پریبین ڈنمارک میں ماہی گيروں کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک پروٹیسٹنٹ خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کی پرورش دادی کے ہاتھوں ہوئی جن پر پانچ اور پوتے پوتیوں کی پرورش کی ذمہ داری بھی تھی۔ پریبین روزانہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے ایک اسکول جاتا تھا جو اسنیکرسٹین سے تقریباً 25 میل جنوب میں تھا ۔
1933-39: میرے ابتدائی اسکول میں بہت کم پہودی تھے مگر میں انہیں یہودی نہیں سمجھتا تھا؛ میرے لئے وہ صرف میرے دوست اور ساتھی تھے۔ ڈنمارک میں یہودیوں اور غیر یہودیوں کے درمیان تفریق کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ہم سبھی ڈنمارک کے باشندے تھے۔ پانچویں گریڈ میں میں اور میرے درجے کے ساتھیوں نے جرمن فوجوں کے ابھرنے کی افواہیں سنیں۔ لیکن بعد میں سن 1939 میں میرے والدین نے بتایا کہ ہٹلر نے ڈنمارک پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے جس سے ہمیں کافی تحفظ کا احساس ہوا۔
1940-42: قبضہ۔ اپریل 1940 میں میں کوپن ہیگن پہنچا تو میں نے اپنے سر پر جہاز اڑتے ہوئے اور جرمن افسران کو گلیوں میں گھومتے ہوئے پایا۔ میں کورئر کی حیثیت سے مزاحمتی تحریک میں شامل ہوگیا۔ میں اکتوبر 1943 میں اس تحریک میں اُس وقت زیادہ فعال ہو گیا جب گسٹاپو نے ڈنمارک کے یہودیوں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ہم نے یہودی پناہ گزینوں کی مدد کرنا شروع کردی۔ ہم نے انہیں ساحل کے کنارے گھروں میں چھپا دیا اور مقررہ اوقات پر انہیں کشتیوں پر لے گئے جو اسی مقصد کے لئے وقف تھیں۔ تاریکی کی آڑ میں ہم ایک وقت میں 12 یہودیوں کو دوسری طرف سویڈن میں پہنچا دیتے تھے۔ اس چار میل کے سفر میں لگ بھگ 50 منٹ کا وقت لگتا تھا۔
پریبین نے 1,400 پناہ گزینوں کو سویڈن پہنچانے میں مدد فراہم کی۔ جب جرمنوں نے ڈنمارک کی حکومت پر قبضہ کر لیا تو وہ بھی نومبر 1943 میں سویڈن فرار ہو گیا۔ پریبین مئی 1945 میں واپس اپنے گھر لوٹ گیا۔
آئٹم دیکھیںلیف، ڈینش دارالحکومت کوپن ہیگن میں ایک پہودی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کے دونوں والدین پہودی برادری میں سرگرم تھے اور اس کے والد ایک کپڑوں کی چھوٹی سی فیکٹری کے مالک تھے۔ جنگ سے پہلے ڈنمارک کے 6000 یہودیوں کی اکثریت کوپن ہیگن میں رہتی تھی۔ اپنی کم تعداد کے باوجود کوپن ہیگن کے یہودی متعدد یہودی تنظیموں کی اعانت کرتے تھے اور وہ اکثروبیشتر یورپ بھر کے یہودی پناہ گزینوں کی مدد کرتے رہتے تھے۔
1933-39: میں کوپن ہیگن کے ایک یہودی نرسری اسکول جایا کرتا تھا جو لڑکیوں کے اسکول کے ساتھ تھا۔ مجھے اپنا اسکول پسند نہیں تھا کیونکہ وہاں دوپہر کے وقت مجھے آرام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اسکول میں ہم نے ہجّے کرنا اور پڑھنا سیکھا اور کبھی کبھی ہم گانا بھی گاتے تھے۔ میں سبھی طرح کے بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا جن میں سے کچھ تو یہودی تھے اور کچھ نہیں تھے۔ مجھے کوئی فرق نہيں پڑتا تھا؛ وہ سبھی میرے دوست تھے۔
1940-44: 1940 میں جرمنوں نے ڈنمارک پر قبضہ کر لیا۔ 28 اگست 1943 کو، اسی دن جب انہوں نے حکومت پر قبضہ کر لیا، میرے والدین ہم سب کو لے کر ٹیوولی گارڈنز گئے جو کوپن ہیگن کے وسط میں واقع ایک بڑا تفریحی پارک ہے۔ پارک سے نکلتے ہوئے ہم نے لوگوں کو گلیوں میں جمع ہوتے دیکھا کیونکہ وہاں سے ایک جرمن ٹینکوں کا ایک دستہ گزر رہا تھا۔ بعد میں میرے والد نے ہمیں شہر چھوڑنے کی تیاری کرنے کیلئے کہا۔ میرے والدین خوفزدہ تھے لیکن یہ میرے لیے ایک ایڈونچر جیسا تھا۔ ہم نے گرم کپڑے لئے اور جنوب کی طرف جانے والی ٹرین میں بیٹھ گئے۔ اکتوبر میں ہم ایک مچھلی پکڑنے والی کشتی میں چھپ کر غیر قانونی طور پر سویڈن میں داخل ہوئے.
