یورپ میں دوسری عالمی جنگ (مقالے کی تلخیص)

دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی اور تباہ کن جنگ تھی۔ یہ جنگ جرمنی نے یکم ستمبر 1939 کو پولینڈ پر حملہ کر کے شروع کی۔ برطانیہ اور فرانس نے جواب دیتے ہوئے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ جرمن فوجوں نے 1940 کے موسم بہار میں مغربی یورپ پر حملہ کر دیا۔ جرمنی کی شہ پر سوویت یونین نے جون 1940 میں بالتیک ریاستوں پر قبضہ کر لیا۔ اٹلی جرمنی کا ساتھ دینے والے حلیف ممالک میں شامل تھا۔ وہ 10 جون 1940 کو اس جنگ میں کود پڑا۔ 10 جولائی سے 31 اکتوبر 1940 کے دوران نازیوں نے انگلینڈ کے خلاف فضائی جنگ شروع کر دی جو وہ بالآخر ہار گیا۔ اسے بیٹل آف انگلینڈ کہا جاتا ہے۔

یوگوسلاویہ اور یونان پر 6 اپریل 1941 کو حملہ کرتے ہوئے بالکن علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد جرمنوں اور اُن کے حلیفوں نے 22 جون 1941 کو سوویت یونین پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ جرمن سوویت معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی تھا۔ جون اور جولائی 1941 میں جرمنوں نے بالتیک ریاستوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ اُس موقع پر سوویت لیڈر جوزف اسٹالن نازی جرمنی اور اس کے حلیفوں کے خلاف اتحادیوں کے ایک کلیدی جنگی ساتھی بن گئے۔ 1941 کے موسم گرما اور خزاں کے دوران جرمن فوجیوں نے سوویت یونین کے اندر دور تک پیش قدمی کی۔ سوویت فوج نے 6 دسمبر 1941 کو ایک بڑا جوابی حملہ کیا۔ ایک دن بعد 7 دسمبر 1941 کو جرمن حلیف طاقتوں میں سے ایک جاپان نے پرل ھاربر اور ہوائی پر بمباری کر دی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ بھی برطانیہ اور سوویت یونین کا اتحادی بن کر جنگ میں شامل ہو گیا۔

مئی 1942 میں برطانیہ کی شاہی فضائیہ نے ایک ھزار بمبار طیاروں کے ساتھ جرمن شہر کولون پر بمباری شروع کر دی۔ یوں یہ جنگ پہلی مرتبہ جرمنی کے اندر لائی گئی۔ اگلے تین برس تک اتحادی طاقتوں کی فضائیہ نے منظم طریقے سے جرمن سلطنت کے تمام علاقوں میں صنعتی تنصیبات اور شہروں کو بمباری کا نشانہ بنایا اور یوں 1945 تک جرمنی کے زیادہ تر شہری علاقوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔

مشرقی محاذ پر 1942 کے موسم گرما کے دوران جرمنی اور اس کے حلیفون نے سوویت یونین پر دوبارہ حملے شروع کر دئے جن کا مقصد وولگا دریا کے کنارے آباد شہر اسٹالنگراڈ کے علاوہ باکو شہر اور کاکیشین آئل فیلڈز پر قبضہ کرنا تھا۔ 1942 کے موسم گرما کے آخر میں دونوں محاذوں پر جرمن حملے روک دئے گئے۔ سوویت فوج نے اسٹالن گراڈ پر جوابی حملہ کیا اور 2 فروری 1943 کو جرمنی کی چھٹی فوج نے سوویت فوج کے آگے ہتھیار ڈال دئے۔ جرمنوں نے جولائی 1943 میں کُرسک میں ایک اور حملہ کر دیا جو تاریخ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی تھی۔ لیکن سوویت فوج نے یہ حملہ ناکام بنا دیا اور ایک ایسی فوجی برتری حاصل کر لی جو جنگ کے تمامتر وقت کے دوران ماند نہ پڑی۔

جولائی 1943 میں اتحادی افواج سسلی میں داخل ہوئیں اور ستمبر میں ساحلی راستے سے اٹلی کے بڑے علاقے میں داخل ہو گئیں۔ اطالوی فاشسٹ پارٹی کی گرینڈ کونسل نے جب اٹلی کے وزیر اعظم بینیٹو میسولینی (جرمنی کے حلیف) کو برخواست کر دیا تو اٹلی کی فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اس نے 8 ستمبر کو اینگلو امریکن افواج کے آگے ہتھیار ڈال دینے کا معاہدہ کر لیا۔ اٹلی میں موجود جرمن فوجوں نے جزیرہ نما کے شمالی نصف حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا اور اس نے مزاحمت جاری رکھی۔ میسولینی کو اطالوی فوجی حکام نے گرفتار کر لیا تھا مگر جرمن ایس ایس کے کمانڈوز نے اُنہیں بچا کر وہاں سے نکال لیا اور (جرمن نگرانی میں) شمالی اٹلی میں نیم فاشسٹ کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی۔ جرمن فوجوں نے 2 مئی 1945 کو ہتھیار ڈالنے تک شمالی اٹلی پر قبضہ برقرار رکھا۔

6 جون 1944 (ڈی ڈے) کو ایک بڑی فوجی کارروائی کے ایک حصے کے طور پر اتحادی افواج کے 150,000 سے زائد فوجی فرانس میں داخل ہوئے جو اگست کے آخر تک آزاد کرا لیا گیا۔ 11 ستمبر 1944 کو امریکہ کا پہلا فوجی دستہ جرمنی میں داخل ہوا۔ یہ سوویت فوج کی طرف سے مشرقی سرحد عبور کرنے کے ایک ماہ بعد ہوا۔ دسمبر کے وسط میں جرمنوں نے بیلجیم اور شمالی فرانس میں ایک ناکام جوابی حملہ کیا جسے بیٹل آف دا بلج کہا جاتا ہے۔ اتحادی فضائی افواج نے نازیوں کی صنعتی تنصیبات پر حملے کئے۔ جن میں سے ایک حملہ آشوٹز کیمپ پر بھی تھا (تاہم گیس چیمبرون کو کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا گیا)۔

سوویت فوجوں نے 12 جنوری 1945 کو حملے شروع کرتے ہوئے مغربی پولینڈ کو آزاد کرا لیا اور جرمن حلیف ملک ہنگری کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ فروری 1945 کے وسط میں اتحادیوں نے جرمن شہر ڈریسڈن پر بمباری کی جس سے تقریباً 35,000 شہریوں کی جانیں ضائع ہو گئیں۔ امریکی فوجیوں نے 7 مارچ 1945 کو رھائن دریا عبور کیا۔ 16 اپریل 1945 کو ایک سوویت حتمی حملے کے نتیجے میں جرمن دارالحکومت برلن کا محاصرہ کر لیا گیا۔ جیسے ہی سوویت فوجی لڑتے ہوئے جرمن چانسری تک پہنچے، ہٹلر نے 30 اپریل 1945 کو خود کشی کر لی۔ 7 مئی 1945 کو جرمنی نے ریمز میں ٘مغربی اتحادی فوجوں اور پھر 9 مئی کو برلن میں روسی فوجوں کے آگے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دئے۔ اگست میں امریکہ کی طرف سے جاپانی شہروں پیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے جانے کے بعد اگست میں بحرالکاہل کے علاقے میں جنگ ختم ہو گئی۔ اس ایٹمی حملے میں 120,000 شہری ہلاک ہوئے۔ جاپان نے 2 ستمبر کو رسمی طور پر گھٹنے ٹیک دئے۔