Group portrait of women and children standing outside in Warsaw before the war.

وارسا

پولینڈ کا دارالحکومت وارسا شہر دریائے وسٹولا کے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ آباد ہے۔ 13 لاکھ باسیوں کا یہ شہر 1919 میں دوبارہ تشکیل پانے والی ریاست پولینڈ کا دارالحکومت ہے۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے یہ شہر پولینڈ میں یہودیوں کی فعال زندگی اور ثقافت کا بڑا مرکز تھا۔ جنگ سے پہلے وارسا میں تین لاکھ پچاس ہزار یہودی آباد تھے۔ یہ تعداد وارسا کی کل آبادی کا تقریباً 30 فیصد تھا۔ وارسا کی یہودی برادری پولینڈ اور یورپ دونوں میں سب سے بڑی یہودی برادری تھی اور نیویارک کے بعد یہ دنیا کی سب سے بڑی یہودی آبادی تھی۔

یکم ستمبر 1939 کو پولینڈ پر جرمنی کے حملے کے بعد وارسا پر شدید فضائی حملے ہوئے اور بھاری گولہ باری بھی ہوتی رہی۔ جرمن فوجی وارسا کے ہتھیار ڈال دینے کے کچھ ہی دیر بعد شہر میں داخل ہو گئے۔

اِس کے ایک ہفتے کے بعد جرمن حکام نے یہودی انجینئر ایڈم زرنئیکوف کی سربراہی میں جیوڈن ریٹ کے نام سے ایک یہودی کونسل کی تشکیل کا حکم دیا۔ یہودی کونسل کے چئرمین کی حیثیت سے زرنئیکوف کو کچھ ہی دیر بعد تشکیل پانے والی یہودی نسلی آبادی یعنی گھیٹو کیا انتظام سنبھالنا تھا اور جرمن احکام پر عملدرآمد کرانا تھا۔ 23 نومبر 1939 کو جرمنی کے شہری قابض حکام نے وارسا کے یہودیوں کیلئے یہ لازمی قرار دے دیا کہ وہ اپنے بازوؤں پر سفید پٹی باندھیں جس پر حضرت داؤد کا نیلا ستارہ ہو تاکہ وہ دوسروں سے الگ دکھائی دیں۔ جرمن حکام نے یہودیوں کے اسکول بند کر دئے، یہودیوں کی املاک ضبط کر لیں، یہودی مردوں کو جبری مشقت کیلئے بھرتی کیا اور جنگ سے پہلے کی یہودی تنظیموں کو ختم کردیا۔

وارسا کی نسلی بستیاں یعنی گھیٹو

12 اکتوبر 1940 کو جرمنوں نے وارسا میں یہودی نسلی بستی کی تشکیل کا حکم جاری کیا۔ اِس حکمنامے کے تحت وارسا کے تمام یہودیوں کیلئے یہ لازمی قرار دے دیا گیا کہ وہ مذکورہ یہودی بستی میں منتقل ہو جائیں۔ نومبر 1940 میں جرمن حکام نے اِس بستی کو سیل کرتے ہوئے باقی تمام تر شہر سے مکمل طور پر کاٹ دیا۔ اِس بستی کے گرد دس فٹ سے زیادہ اونچی دیوار کھڑی کر دی گئی جس کے اوپر خاردار تاریں بچھائی گئیں۔ اِس بستی کی سختی سے نگرانی کی جاتی تاکہ بستی اور باقی شہر کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی نقل و حرکت نہ ہو سکے۔ قریبی شہروں اور قصبوں سے بھی یہودیوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اِس بستی میں منتقل ہو جائیں۔ یوں بستی کی آبادی بڑھ کر ایک اندازے کے مطابق چار لاکھ سے زیادہ ہو گئی۔ جرمن حکام نے بستی کے رہائشیوں کو 1.3 مربع میل کے چھوٹے رقبے میں رہنے پر مجبور کر دیا جہاں ایک کمرے میں اوسطاً 7.2 لوگ رہتے تھے۔

