متحرک نقشہ

بچاؤ

یورپ کے بیشتر لوگوں کے خوف یا بے حسی کے باوجود ایک بہادر اقلیت نے نازیوں کے مقبوضہ یورپ میں یہودیوں کی مدد کرنے کی خاطر اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔ بچاؤ کے اقدامات کی کئی جہتیں تھیں۔ 1943 کے موسم خزاں میں ڈنمارک کی مزاحمتی تحریک نے ڈنمارک کے تقریباً تمام یہودیوں کو حفاظت کی غرض سے بحری جہازوں کے ذریعے غیر جانبدار ملک سویڈن پہنچا دیا۔ دوسرے ملکوں میں گرجا گھروں، یتیم خانوں اور کئی خاندانوں نے یہودیوں کو چھپایا یا پہلے سے چھپے ہوئے یہودیوں کی مدد کی۔ سویڈن کے سفارتکار راؤل والنبرگ اور دوسرے افراد نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودیوں کی جانیں بچائیں۔ تاہم اس طرح کے شعوری اور جرات آمیز اقدامات سے تباہی کیلئے ہدف بننے والوں کی بہت قلیل تعداد کو ہی بچایا جا سکا۔

مکمل نقل

ہالوکاسٹ کے دوران جرمنی کے مقبوضہ علاقے میں ہزاروں عام لوگوں نے یہودیوں کی مدد کرنے کیلئے اپنے آپ کو خطرے میں ڈالا۔

اگست 1943 میں ڈنمارک کی حکومت جرمن مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے مستعفٰی ہو گئی۔ جرمن پولس نے یکم اکتوبر1943 کی رات سے یہودیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔

مقبول عام احتجاج گرجا گھروں، ڈنمارک کے شاہی خاندان اور سماجی و اقتصادی تنظیموں کی طرف سے سامنے آئے۔

اکتوبر کے دوران ڈینش مزاحمت نے جس کو بہت سے شہریوں کی حمایت حاصل تھی، یہودیوں کو چھپایا اور ان کو خفیہ طور پر ساحلی شہروں میں بھیج دیا۔

ملاحوں نے چھوٹی کشتیاں استعمال کرتے ہوئے 7200 یہودیوں کو غیر جانبدار ملک سویڈن کے محفوظ علاقے میں پہنچا دیا۔ اِن میں تقریباً تمام ہی افراد ڈنمارک کی یہودی آبادی سے تعلق رکھتے تھے۔

جنوبی فرانس میں لی چیمبون۔ سر۔ لیگنون گاؤں اور قریبی شہروں نے بہت سے بچوں سمیت ہزاروں یہودیوں کو پناہ دی۔

مکینوں نے یہودیوں کو پناہ دینے کیلئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دئے اور بہتوں کو بحفاظت غیرجانبدار ملکوں میں پہنچا دیا۔

یہ آبادی جو تقریباً مکمل طور پر پروٹیسٹنٹ ھیوگوناٹ عقیدہ رکھنے والوں پر مشتمل تھی، ظلم و ستم کا شکار لوگوں کیلئے اپنے مذہبی عقائد اور ہمدردی کے جذبات سے بھرپور تھی۔

یہودیوں کو بچانے کی اِن غیر معمولی کوششوں سے پڑوسیوں کے مضبوط تعاون کا اظہار ہوتا ہے۔ اُنہوں نے یہ تعاون اپنے درمیان موجود مخبروں کے خطرے کے باوجود فراہم کیا۔

یہودیوں کو بچانے والے دوسرے افراد نے مقبوضہ یورپ سے باہر نکلنے کے راستوں کے تعین میں مدد فراہم کی۔

امریکی صحافی ویرین فرائی نے اپنے مقام مارسے سے اُن یہودی پناہ گزینوں کی زندگی بچائی جو جرمن حملے کے باعث فرانس میں محصور ہو گئے تھے۔

