ایڈولف ہٹلر جنوری سن 1933 میں جرمنی کا چانسلر بنا۔ اس کے فوری بعد نازیوں کے مخالفوں پر دہشت گرد کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ ان کارروائیوں میں یہودی بڑے ہدف تھے۔ بہت سے یہودیوں کو سر عام رسوا کیا گیا یا اُنہیں گرفتار کیا گیا جبکہ دوسروں کو اپنے عہدے چھوڑ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ یہودی مخالف اقدامات اس وقت عروج پر پہنچ گئے جب یکم اپریل 1933 کو یہودیوں کے زیر ملکیت کاروباروں کا بائیکاٹ شروع کر دیا گیا۔ اس فوٹیج میں شکاگو میں یہودیوں کی طرف سے نازیوں کے خلاف نکالے گئے مارچ کو دکھایا گیا ہے۔
آئٹم دیکھیںامریکہ میں امریکی یہودی کانگریس ان پہلی جماعتوں میں سے ایک تھی جس نے نازیوں کی مخالفت کی۔ اس نے ہٹلر کے اقتدار حاصل کرنے کے فوری بعد مارچ 1933 میں ایک اجتماعی ریلی نکالی۔ اُس نے جنگ کے تمامتر عرصے کے دوران احتجاجی ریلیاں نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ امریکن یہودی کونسل نے نازیوں کے خلاف اس مارچ کا اہتمام لوئر مین ھیٹن میں کیا۔ اس مارچ کے وقت جرمنی میں کتابوں کو جلائے جانے کے اقدامات جاری تھے۔
آئٹم دیکھیں9 نومبر، 1938 کو نازیوں نے یہودیوں کے خلاف ملکی سطح پر پوگروم یعنی منظم قتل عام کا سلسلہ شروع کیا۔ اس منظم قتل عام کے دوران، جسے کرسٹل ناخٹ یعنی ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات کے نام سے جانا جاتا ہے، حملہ آ ور فوجیوں کے دستوں (ایس اے) نے یہودیوں کے زیرِ ملکیت ہزاروں کاروباری مراکز اور سینکڑوں یہودی عبادت گاہوں کو تباہ کردیا۔ اس دوران تقریبا 100 یہودیوں کو قتل کردیا گيا۔ اس فوٹیج میں نیویارک میں ایک احتجاجی ریلی کا منظردکھایا گیا ہے۔ یہودی ربی اسٹیفن ایس وائز نے امریکہ میں یہودی برادری کی طرف سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس تشدد کے خلاف سرکاری سطح پر امریکی احتجاج کے ایک حصے کے طور پر صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے جرمنی سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا۔
آئٹم دیکھیںجب نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام کی خبریں امریکہ پہنچیں تو یہودیوں کی مدد کرنے کیلئے روزویلٹ انتظامیہ پر زبردست دباؤ پڑا۔ عمل کو تحریک دینے کیلئے ڈرامہ نگار بین ھیچٹ نے یہودیوں کے ظلم و ستم کا شکار بننے والے یہودیوں کے حوالے سے ایک یادگار ڈرامہ تیار کیا، "ہم کبھی نہیں مریں گے۔" یہ جلوس جس کا اہتمام صہیونی رویژنسٹ برگسن گروپ نے کیا تھا، نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں اجتماعی مظاہرے کا ایک حصہ تھا۔ بعد میں یہ پروگرام امریکہ کے دوسرے شہروں میں بھی ہوا۔ یہ شو برگسن گروپ کی اُن کوششوں کا ایک حصہ تھا جس کے ذریعے واشنگٹن پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ یورپ میں بچے ہوئے مظلوم یہویوں کو بجانے کیلئے مناسب اور حتمی قدم اٹھائے۔
آئٹم دیکھیںفرانس کے شہر ایویان کے رائل ہوٹل میں 6 جولائی سے 15 جولائی 1938 کو 32 ملکوں کے سیاسی وفود جمع ہوئے تاکہ وہ یہودی ہجرت کے مسئلے پر بات چیت کر سکیں۔ جرمنی میں موجود پناہ گزیں نازیوں کے ظلم و ستم سے بچ کر بھاگنے کی لئے بے چین تھے لیکن وہ کسی دوسرے ملک میں آباد ہونے کی اجازت حاصل کئے بغیر جرمنی چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ ایویان کانفرنس کے نتیجے میں اکثر شریک ملکوں کی ہجرت کی پالیسیوں میں کوئی خاص قسم کی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ امریکہ، برطانیہ عظمیٰ اور فرانس جیسی بڑی طاقتوں نے آسان ہجرت کی پالیسی کی مخالفت کی۔ اُنہوں نے یہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمن یہودی ہجرت کے مسئلے کو آسان کرنے کیلئے کوئی سرکاری قدم اُٹھانا نہیں چاہتے۔
آئٹم دیکھیں
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.