یہودی کونسل کا دفتر یہودی بستی کے جنوبی حصے میں گرزیبوسکا سٹریٹ پر واقع تھا۔ بستی کے اندر موجود یہودی تنظیموں نے اپنی بقا کیلئے جدوجہد کرنے والے یہودیوں کی ضروریات پوری کرنے کی مقدور بھر کوشش کی۔ جو یہودی تنظیمیں اِس بستی میں فعال تھیں اُن میں جیوئش میوچوئل ایڈ سوسائٹی، پولینڈ میں یتیموں کی دیکھ بھال کیلئے ایسوسی ایشنوں کی فیڈریشن اور تربیت کے ذریعے بحالی کی تنظیم شامل ہیں۔ اِن تنظیموں کی مالی ضروریات بنیادی طور پر نیو یارک میں قائم امریکن جیوئش جائینٹ ڈسٹری بیوشن کمیٹی پوری کرتی تھی اور اِن تنظیموں نے ایک ایسی آبادی کو اپنی زندگی برقرار رکھنے میں مدد دی جو بھوک، افلاس اور متعدی بیماریوں کی ستائی ہوئی تھی۔

جرمن شہری حکام کی طرف سے بستی کے لوگوں کیلئے جو راشن فراہم کیا جاتا تھا وہ اتنی قلیل مقدار میں تھا کہ اُس سے زندگی برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔ 1941 میں اِس بستی کے لوگوں کو اوسطاً 1125 حراروں کے برابر یومیہ خوراک ملتی تھی۔ زرمئیکوف نے 8 مئی 1941 کو اپنی ڈائری میں لکھا ہے "بچے بھوک سے مر رہے ہیں"۔ 1940 سے 1942 کے وسط تک 83000 یہودی بھوک اور بیماری سے ہلاک ہو ئے۔ وسیع پیمانے پر بستی میں خوراک اور دواؤں کی سمگلنگ سے قلیل سرکاری راشن کی کمی سے پیدا ہونے والی صورتِ حال قدرے بہتر ہوئی جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی رفتار مذید نہیں بڑھی۔

وارسا میں رہنے والے ایک تاریخ دان ایمینوئل رنگل بلوم یہودیوں کی اپنی مدد آپ کی کوششوں کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے ایک خفیہ تنظیم کی بنیاد رکھی جس نے جرمن مقبوضہ پولینڈ میں رونما ہونے والے واقعات کی صحیح صورتِ حال رکارڈ کی جب وہاں یہ یہودی بستی موجود تھی۔ اِس ریکارڈ کو "اونیک شبّت" یعنی "سباتھ کا جشن" کہا جانے لگا۔ یہ رنگل بلوم کی تاریخی دستاویز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جنگ کے بعد اِس تاریخی دستاویزکا کچھ حصہ ہی دستیاب ہو سکا تھا لیکن پھر بھی رنگل بلوم دستاویز اُس یہودی بستی کی زندگی اور پولینڈ کے یہودیوں کے بارے میں جرمن پالیسی کے حوالے سے ایک نہایت قیمتی سرمایہ ہے۔

22جولائی سے 12 ستمبر 1942 کے دوران جرمن ایس ایس اور پولیس یونٹوں نے نیم فوجی دستوں کی مدد سے وارسا کی یہودی بستی سے یہودیوں کو بڑی تعداد میں ٹریبلنکا کی قتل گاہ پہنچایا۔ اِس مدت کے دوران جرمنوں نے تقریباً 265000 یہودیوں کو وارسا سے ٹریبلنکا پہینچایا۔ اِس کاروائی کے دوران اُنہوں نے بستی کے اندر بھی تقریباً 35000 یہودیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا۔

جنوری 1943 میں ایس ایس اور پولیس دستے وارسا لوٹ آئے۔ اِس دفعہ اُن کا مقصد بستی میں باقی رہ جانے والے 70000 سے 80000 یہودیوں کو گورنمنٹ جنرل کے لُبلنگ ڈسٹرکٹ میں قائم یہودیوں کے جبری مشقت کے کیمپ میں پہنچانا تھا۔ تاہم اِس مرتبہ بہت سے یہودی جائز طور پر یہ سمجھ رہے تھے کہ ایس ایس اور پولیس اُنہیں ٹریبلنکا کی قتل گاہ بھیجے گی۔ لہذا اُنہوں نے مزاحمت کی۔ کچھ لوگوں نے بستی کے اندر سمگل کئے گئے چھوٹے ہتھیار بھی استعمال کئے۔ 5000 کے لگ بھگ یہودیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ایس ایس اور پولیس کے دستوں نے کارروائی روک دی اور وہ واپس چلے گئے۔

