمجن جک نے اپنی طرف سے گواہی دیتے ہوئے دعوی کیا کہ اس نے جنگ کا بیشتر دورانیہ چیلم، پولینڈ کے قریب واقع ایک کمیپ میں جرمن تحویل میں جنگی قیدی کی حیثیت سے زندگی گزاری۔

باوجود اس کے کہ یہ شناختی کارڈ امریکی حکومت اور اسرائیلی استغاثہ کے لئے اہم تھا، اس نے ڈیمجن جک کی ٹریبلنکا میں موجودگی کا ثبوت نہیں پیش کیا، بلکہ ستمبر 1942 میں چیلم کے قریب اوکزو میں ایس ایس کے ایسٹیٹ میں ایک گارڈ، اور اس کے بعد مارچ 1943 سے سوبیبور کے قتل کے مرکز کے ایک گارڈ کی ملازمت پر مامور ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ باوجود اس کے کہ کارڈ میں ایسی کچھ معلومات موجود تھیں جو ٹریبلنکا سے بچنے والوں کی گواہی سے میل نہيں کھاتی تھی، یہ واحد دستاویز تھی جس نے ڈیمجن جک کے ٹرونیکی میں پولیس کے مددگار ہونے کا ثبوت پیش کیا (یعنی کہ مددگاروں کے اس پول میں اس کا شمار کیا جاتا تھا جن میں سے ٹریبلنکا کے گارڈوں کا انتخاب کیا جاتا تھا)۔ آج تک ڈیمجن جک کو حتمی طور پر ٹریبلنکا سے منسوب کرنے والا کوئی ثبوت نہيں ملا۔

ڈیمجانجک کا ٹیٹو
استغاثہ کے مقدمے کا ایک اور ثبوت ڈیمجن جک کے دائيں بازوں کے نیچے زخموں کے نشان تھے، جو اس کے خون کی قسم کی نشان دہی کرنے والے ایک ٹیٹو کے باقیات تھے۔ ایس ایس حکام نے 1942 میں وافن ایس ایس (فوجی ایس ایس) نے خون کے قسم کی ٹیٹو بنوانے کا تعارف کروایا تھا۔ جرمن کنسنٹریشن کیمپ کے نظام میں ایس ایس کے ڈیتھ ہیڈ کے یونٹس کے کچھ ممبران کے بھی اسی طرح کے ٹیٹو بنوائے گئے تھے، کیونکہ انہيں 1941 کے بعد انتظامی طور پر وافین ایس ایس کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ بہرحال یہ ٹیٹو لگانے کے نظام کا اطلاق باقاعدہ طور پر نہيں کیا گیا۔ لہذا اس سے حتمی طور پر یہ ثابت نہيں ہو سکا کہ ڈیمجن جک کانسنٹریشن کیمپ کا گارڈ رہ چکا تھا۔

"ایس ایس ٹیٹو" کے زخموں کی موجودگی، خصوصی طور پر خون کی قسم کے حوالے سے ضروری ٹیٹو اور ایس ایس کی طرف سے لگائے جانے والے ٹیٹو کے درمیان غلط فہمی کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل دونوں ملکوں میں استغاثہ صحیح طور پر نشاندہی کرنے سے قاصر رہا۔ ٹرونیکی میں پولیس کے مددگار کی حیثیت سے تربیت حاصل کرنے والے جنگی قیدیوں کے ایسے ٹیٹو لگوانے کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہيں۔

اسرائیلی فیصلہ اور اپیل
محض بچنے والوں کی شناخت کی بنیاد پر، اسرائیلی عدالت نے ڈیمجن جک کو قصور وار قرار دے دیا اور 25 اپریل 1988 کو اسے سزائے موت سنا دی۔ تاریخ میں دوسری بار ہی ایسا ہوا تھا کہ اسرائیلی عدالت نے کسی ملزم کو سزائے موت سنائی ہو (سزائے موت پانے والا پہلا شخص آئيخمین تھا)۔

