
قوموں میں راستباز
قوم کے درمیان راستباز وہ غیر یہودی افراد ہیں جنہیں اسرائیل کے ہولوکاسٹ یادگاری ادارے یاد وشیم کی جانب سے ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کی مدد کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔
اہم حقائق
-
1
1963 میں ہولوکاسٹ کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن قائم کیا گیا تاکہ قوموں کے درمیان راستباز کا اعزاز دینے کے لیے معیار مقرر کیے جا سکیں۔
-
2
قوموں کے درمیان راستباز کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہودیوں کی مدد کرنے کے پیچھے فرد کی اصل نیت انہیں بچانا ہو، نہ کہ کوئی ذاتی فائدہ حاصل کرنا۔
-
3
جن افراد کو قوموں کے درمیان راستباز قرار دیا جاتا ہے، انہیں اسرائیل کی اعزازی شہریت عطا کی جاتی ہے۔
پسِ منظر
1953 میں اسرائیل کی پارلیمان کنیسٹ نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت یاد وشیم کو ملک کی شہداء اور ہیروز کی یادگاری اتھارٹی کے طور پر قائم کیا گیا۔ اس ادارے کی ذمہ داریوں میں ہولوکاسٹ کے دوران نازیوں اور ان کے معاونین کے ہاتھوں قتل کیے گئے ساٹھ لاکھ یہودیوں کی یاد منانا، یہودی مزاحمتی مجاہدین کو خراجِ تحسین پیش کرنا، اور اُن “عالی ظرف غیر یہودیوں” کو اعزاز دینا شامل تھا جنہوں نے یہودیوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔
قوموں کے درمیان راستباز کا عنوان یہودی روایت (دانشمندوں کے ادب) سے ماخوذ ہے، جس میں اُن غیر یہودیوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے ضرورت کے وقت یہودی قوم کی مدد کی۔
ایونیو آف دی رائٹس—وہ مقام جہاں جان بچانے والوں کی یاد میں درخت لگائے جاتے ہیں—کو 1962 میں یومِ یادِ ہولوکاسٹ کے موقع پر افتتاح کیا گیا۔ اگلے برس سپریم کورٹِ اسرائیل کے ایک رکن کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیا تاکہ قوموں کے درمیان راستباز کا اعزاز دینے کے لیے معیار طے کیے جا سکیں۔ یکم فروری کو جسٹس موشے لانداؤ نے کمیشن کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔
غور کرنے کا معیار
یاد وشیم نے قوموں کے درمیان راستباز کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے امیدوار کے لیے چار بنیادی شرائط مقرر کی ہیں۔
اوّل، مدد کرنے والا شخص یہودیوں کو موت کے خطرے، جبری ملک بدری، حراستی کیمپوں یا قتل گاہوں میں بھیجے جانے سے بچانے میں عملی طور پر شامل رہا ہو۔ دوم، یہودیوں کو بچانے کی کوشش میں اُس نے اپنی جان یا آزادی کو خطرے میں ڈالا ہو۔ سوم، بچاؤ کی اصل نیت ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کی حفاظت اور جان بچانا ہو۔ ایسے دیگر محرکات کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا، جیسے مالی فائدہ حاصل کرنا، یہودیوں کو عیسائیت میں تبدیل کرنے کے مقصد سے تحفظ دینا، گود لینے کی نیت سے کسی یہودی بچے کو ساتھ لے جانا، یا ایسی مزاحمتی سرگرمیوں کے دوران افراد کو بچانا جن کا مقصد واضح طور پر یہودیوں کو بچانا نہ ہو۔
آخر میں، بچائے گئے افراد کی جانب سے عینی شہادت موجود ہونا ضروری ہے تاکہ فرد کے کردار کی تصدیق ہو سکے۔ اگر ایسی شہادت موجود نہ ہو یا دستیاب نہ بن سکے، تو پھر بچاؤ میں فرد کی شرکت اور اس سے متعلق حالات کے ناقابلِ تردید دستاویزی شواہد ہونا لازم ہیں۔
اگرچہ قوموں کے درمیان راستباز نے یہودیوں کو بچانے کے لیے مختلف انداز اختیار کیے، تاہم یاد وشیم ان افراد کی جانب سے یہودی برادری کی مدد کے چار نمایاں طریقے بیان کرتا ہے۔ اوّل، بعض افراد نے یہودیوں کو اپنے گھروں یا اپنی جائیداد پر چھپا کر رکھا اور چھپنے کے دوران انہیں خوراک اور دیگر ضروریات فراہم کیں۔ دوم، کچھ قوموں کے درمیان راستباز نے جن افراد کو بچایا، ان کے لیے جعلی کاغذات اور جعلی شناختیں حاصل کیں۔ سوم، یاد وشیم کے مطابق تیسرے درجے کے مددگار وہ تھے جنہوں نے یہودیوں کو نازیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں سے فرار ہونے یا نسبتاً کم خطرناک علاقوں تک پہنچنے میں مدد دی۔ آخر میں، کچھ افراد نے اُن بچوں کو بچایا جن کے والدین کو حراستی کیمپوں میں بھیج دیا گیا تھا یا قتل کر دیا گیا تھا۔
ایوارڈ
جن افراد کو قوموں کے درمیان راستباز قرار دیا جاتا ہے، انہیں اُن کے نام کے ساتھ ایک تمغہ اور ایک اعزازی سند عطا کی جاتی ہے۔ ان کا نام یاد وشیم میں واقع گارڈن آف دی رائٹس کی وال آف آنر پر درج کیا جاتا ہے۔ یاد وشیم قانون کے تحت، یاد وشیم کو اختیار حاصل ہے کہ وہ قوموں کے درمیان راستباز کو اسرائیل کی اعزازی شہریت بھی عطا کرے۔
یہ اعزازات یا تو اسرائیل میں، یا پھر اُن کے ملکِ رہائش میں اسرائیل کے سفارتی نمائندوں کے ذریعے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ اعزازات وفات کے بعد بھی دیے جا سکتے ہیں، اور ایسے معاملات میں مددگار کے اہلِ خانہ کو یہ اعزاز وصول ہوتا ہے۔
مارچ 2025 تک، یاد وشیم 51 ممالک سے تعلق رکھنے والے28,486 افراد کو قوموں کے درمیان راستباز کا اعزاز دے چکا ہے۔
قوموں کے درمیان راستباز مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہیں۔ ان میں تمام عیسائی فرقوں کے افراد کے ساتھ ساتھ مسلمان اور لادین (ملحد) افراد بھی شامل ہیں۔ بعض راستباز اعلیٰ عہدوں پر فائز سفارت کار تھے جنہوں نے اپنے منصب کا استعمال کرتے ہوئے یہودیوں کے لیے جعلی دستاویزات حاصل کیں، جبکہ کچھ دیہاتی کسان تھے جنہوں نے اپنی جائیداد پر یہودیوں کو پناہ دی۔
یاد وشیم اُن تمام افراد اور گروہوں کی ایک جامع فہرست محفوظ رکھتا ہے جنہیں قوموں کے درمیان راستباز کا اعزاز دیا گیا ہے، نیز اس اعزاز سے متعلق مزید معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔
فٹ نوٹس
-
Footnote reference1.
’’ملک کے لحاظ سے راستبازوں کے نام،‘‘ یاد وشیم — دا ورلڈ ہولوکاسٹ ریمیمبرنس سنٹر۔ آخری بار ترمیم: یکم جنوری 2023۔, https://www.yadvashem.org/righteous/statistics.html