19 اپریل 1943 کو ایس ایس اور پولیس کے نئے دستے یہودی بستی کی دیواروں کے باہر نمودار ہوئے جن کا مقصد یہ تھا کہ بستی کو ختم کر کے بستی میں موجود باقی ماندہ یہودیوں کو لوبلن ڈسٹرکٹ میں واقع جبری مشقت کے کیمپ میں منتقل کیا جائے۔ بستی کے مکینوں نے کارروائی کے پہلے روز منظم طریقے سے مظاحمت کی اور مکمل طور پر مسلح اور تمام ضروری سازوسامان سے لیس ایس ایس اور پولیس دستوں کو جانی نقصان پہنچایا۔ اُنہوں نے انفرادی سطح پر اور چھوٹے گروپوں کی شکل میں مزاحمت مذید چار ہفتوں تک جاری رکھی اور بالآخر 16 مئی کو جرمنوں نے یہ کارروائی ختم کردی۔ اِس سے پہلے ایس ایس اور پولیس نے اپنی کارروائی کے دوران وارسا کی اس بستی میں بچ جانے والے تقریباً 42000 یہودیوں کو پکڑا اور اُنہیں پونئیٹووا اور ٹرانیکی کے جبری مشقت کے کیمپوں اور لوبلن اور مجدانیک کے ایزاں رساں کیمپوں میں بھجوا دیا۔ تقریباً 7000 یہودی لڑتے ہوئے اور بستی میں چھپنے کی کوشش کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ایس ایس اور پولیس نے مذید 7000 کو ٹریبلنکا کی قتل گاہ میں بھجوا دیا۔

وارسا کی اِس یہودی بستی کو مسمار کئے جانے کے کئی ماہ تک کچھ یہودی انفرادی طور پر بستی کے کھنڈرات میں چھپے رہے اور جب بھی موقع ملتا وہ وہاں سے گزرنے والے جرمن پولیس اور حکام کے دستوں پر حملے کرتے۔ بستی کے خاتمے کے بعد وارسا کے قریب قریب 20000 یہودی وارسا کے اُس حصے میں چھپے رہے جسے آرین علاقہ کہا جاتا تھا۔

یکم اگست 1944 کو پولش ھوم آرمی یا " آرمیہ کراجووا اے کے" وارسا کو آزاد کرانے کی غرض سے جرمن قابض فوجوں کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی۔ یہ ایک غیر اشتراکی خفیہ مزاحمتی فوج تھی جس کا وجود تمامتر جرمن مقبوضہ پولینڈ میں قائم تھا۔ اِس مزاحمت کی حوصلہ افزائی کی وجہ یہ بھی تھی کہ دریائے وسٹولا کے مشرقی کنارے پر سوویٹ فوج پہنچ چکی تھی۔ سوویٹ فوجیں مداخلت نہ کر پائیں اور یوں جرمنوں نے بالآخر بغاوت کو کچل دیا اور اکتوبر 1944 میں شہر کے مرکز کو مسمار کر دیا۔ اگرچہ جرمنوں نے گرفتار ہونے والے ھوم آرمی کے لڑاکا افراد کو جنگی قیدی قرار دیا اُنہوں نے پولینڈ کے گرفتار شدہ ھزاروں شہریوں کو ریچ کے جبری کیمپ میں بھجوا دیا۔ اِس بغاوت کے دوران 166000 افراد مارے گئے جن میں 17000 کے لگ بھگ پولینڈ کے وہ یہودی بھی شامل تھے جو یا تو اے کے کے ساتھ لڑے تھے یا پھر چھپنے کے دوران اُنہیں ڈھونڈ لیا گیا تھا۔

پھر جب سوویت فوجوں نے 17 جنوری 1945 کو اپنے حملوں کا دوبارہ آغاز کیا تو اُنہوں نے تباہ شدہ وارسا کو آزاد کرا لیا۔ پولینڈ کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں صرف 174000 لوگ رہ گئے تھے۔ یہ تعداد جنگ سے پہلے کی شہری آبادی کا صرف 6 فیصد تھا۔ ایک اندازے کے مطابق زندہ بچ جانے والوں میں سے 11500 یہودی تھے۔