جب ڈیمجن جک کی اپیل اسرائیلی سپریم کورٹ میں پہنچی، اسی وقت 1991 میں سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ لاکھوں سابقہ طور پر نامعلوم دستاویزات دفاع اور استغاثہ دونوں ہی کے ہاتھ لگ گئے۔ کیو میں سابقہ یوکرینین کے جی بی کے ریکارڈز میں ڈیمجن جک کے دفاع میں ٹریبلنکا کے سابقہ گارڈز کے درجنوں بیان ملے جن پر سوویت حکام نے 1960 کی دہائی کے شروع میں ہی مقدمہ دائر کیا تھا۔

ان تمام دستاویزات کے مطابق ڈیمجن جک ٹریبلنکا پر مامور نہيں تھا۔ تاہم ان میں آئیون مارچینکو کا تذکرہ موجود تھا، جو 1942 کے موسم گرما سے 1943 کی قیدیوں کی بغاوت تک ٹریبلنکا میں گیس کی موٹر چلانے والے کا کام کرتا رہا، اور جو نہایت ظالم پولیس کا مددگار بھی رہ چکا تھا، جس کے اعمال کی داستان ٹریبلنکا میں بچنے والے یہودیوں کے بیانات سے میل بھی کھاتی تھی۔ اگست 1943 میں ٹرونیکی واپس جانے کے بعد، مارچینکو اٹلی کے شہر ٹریسٹ منتقل ہو گیا، اور جنگ کے اختتام پر غائب ہو گیا۔ آج دن تک معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کہاں ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوا۔

محض ان بیانات کی موجودگی نے ڈیمجن جک کے ٹریبلنکا میں مامور ہونے کے متعلق کافی حد تک مناسب شبہ پیدا کر دیا تھا، جس کی وجہ سے 29 جولائی 1993 کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے ڈیمجن جک کو قصور وار ٹھہرانے والا فیصلہ بدل دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ استغاثہ ڈیمجن جک پر دوسرے جرائم کے سلسلے میں مقدمہ دائر کر سکتا تھا۔

سابقہ سوویت آرکائیو سے حاصل ہونے والے نئے ثبوت
یہ کارروائی صرف ماسکو میں روسی وفاق کے وفاقی سلامتی کی سروس کے آرکائیو میں ٹرونیکی تربیتی کیمپ کے عملے کے اندرونی رابطے کی دریافت کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ ان دستاویزات کے مطابق ڈیمجانجک 26 مارچ 1943 کو سوبیبور کے قتل و غارت کے مرکز، اور یکم اکتوبر 1943 کو فلوسنبرگ کنسنٹریشن کیمپ کے مرکز میں تھا۔ اس کی سوبیبور میں موجودگی کا ثبوت اس کے ٹرونیکی کے شناختی کارڈ اور ڈينیل چینکو کی گواہی سے میل کھاتے تھے۔

نیز، ڈیمجن جک کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے بعد، OSI کی تحقیقی ٹیم کو فلوسنبرگ کے عملے اور انتظامی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے دوران ڈیمجن جک کے نام کے ساتھ اس کے ٹرونیکی کے فوجی شناختی نمبر (1393) کے ساتھ وابستگی کے ثبوت ملے، جس سے ڈیمجن جک کے فلوسنبرگ میں مامور ہونے متعلق ڈینیل چینکو کی گواہی کی تصدیق بھی ہوگئی۔

1991 میں موسم گرما کے دوران کسی لیتھوینین پولیس کے بٹالین سے تعلق رکھنے والی دستاویزات کی تلاش کے دوران ولنیس کے قومی آرکائیو میں اتفاقیہ طور پر ڈیمجن جک کے نومبر 1942 اور مارچ 1943 کے درمیان ماجڈانیک حراستی کیمپ میں مامور دستے میں شمولیت کے ثبوت مل گئے۔