4 مئی 1945 میں جب جرمن افواج نے اسکینڈینیویا میں ہتھیار ڈال دئے، لیف اور اس کا خاندان ڈنمارک لوٹ گیا۔
آئٹم دیکھیںپریبن ماہی گیروں کے ایک چھوتے سے گاؤں اسنیکرسٹن کے ایک پروٹسٹنٹ خاندان میں پیدا ہوا۔ جرمنی نے 1940 میں ڈنمارک پر حملہ کیا۔ پریبن مزاحمت کرنے والی جماعت کا پیغام رساں بن گیا۔ جب گسٹاپو (جرمن خفیہ اسٹیٹ پولیس) نے اکتوبر سن 1943 میں ڈنمارک میں یہودیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو پریبن نے سمندر کے کنارے گھروں میں چھپے ہوئے پناہ گزینوں کی مدد کی اور ان کو سویڈن لے جانے والی کشتیوں تک پہنچایا۔ پریبن کو خود بھی پناہ گزیں کی حیثیت سے نومبر سن 1943 میں سویڈن جانا پڑا۔ وہ مئی سن 1945 میں ڈنمارک واپس آ گیا۔
آئٹم دیکھیںاپریل 1940 میں جرمنوں نے ڈنمارک پر قبضہ کر لیا مگر ڈينش حکومت کا وجود قائم رہا اور وہ اپنے ڈینش یہودیوں کی حمایت کرنے میں کامیاب رہی۔ اگست 1943 میں حکومت نے حرمنوں کے مطالبات سے انکار کرنے کے نتیجے میں استعفی دے دیا۔ اکتوبر کے آغاز میں جرمن پولیس نے یہودیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ لیف اور اس کے خاندان نے فرار ہونے کا فیصلہ کر لیا اور مچھلی پکڑنے والی کشتی کے ذریعہ غیر قانونی طور پر سویڈن کے محفوظ علاقے میں پہنچ گئے۔ سویڈن میں لیف نے اسکول جانا شروع کر دیا اور اس کے والدین نے کپڑوں کی فیکٹری میں کام کیا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ سب ڈنمارک واپس لوٹ گئے۔
آئٹم دیکھیںاپریل 1940 میں جرمنوں نے ڈنمارک پر قبضہ کر لیا۔ ڈينش حکومت کا وجود قائم رہا اور وہ یہودی مخالف اقدامات سے اپنے ڈینش یہودیوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہی۔ اگست 1943 میں ڈینش حکومت نے جرمنوں کے مطالبات سے انکار کرنے کے بعد استعفی دے دیا۔ اکتوبر 1943 کے آغاز میں جرمن پولیس نے یہودیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ ٹوو اور اس کے خاندان نے فرار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ ماہی گيروں کے ایک گاؤں اسنیکرسٹین تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں سے وہ حفاظت کیلئے سمندری راستے سے سویڈن پہنچ گئے۔ ٹوو مئی سن 1945 میں ڈنمارک واپس لوٹ گئی۔
آئٹم دیکھیں
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.