<p>کرسٹل ناخٹ پوگرام ("ٹوٹے شیشوں کی رات") کے دوران تباہ ہونے والے یہودی ملکیت کے کاروباروں کا سامنے والا حصہ۔ برلن، جرمنی، 10 نومبر، 1938 ۔</p>

کرسٹل ناخٹ: ملک گیر پوگرام، نومبر 9 - 10 , 1938

کرسٹل ناخٹ کے لفظی معنی ہیں "کرسٹل کی رات"۔ اِس سے عمومی مراد "ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" ہے۔ یہ اصطلاح 9 اور10 نومبر 1938 کو تمامتر جرمنی، مقبوضہ آسٹریہ اور جرمن فوجیوں کے زیر قبضہ چیکوسلواکیہ کے علاقے سوڈیٹن لینڈ میں روا رکھے جانے والے پرتشدد یہود مخالف پوگرامز کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ کرسٹل ناخٹ کو بنیادی طور پر نازی پارٹی کے اہلکاروں، ایس اے (سٹرمب ٹیلنگن: جس کے لفظی معنی ہیں حملہ آور دستے لیکن عرف عام میں انہیں طوفانی فوجی سے موسوم کیا جاتا تھا) اور ہٹلر نواز نوجوانوں کی تنظیم ہٹلر یوتھ نے ہوا دی۔ کرسٹل ناخٹ کی اصطلاح ٹوٹے ہوئے شیشوں کے ڈھیر کے حوالے سے وضع کی گئی جو پر تشدد پوگرام کے نتیجے میں سناگاگ، گھروں اور یہودی ملکیت کے کاروباروں پر حملوں اور تباہی کے نتیجے میں جرمنی کی سڑکوں پر ہر جگہ بکھرے پڑے تھے۔

اِس تباہی کے نتیجے میں جرمن حکام نے اعلان کیا کہ کرسٹل ناخٹ پیرس میں تعینات جرمن سفارت خانے کے اہلکار ارنسٹ وام ریتھ کے قتل کے نتیجے میں بے ساختہ طور پر اُبھرنے والے عوامی جذبات تھے۔ ایک 17 سالہ پولش یہودی ہرشل گرین سپین نے 7 نومبر 1938 کو اِس جرمن سفارت کار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اِس واقعے سے کچھ روز قبل جرمن حکام نے پولش شہریت کے حامل ھزاروں یہودیوں کو ریخ سے بے دخل کر دیا تھا اور گرین سپین کو اطلاع ملی تھی کہ اُن میں اُس کے والدین بھی شامل تھے جو 1911 سے جرمنی میں رہائش پزیر تھے۔

اِن بے دخل کئے جانے والے یہودیوں کو شروع میں پولینڈ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور گرین سپین کے والدین اور دیگر بے دخل افراد کو پولینڈ اور جرمنی کے سرحدی علاقے میں زباسزین نامی شہر کے قریب پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں پہنچا دیا گیا۔ گرین سپین خود بھی پیرس میں غیر قانونی طور پر رہ رہا تھا اور بظاہر اپنے خاندان کے ساتھ اِس بدسلوکی کا بدلہ لینے کی خاطر وہ جرمن سفارت خانے پہنچا اور اُس سفارت کار کو گولی مار دی جو اُس کی مدد کیلئے معمور کیا گیا تھا۔

گولی لگنے کے دو روز بعد 9 نومبر 1938 کو وام ریتھ کی موت واقع ہو گئی۔ یہ دن دراصل 1923 کے بیئر ھال پُش کی یاد میں ایک خاص دن کے طور پر منایا جا رہا تھا جو قومی اشتراکی کیلنڈر میں ایک اہم تاریخ تھی۔ نازی پارٹی کی قیادت میونخ میں ایک یادگاری تقریب میں جمع ہوئی اور اِس موقع کو یہود مخالف کارروائیوں کے جواز کا بہانہ بنایا۔ پروپیگنڈے کے وزیر جوزف گوبیلز نے جو پوگرام کو فروغ دینے کے سب سے بے محرک تھے، وہاں جمع ہونے والی "پرانی قیادت" کو بتایا کہ "دنیا بھر کے یہودیوں" نے اِس قتل کی سازش کی ہے۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ "قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کو مظاہروں کا اہتمام نہیں کرنا چاہئیے لیکن اگر یہ اچانک پھوٹ پڑیں تو اُن کی راہ میں رکاوٹ بھی نہیں ڈالنی چاہئیے۔"

