متحرک نقشہ

وارسا گھیٹو

دوسری جنگ عظیم سے قبل وارسا پولینڈ میں یہودی زندگی اور ثقافت کا مرکز تھا۔ جنگ کے دوران نازیوں نے 400 گھیٹو یعنی یہودی بستیاں قائم کیں جہاں اُنہوں نے یہودیوں کو بھیڑ میں انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں رہنے پر مجبور کر دیا۔ایک وقت میں وارسا یہودی بستی میں، جو یورپ میں سب سے بڑی یہودی بستی تھی، چار لاکھ سے زائد یہودی موجود تھے جو مسلسل زندہ رہنے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔

مکمل نقل

جنگ سے قبل کی تین لاکھ پچاس ھزار کی یہودی آبادی کے تناظر میں وارسا ایک ایسی جگہ تھی جہاں یورپ کی سب سے بڑی یہودی برادری موجود تھی اور جو پولینڈ میں یہودی زندگی اور ثقافت کا ایک اہم مرکز تھا۔

یہ شہر ستمبر 1939 کے آخر میں جرمن فوجوں کے غلبے میں آ گیا۔

اکتوبر 1940 کے آغاز میں جرمن فوجوں نے وارسا کے یہودیوں کو گھیٹو یعنی یہودی بستی میں رہنے پر مجبور کر دیا۔ یہ یہودی شہر کی کل آبادی کے تقریباً 30 فیصد کے برابر تھے جنہیں شہر کے محض 2.4 فیصد رقبے میں محدود کر دیا گیا۔

وارسا کے باقی علاقوں میں آنے جانے کو روکنے کی خاطر یہودی بستی کی سخت نگرانی کی جاتی تھی اور اس کے ارد گرد 10 فت اونچی دیواریں کھڑی کر دی گئی تھی۔

یہودی بستی کے ناگفتہ بہ حالات میں رہنے والے مکین زندہ رہنے کیلئے سخت جدوجہد کر ہے تھے۔

جولائی 1942 میں جرمنوں نے ٹریبلنکا کی قتل گاہ میں جلاوطنیاں شروع کر دیں۔ یہ قتل گاہ وارسا سے تقریباً 50 میل شمال مشرق میں تھی۔

یہودی بستی کے رہائشیوں کو ایک مقام پر جمع ہونے پر مجبور کیا جاتا اور پھر مال گاڑی کے ڈبوں میں ٹھونس دیا جاتا۔ جب وہ ٹریبلنکا پہنچتے تو اُن میں سے بیشتر کو قتل کر دیا جاتا۔

ستمبر 1942 تک یہودی بستی کی آبادی کم ہو کر تقریباً 55,000 رہ گئی۔

جنوری 1943 میں جرمنوں نے یہودی بستی سے جلاوطنیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا۔

یہودی بستی کے اندر موجود خفیہ یہودی مزاحمتی گروپوں نے پکڑ دھکڑ کے خلاف سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا۔ جرمنوں نے یہ اپریشن روکنے سے قبل 6,500 یہودیوں کو جلاوطن کر دیا۔

اگلے چند مہینوں کے دوران مزاحمتی گروپوں اور افرادی سطح پر لوگوں نے بنکر تعمیر کئے اور اسلحہ کے حصول کیلئے کوششیں کیں۔

جب اپریل 1943 میں جلاوطنیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو یہودی بستی میں بڑھتی ہوئی تعداد میں لوگوں نے بغاوت میں حصہ لیتے ہوئے لڑنا شروع کر دیا۔ یہ لڑائی تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی۔

آخر میں جرمنوں نے چھپے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی خاطر یہودی بستی کو آگ لگا دی۔

جرمنوں نے 16 مئی 1943 کو بغاوت کو کچل دیا اور یہودی بستی کو جلا کر راکھ کر دیا۔ زندہ بچ جانے والے رہائشیوں کو حراستی کیمپوں یا قتل گاہوں میں جلا وطن کر دیا گیا۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum

Share This