امریکی شہریت بحال کرنے کے بعد دوبارہ منسوخ کر دی گئی
پہلی دفعہ اسرائیل کے حوالے کرنے کے بعد، ڈیمجن جک کے گھروالوں نے OSI کی تحویل میں ڈیمجن جک، ٹرونیکی اور ٹریبلنکا سے تعلق رکھنے والی تمام تحقیقی فائلوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے امریکی عدالتی ادارے میں معلومات کی آزادی کے قانون کے تحت درخواست دائر کر دی۔ یہ فائلیں حاصل کرنے اور مقدمے کئی سال جاری رہنے کے بعد، ڈیمجن جک کی امریکی دفاعی ٹیم نے امریکی حکومت کے خلاف اس کی شہریت منسوخ کرنے والے حکم کو تبدیل کرنے کے لئے مقدمہ دائر کیا، اور OSI پر قانونی عمل میں غلط طریقہ کار اپنانے کا الزام لگایا۔

اس دوران، قانونی اختیار رکھنے کے باوجود، اسرائیلی حکام نے ڈیمجن جک پر سوبیبور کی سرگرمیوں کے سلسلے میں مقدمہ دائر کرنے سے انکار کر دیا اور اسے آزاد کرنے کی تیاری کرنا شروع کر دی۔ جون 1993 میں امریکی اسپیشل ماسٹر کو معلوم ہوا کہ OSI نے جانے بغیر ایسی دستاویز جاری نہیں کی جو 1981 میں اس کے دفاع میں مددگار ثابت ہو سکتی ہو، اور اس بنیاد پر سنسناٹی میں سکستھ سرکٹ کورٹ آف اپیل نے امریکہ کی اٹرنی جنرل، جینٹ رینو، کو ڈیمجن جک کے امریکہ واپس آنے پر پابندی نہ لگانے کا حکم دیا۔ مزید پانچ سال کی مقدمہ بازی کے بعد، کلیولینڈ کی ضلعی عدالت نے 20 فروری 1998 کو تعصب کے بغیر ڈیمجن جک کی امریکی شہریت بحال کر دی، جس کا مطلب تھا کہ OSI نئے ثبوت کی بنیاد پر نیا مقدمہ دائر کر سکتی تھی۔

1991 سے پہلے دستیاب نہ ہونے والے ٹرونیکی سے تعلق رکھنے والی ہزاروں دستاویزات کا توجہ کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد، OSI کی تحقیقی ٹیم کو جنگ کے زمانے کی دستاویزات کے ذریعے 1942 سے لے کر 1945 کے درمیان ڈیمجن جک کے ٹرونیکی میں تربیت حاصل کرنے والے گارڈ اور کنسنٹریشن کیمپ کے گارڈ کی مکمل تاریخ معلوم ہو گئی۔ اس نئے ثبوت کی وجہ سے OSI کی ٹیم کو ہولوکاسٹ کے دوران ٹرونیکی کیمپ کی اہمیت کی دستاویزی شکل میں سمجھ بوجھ کے ساتھ ساتھ کیمپ کے حکام کے عملے کو مامور کرنے کے طریقے کار سے متعلق معلومات بھی حاصل ہوئیں۔

1999 میں OSI نے ڈیمجن جک کی شہریت منسوخ کرنے کی نئی درخواست دائر کی، جس میں اس پر ٹرونیکی، سوبیبور اور ماجڈانیک میں ٹرونیکی میں تربیت حاصل کرنے والے پولیس کے مددگار، اور اس کے بعد فلوسنبرگ میں ایس ایس کے ڈيتھ ہیڈ کے بٹالین کا رکن ہونے کا الزام لگایا گیا۔ اس کے نتیجے میں 2002 میں ایک بار پھر ڈیمجن جک کی امریکی شہریت منسوخ ہو گئی۔ وفاقی اپیل کی عدالت میں اس فیصلے کی تائید کے بعد OSI نے دسمبر 2004 میں جلاوطنی کی کارروائی شروع کر دی۔ ایک سال بعد، دسمبر 2005 میں، امریکی امیگریشن کی عدالت نے ڈیمجن جک کو جلاوطن کر کے یوکرین بھیج دیا۔

