نسل پرستی (مقالے کی تلخیص)

نسل پرست ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو یہ سمجھتے ہيں کہ فطری، اور ورثے میں ملنے والی خصوصیات انسانی سلوک کا تعین کرتی ہیں۔ نسل پرستی کے نظریے کے مطابق خون قومی اور نسلی شناخت کی نشانی ہے۔ نسل پرستی, جس میں نسلی سام دشمنی (یعنی غلط حیاتیاتی نظریوں کی بنیاد پر یہودیوں کے خلاف تعصب یا نفرت)، ہمیشہ ہی جرمن قومی سوشلزم (نازی ازم) کا اہم حصہ رہ چکا تھا۔ نازیوں نے تمام انسانی تاریخ کو مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان حیاتیاتی طور پر متعن کردہ جدوجہد کے طور پر سمجھا۔ نازیوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد 1935 میں نیورمبرگ قوانین جاری کئے جس میں یہودی پن کی مفروضہ طور پر حیاتیاتی تعریف بیان کی گئی تھی۔ نازیوں کے نسلی نظریے کے مطابق، جرمن اور دوسرے شمالی یورپی "آرین" تھے، جو ایک اعلی نسل تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی طبیبوں نے جعلی طبی تجربات کے ذریعے آرین برتری اور غیرآرین کمتری کے جسمانی ثبوت کے شناخت کی۔ ان تجربات کے دوران ان گنت غیر آرین قیدیوں کے جاں بحق ہونے کے باوجود نازیوں کو انسانوں کے مابین حیاتیاتی نسلی اختلافات کے نظریوں کے لئے کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

نازی نسل پرستی کا نتیجہ ایک بے مثال پیمانے پر قتل و غارت تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی قیادت نے پولینڈ اور سوویت یونین کے مقبوضہ مشرقی علاقوں میں ایک مہم کا آغاز کیا جسے انہوں نے "نسلی صفائی" کا نام دیا۔ اس پالیسیوں میں دشمن "نسلوں "کی نسل کشی اورانکا قتل شامل تھا۔ اس کے علاوہ جس میں یورپی یہودوں کی نسل کشی اور سلاوک لوگوں کی قیادت کا خاتمہ کرنا بھی شامل تھا۔ نازی نسل پرست جسمانی اور ذہنی بیماری رکھنے والے افراد کو آرین نسل کی پاکیزگی کے لئے حیاتیاتی خطرہ سمجھتے تھے۔ ہوشیار منصوبہ بندی کے بعد جرمن طبیبوں نے پورے جرمنی میں ایک ایسی کارروائی کے دوران مرکزوں میں رہنے والے معذور لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا جسے انتہاٰی چالاکی سے "رحمانہ قتل" کا نام دیا گیا۔