گوبیلز کے اِن الفاظ کو بظاہر پوگرام شروع کرنے کے حکم کے طور پر لیا گیا۔ اُن کی تقریر کے بعد وہاں جمع ہونے والے پارٹی لیڈروں نے اپنے مقامی دفتروں کو ہدایات جاری کیں۔ 9 اور 10 نومبر کی درمیانی رات کے پچھلے پہر اور علی الصبح ریخ کے بیشتر علاقوں میں تشدد کی لہر پھوٹ پڑی۔ 10 نومبر کی صبح ایک بجکر بیس منٹ پر رائن ھارڈ ھیڈرخ نے سیکورٹی پولیس (سیخر ھائیٹس پولیزے) کے سربراہ کی حیثیت سے صدر دفتر، اسٹیٹ پولیس کے اسٹیشنوں اور کئی ایک شہروں میں ایس اے کے اعلٰی افسروں کو ایک ہنگامی پیغام بھجوایا جس میں ہنگاموں کے بارے میں ہدایات موجود تھیں۔ تمامتر جرمنی اور اِس کے مقبوضہ علاقوں میں ایس اے اور ھٹلر یوتھ یہودیوں کے گھروں اور کاروباروں کو تباہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ اِن کے دستوں کے کئی ارکان سادہ کپڑوں میں تھے تاکہ اِس تصور کو تقویت دی جا سکے کہ یہ ہنگامے "عوام کے غم و غصہ" کا مظہر تھے۔

اچانک پھوٹ پڑنے والے تشدد کی ظاہری صورت اور ریخ کے تمام علاقوں میں مقامی طور پر اِس کے اثرات کے باوجود ہیڈرخ کی طرف سے بھیجے گئے مرکزی احکام میں واضح ہدایات شامل تھیں۔ اِن ہدایات کے باوصف فوری اور اچانک ہنگامے شروع کرنے والوں کو یہ احتیاط برتنی تھی کہ جرمنی کے غیر یہودی شہریوں کی زندگی اور املاک کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اُن کو یہ بھی ہدایت تھی کہ غیر ملکیوں (غیر ملکی یہودیوں سمیت) کو تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ اِن احکام کے مطابق اُنہیں سناگاگ اور یہودی برادری کی دوسری املاک میں توڑ پھوڑ سے پہلے وہاں سے آرکائو مواد کو نکال کر سیکورٹی سروس (سیخر ھائیٹس ڈائینسٹ یا ایس ڈی) پہنچانا تھا۔ احکام میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پولیس اہلکار اتنی تعداد میں یہودیوں کو گرفتار کریں جو مقامی جیلوں میں سما سکیں اور ترجیحاً نوجوان اور صحت مند یہودیوں کو گرفتار کیا جائے۔

تمامتر جرمنی اور آسٹریہ میں سینکڑوں سناگاگز کو رات بھر لوگوں کے سامنے نذر آتش کیا جاتا رہا۔ فائر فائٹرز کو ہدایت تھی کہ وہ صرف اُسی صورت میں مداخلت کریں اگر آگ کے دوسری ملحقہ عمارتوں تک پھیل جانے کا خدشہ ہو۔ تمامتر ملک میں ایس اے اور ھٹلر یوتھ کے ارکان نے ایک اندازے کے مطابق یہودیوں کے زیر ملکیت 7,500 کاروباری مراکز کی کھڑکیاں توڑ دیں اور اُن کا سامان لوٹ لیا۔ بہت سے علاقوں میں یہودی قبرستان خاص طور پر بے حرمتی کا نشانہ بنے۔

پوگرام برلن اور ویانا میں خاص طور پر بہت تباہ کن ثابت ہوا جہاں پورے جرمن ریخ میں یہودی سب سے زیادہ تعداد میں آباد تھے۔ ایس اے کے جتھے سڑکوں گلیوں میں گھومتے تھے ۔ وہ یہودیوں پر اُن کے گھروں میں جا کر حملے کرتے اور پکڑے جانے والے یہودیوں کو لوگوں کے سامنے ایسی حرکتیں کرنے پر مجبور کرتے جس سے وہ شرمسار ہو جاتے اور اُنہیں ذلت محسوس ہوتی۔ اگرچہ مرکزی احکام میں قتل کرنے کا تذکرہ نہیں تھا پھر بھی کرسٹل ناخٹ میں 9 اور 10 نومبر کے دوران کم سے کم 91 یہودیوں کی جانیں لی گئیں۔ اُس زمانے کے پولیس ریکارڈ میں اِس بات کا اندراج موجود ہے کہ اِس تشدد کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور بہت سے لوگوں نے خود کشی کر لی۔

جیسے جیسے پوگرام کی کارروائیاں پھیلتی گئیں، ایس ایس اور گسٹاپو (خفیہ ریاستی پولیس) کے دستوں نے ھیڈرخ کے احکامات کے بعد 30 ھزار کے قریب یہودی مردوں کو گرفتار کر کے اُن میں سے بیشتر کو مقامی قید خانوں سے ڈاخو، بوخن والڈ، سیخ سین ھوسن اور دوسرے حراستی کیمپوں میں پہنچا دیا۔ یہ بات اہم ہے کہ کرسٹل ناخٹ پہلا واقعہ ہے جب نازی حکومت نے یہودیوں پر اُن کی نسل کے اعتبار سے بڑے پیمانے پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیا۔ کیمپوں میں روا رکھے جانے والے سلوک کی بنا پر سینکڑوں یہودی ہلاک ہو گئے جبکہ بیشتر نے اگلے تین ماہ کے اندر اِس وعدے پر رہائی حاصل کر لی کہ وہ جرمنی سے نکل جانے کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔ کرسٹل ناخٹ نے بلا شبہ بعد میں آنے والے مہینوں میں یہودیوں کو جرمنی سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔

پوگرام کے فوری بعد ھرمین گورنگ جیسے بہت سے جرمن لیڈروں نے یہود مخالف بلووں کے نتیجے میں ہونے والے مادی نقصان کے حوالے سے تنقید کرنے ہوئے واضع کیا کہ اگر اِسے روکنے کیلئے کچھ نہ کیا گیا تو ہونے والے نقصان کے اخراجات کی ذمہ داری یہودی ملکیت کے کاروباری مراکز پر نہیں بلکہ جرمن بیمہ کمپنیوں پر عائد ہو گی۔ بحرحال گورنگ اور پارٹی کے دوسرے اعلٰی لیڈروں نے اِس واقعے کو ایسے اقدامات متعارف کرانے کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جس کی بدولت جرمنی کی معیشت سے یہودیوں اور یہودیوں کے تصوراتی اثرات کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ جرمن حکومت نے فوری اعلان کیا کہ پوگرام کیلئے یہودی "خود" ذمہ دار ہیں اور اُس نے جرمن یہودی برادری پر ایک ارب ریخس مارک کا تادیبی جرمانہ عائد کر دیا۔ یہ رقم 1938 کے ریٹ کے مطابق کوئی 40 کروڑ امریکی ڈالر بنتی ہے۔ ریخ حکومت نے بیمہ کمپنیوں سے کاروباری مراکز کی تباہی کے نتیجے میں ملنے والی رقوم بھی ضبط کر لیں اور یوں یہودیوں کے تباہ شدہ تجارتی مراکز کی تعمیر نو اور مرمت کی تمامتر ذمہ داری خود یہودیوں پر ڈال دی۔

اِس کے بعد کے ہفتوں میں جرمن حکومت نے متعدد ایسے قوانین اور حکمنامے جاری کئے جن کا مقصد یہودیوں کو اُن کے کاروباروں اور روزگار کے وسائل سے محروم کرنا تھا۔ اِن میں سے بہت سے قوانین کے ذریعے آریانائزیشن کی حکمت عملی کو فروغ دیتے ہوئے یہودیوں کے کاروباروں اور املاک کو "آریائی" لوگوں کے ہاتھ کوڑیوں کو مول فروخت کروا دیا گیا۔ یہودیوں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے پہلے ہی بند کر دئے گئے تھے۔ اب اِن قوانین کے ذریعے نجی شعبے میں بھی کئی پیشہ ورانہ شعبوں میں یہودیوں کے کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی اور یوں یہودیوں کو عام زندگی سے الگ کرنے کے سلسلے مزید اقدامات کئے جانے لگے۔ جرمن تعلیمی حکام نے اسکولوں میں موجود باقی ماندہ یہودی بچوں کو بھی اسکولوں سے نکال دیا۔ جرمن یہودیوں کو ڈرائیونگ لائسنس بنوانے اور گاڑی رکھنے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ قوانین کے ذریعے یہودیوں کیلئے عوامی ٹرانسوپورٹ استعمال کرنے پر بھی پابندیاں وضع کر دی گئیں۔ اب جرمن یہودیوں کو جرمن تھیٹروں، سنیما گھروں اور کانسرٹ ھالوں میں داخلے کی اجازت بھی نہ رہی۔

کرسٹل ناخٹ کے واقعات قومی سوشلسٹ یہود دشمن پالیسی کا ایک اہم سنگ میل ہیں۔ مؤرخوں کا کہنا ہے کہ پوگرام کے بعد یہود دشمن پالیسی کو زیادہ شدت کے ساتھ ایس ایس کی دسترس میں دے دیا گیا۔ اِس کے علاوہ جرمن شہریوں نے اِس بارے میں جس بے حسی کا مظاہرہ کیا اُس نے جرمن حکومت کو یہ عندیہ دیا کہ جرمن عوام ذیادہ شدید اقدامات کیلئے تیار ہیں۔ نازی حکومت نے آنے والے برسوں میں یہودیوں کو جرمنی کی معاشی اور سماجی زندگی سے مکمل طور پر علیحدہ کرنے کی خاطر اپنے اقدامات میں مزید توسیع کی اوراِن میں اور بھی زیادہ شدت اختیار کر لی۔ یہ پالیسیاں بعد میں یہودیوں کی جرمنی سے زبردستی بے دخلی پر منتج ہوئیں اور بالآخر یہودیوں کو "مشرق کی جانب" دھکیل کر "یودیوں سے آزاد جرمنی" یعنی جوڈین رائن کے تصور کو حقیقت بنا دیا۔

لہذا کرسٹل ناخٹ نازی جرمنی کی طرف سے یہودیوں کے خلاف مظالم کے سلسلے میں ایک لازمی سنگ میل کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں پورے یورپ سے یہودیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