ڈیمجن جک نے مختلف بنیادوں پر جلاوطنی کے حکم کی اپیل کرنے کی کوشش کی، اس نے اپنی عمر اور بگڑتی ہوئی صحت کا بہانہ بنا کر دعوی کیا کہ جلاوطنی تشدد کے مساوی ہو گا، جس کے لئے وہ اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف کنوینشن کے تحت تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ 19 مئی 2008 کو امریکی سپریم کورٹ نے اس کی اپیل کا جائزہ لینے سے انکار کر دیا۔ اسی سال، جرمن حکام نے ڈیمجن جک پر سوبیبور میں خدمات انجام دینے کے دوران قتل میں مدد فراہم کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

دوسرا مقدمہ: جرمنی¡ 2009
مئی 2009 میں ڈیمجن جک کو ریاستہائے متحدہ امریکہ سے جرمنی لے جایا گیا۔ وہاں پہنچنے پر، جرمن حکام نے اسے تحویل میں لے کر میونیخ کے اسٹیڈلہائم قیدخانے میں ڈال دیا۔

جولائی 2009 میں جرمن استغاثہ نے ڈیمجن جک پر سوبیبور میں قتل کے لئے مدد فراہم کرنے کے 28060 الزامات لگائے۔ جرمن جیورسڈکشنل اتھارٹی کا فیصلہ اپریل اور جولائی 1943 کے درمیان نیدرلینڈز میں ویسٹربورک کیمپ سے 15 نقل و حمل کی ٹرینوں میں سوبیبور لائے جانے والے افراد کے قتل پر مبنی تھا۔ ان میں 1930 کی دہائی میں ہولینڈ فرار ہونے والے جرمن شہری بھی شامل تھے۔

89 سالہ ڈیمجن جک نے دعوی کیا کہ اس کی صحت عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کی اجازت نہيں دیتی، لیکن عدالت نے حکم جاری کیا کہ مقدمے کو روزانہ 90، 90 منٹ کے دو سیشن میں تقسیم کیا جائے۔ نومبر 2009 میں وہ دوبارہ عدالتی کٹہرے میں کھڑا ہو گیا۔ اس مقدمے کے دوران ڈیمجن جک کے خلاف ثبوت کا انحصار بچنے والوں کی گواہی کے بجائے سوبیبور میں اس کی خدمات کے دستاویزی ثبوت پر تھا۔ سابقہ گواہان کا انتقال ہونے کی وجہ سے میونخ کی عدالت نے اجتماعی قتل کے حقائق تلاش کرنے اور نشانہ بننے والے بیشتر افراد کی شناخت اور شہریت معلوم کرنے کے کے لئے کارروائی کے دوران بچنے والوں کی گواہی پڑھ کر سنانے کی اجازت دے دی۔

16 ماہ جاری رہنے والے اس مقدمے کے بعد، مارچ 2011 کے درمیانی حصے میں کارروائی ختم ہو گئی۔ 12 مئی 2011 کو ڈیمجن جک کو قصور وار ٹھہرا کر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس سزا کے خلاف اپیل کے فیصلے کے انتظار میں اسے رہا کر دیا گيا۔ 17 مارچ 2012 کو ڈیمجن جک کا جرمنی کے ایک نرسنگ ہوم میں انتقال ہو گیا۔

بین الاقوامی دلچسپی
جان ڈیمجن جک پر چلائے جانے والے مقدمے تین دہائیوں تک عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہے ہيں۔ یہ قانونی جنگیں تاریخی ریکارڈ اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لئے انصاف کی تلاش کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتی ہیں۔