فرائی کے ساتھیوں کے نیٹ ورک نے جعلی سفری دستاویزات بنائیں اور فرار کیلئے خفیہ راستے تلاش کئے۔ فرائی نے فسطائیت کے مخالف یہودی اور غیر یہودی پناہ گزینوں کی مدد کی جن میں مصور مارک چیگل، کیتھولک فلسفی ایل فریڈو مینڈی زابیل اور مصنف حنا ارینڈٹ جیسے فنکار اور دانشور بھی شامل تھے۔

فرائی کی مستقل نگرانی ہوتی رہی اور اُنہیں بار بار حراست میں لیا گیا اور اُن سے پوچھ گچھ ہوتی رہی۔

اُن کی خفیہ سرگرمیوں سے امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور وکی فرانس کے اہلکار اشتعال میں آ گئے اور ستمبر 1941 میں اُنہیں فرانس سے ملک بدر کر دیا گیا۔

فرائی اگرچہ فرانس میں صرف 13 مہینے رہے لیکن اُنہوں نے اس قلیل مدت میں 2000 لوگوں کو بچایا۔

دوسرے غیر یہودیوں نے نسل کشی سے متعلق نازیوں کے منصوبوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی تاکہ اتحادی قوتوں کو سرگرم عمل کیا جا سکے۔

رومن کیتھولک جان کرسکی پولینڈ کی خفیہ تنظیم کے رکن تھے۔ ایک پیغام رساں کی حیثیت سے اُن کا حافظہ غیر معمولی تھا۔ اُنہوں نے خفیہ تنظیم کے خفیہ پیغامات پولینڈ کی جلاوطن حکومت کو پہنچائے۔

وہ وارسا کی یہودی بستی یعنی گھیٹو اور اِزبیکا کے عارضی کیمپ میں خفیہ طور پر آتے جاتے رہے اور اُنہوں نے وہاں یہودیوں پر ڈھائے جانے والے خوفناک مظالم کا خود مشاہدہ کیا۔

1942 میں اُنہوں نے لندن میں قائم پولینڈ کی جلاوطن حکومت اور اعلٰی برطانوی حکام کو یورپی یہودیوں کو ہلاک کرنے سے متعلق نازی جرمنی کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔

1943 میں اُنہوں نے وہی پیغام صدر فرینکلن ڈی۔ روزویلٹ کو بھی پہنچایا۔ لیکن اُن کی تنبیہات پر کوئی اعتبار نہیں کیا گیا اور ان کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔

بوڈاپیسٹ ہنگری میں سویڈن کے سفارتکار راؤل والن برگ نے یہودیوں کو بچانے کی ایک بڑی کارروائی کی قیادت کی۔

والن برگ نے جولائی 1944 میں سویڈن کے حفاظتی پاسپورٹ تقسیم کرنے شروع کئے اور 30 سے زائد محفوظ گھروں کا انتظام کیا۔

نومبر 1944 میں بوڈاپیسٹ سے آسٹریا میں قائم جبری کیمپوں تک یہودیوں کے موت کے مارچ کے دوران والن برگ نے اُن لوگوں کو چھڑایا جن کے پاس محفوظ پاسپورٹ یا جعلی دستاویزات موجود تھیں۔ اُنہوں نے اور اُن کے ساتھیوں نے ھزاروں یہودیوں کی زندگیاں بچائیں۔

جنوری 1945 میں راؤل والن برگ اس وقت اچانک لاپتہ ہو گئے جب وہ سوویت حکام سے ملنے جا رہے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یا تو وہ انتقال کر گئے یا پھر اُنہیں سوویت جیل میں ہلاک کر دیا گیا۔

یہودیوں کو بچانے کی یہ اور اِس طرح کی دیگر کوششیں زبردست جرات، حوصلے اور مالی مدد کے باوجود نازیوں کو قتل عام کے منصوبے جاری رکھنے سے نہیں روک پائیں۔

ہدف بننے والی برادریوں کے صرف ایک چھوٹے سے حصے کو ہی بچایا جا سکا۔ اکثر یورپی لوگوں نے نہ تو نازیوں کے "حتمی حل" میں مدد کی اور نہ ہی اِس میں کوئی رکاوٹ ڈالی۔

وہ خاموشی سے لاکھوں افراد کی موت کا منظر دیکھتے رہے۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum

Share This