تھامس الیک

تھامس الیک

پیدا ہوا: 7 دسمبر، 1924

بڈاپسٹ, ہنگری

تھامس ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا۔ جب وہ چھ سال کا تھا تو اس کا خاندان پیرس منتقل ہو گیا۔ فاشسٹ حکومت پر اس کے والد کی بے باک تنقید اور ہنگیرین کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی کے باعث 1930 میں خاندان کو ہنگری سے بے دخل کر دیا گیا۔ جدید زبانوں کے پروفیسر اپنے والد کی مدد سے تھامس نے جلد ہی فرانسیسی زبان سیکھ لی اور تعلیم میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ اسے شاعری اور موسیقی سے خصوصی دلچسپی تھی۔

1933-39: تھامس کے والد اکثر فاشزم کے خلاف دلائل دیا کرتے تھے، اور 1933 میں جب ہٹلر جرمنی کا چانسلر بنا تو وہ سخت پریشان ہو گئے۔ ان کے والد کی یہ بے چینی ایلیک خاندان کی گھریلو زندگی پر بھی چھا گئی۔ تھامس نے اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز رکھی اور پیرس کے نہایت معزز ثانوی تعلیمی ادارے لوئی-لے-گرانڈ (Louis-le-Grand) میں داخلہ حاصل کر لیا۔ اسے یہ جان کر شدید صدمہ ہوا کہ اس کے آبائی وطن ہنگری میں یہودیوں کے خلاف قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں۔

1940-44: 1940 میں جرمنوں کے فرانس پر قبضے کے بعد، تھامس کی والدہ نے خواتین کے ایک مزاحمتی گروپ میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان کی مثال کی پیروی کرتے ہوئے، تھامس نے 1941 میں ایک ترقی پسند طلبہ تنظیم میں شمولیت اختیار کی، اور بعد ازاں اپنے بھائی بیلا کے ساتھ مسلح مزاحمتی گروپ فرانسس ٹائرس ایٹ پارٹیزنز میں شامل ہو گیا۔ تھامس نے جرمنوں کے خلاف تخریب کاری کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اس کے گروپ نے متعدد گرینیڈ حملے کیے اور لیفٹ بینک میں واقع ایک جرمن لائبریری کو نذرِ آتش کر دیا۔ 28 جولائی 1943 کو ان کے یونٹ نے جرمن افسران اور فوجیوں کے ایک قافلے کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں 600 افراد ہلاک ہوئے۔

21 نومبر 1943 کو گرفتار کیے جانے کے بعد تھامس کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے سزائے موت سنائی گئی۔ 21 فروری 1944 کو، محض 19 برس کی عمر میں، نازی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے اسے گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.