متحرک نقشہ

ہولو کاسٹ کے بعد

جیسے جیسے اتحادی فوجیں نازی جرمنی کے خلاف مسلسل حملوں کے ساتھ یورپ بھر میں پیش قدمی کرتی رہیں، اُن کا سامنا حراستی کیمپوں میں محصور قیدیوں سے ہوتا رہا جنہیں وہ رہا کرتی رہیں۔ بہت سے قیدی جرمنی کے اندرونی علاقوں میں موت کے مارچ سے بچنے میں کامیاب ہو گئے۔ آزادی پانے کے بعد بیشتر یہودی ہولوکاسٹ کے دوران سام دشمی اور اپنی برادریوں کی تباہی کے باعث مشرقی یورپ کی جانب نہ جا سکے یا پھر وہ جانا نہیں چاہتے تھے۔ وہ لوگ جو لوٹ گئے وہ بھی اکثر اپنی جان کیلئے خطرہ محسوس کرتے رہے۔ ہولوکاسٹ سے زندہ بچنے والے بہت سے بے گھر یہودیوں نے مغرب کی جانب اُن علاقوں کا رُخ کیا جنہیں اتحادی افواج نے آزاد کرا لیا تھا۔ اُنہیں وہاں بے دخل افراد یعنی ڈی پی لوگوں کے کیمپوں اور پناہ گذینوں کے مراکز میں رکھا گیا جہاں وہ یورپ سے روانہ ہونے کا انتظار کرتے رہے۔

مکمل نقل

مئی 1945 میں نازی جرمنی کی اتحادی افواج کے ہاتھوں شکست کے ساتھ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے ہزاروں یہودیوں کو یورپ بھر کے حراستی مراکز سے آزاد کرا لیا گیا۔

اتحادی طاقتوں میں سے ہر ایک نے جرمنی اور آسٹریہ کے حصوں پر قبضہ کر لیا۔ برلن اور ویانا کے شہروں کو بھی مقبوضہ علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

زندہ بچنے والے افراد اور پناہ گذینوں کی رہائش اور اُن کی دیکھ بھال کیلئے اتحادی قوتوں نے تمام مقبوضہ علاقوں اور اٹلی میں ڈی پی کیمپ قائم کئے۔

اقوام متحدہ کی ریلیف اور آباد کاری کی تنظیم نے سینکڑون ڈی پی کیمپ قائم کئے۔

یہودی بے دخل افراد کی ایک بڑی تعداد جرمنی کے امریکی اور برطانوی مقبوضہ علاقوں میں قائم کیمپوں اور مراکز میں موجود تھی۔

اُنہیں یہودی تنظیموں کی جانب سے بہت تعاون حاصل ہوا۔ 1947 کے وسط تک یہودی بے دخل افراد کی تعداد 250,000 تک جا پہنچی۔

ہالوکاسٹ کی ہولناکیوں کے ساتھ ساتھ جنگ کے بعد کی سام دشمنی اور تشدد کے باعث بچ جانے والے بیشتر یہودی یورپ چھوڑ دینے کی کوشش کرنے لگے۔

بچنے والے یہودیوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ منزل کے طور پر فلسطین کا انتخاب کیا جبکہ بہت سے دیگر افراد نے امریکہ نقل مکانی کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم امریکہ نے امیگریشن پر پابندی لگانے کا سلسلہ جاری رکھا اور برطانیہ نے جو فلسطین پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے تھا، وہاں یہودیوں کی امیگریشن شدید طور پر محدود کر دی۔

ھزاروں یہودیوں نے فلسطین میں داخلے کے سلسلے میں بطانوی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی۔

وہ ایسے خفیہ راستے اختیار کرتے ہوئے فرار ہوئے جہاں سے وہ یورپ میں داخل ہو سکیں اور پھر وہاں سے اُنہوں نے دشوار سمندری سفر اختیار کیا۔

"بریہا" (عبرانی لفظ "پرواز" یا "فراریت") وہ لفظ تھا جو جنگ کے بعد مشرقی یورپ سے اتحادیوں کے مقبوضہ علاقوں اور فلسطین کی طرف منظم طریقے سے نقل مکانی کیلئے استعمال کیا گیا۔

پناہ گذینوں کو فلسطین لیجانے والے بحری جہازوں میں سے 90 فیصد کو برطانوی بحریہ نے پکڑ لیا۔

برطانوی حکام نے پناہ گذینوں کو جبری طور پر بحیرہ روم میں واقع جزیرے قبرص پر حراستی کیمپوں میں بھیج دیا۔

سن 1948 تک قبرص کے غلیظ حراستی کیمپوں میں برطانوی حراست میں 50 ھزار یہودی پناہ گذیں موجود تھے۔

برطانوی حکام نے بحری جہاز "ایکسوڈس 1947 " کو بھی واپس یورپ بھیج دیا جہاں یہ یہودی پناہ گذیں قید تھے۔

اسرائیلی ریاست کے 14 مئی 1948 کے اعلان کے ساتھ ہی یہودیوں کی نئی ریاست میں غیر محدود امیگریشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

سن 1948 اور 1951 کے درمیان یورپ میں بے دخل ہونے والے یہودیوں کی نصف سے زائد تعداد اسرائیل میں داخل ہو گئی۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum

Share This