Mauthausen survivors cheer the soldiers of the Eleventh Armored Division of the US Third Army one day after their liberation

نازی کیمپوں کی آزادی

یورپ میں جب اتحادی افراج نے نازی جرمنی کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع کیا تو اُن کا سامنا حراستی کیمپوں میں موجود ھزاروں قیدیوں سے ہوا۔ اِن میں سے متعدد قیدی مقبوضہ پولینڈ کے قیدی کیمپوں سے جرمنی کے اندرونی علاقوں تک جبری مارچ کو برداشت کر چکے تھے۔ یہ قیدی بھوک پیاس اور بیماری کا شکار تھے۔

جولائی 1944 میں سوویت افراج ایک بڑے نازی کیمپ پر پہنچنے والی پہلی فوجیں تھیں۔ یہ کیمپ پولینڈ میں لوبلن کے قریب واقع مجدانیک کیمپ تھا۔ سوویت یونین کی تیز پیش قدمی سے حیران جرمنوں نے کیمپ کو مسمار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر قتل کے ثبوت چھپانے کی کوشش کی۔ کیمپ کے عملے نے اُس بڑے کریمیٹوریم کو آگ لگا دی جو ہلاک کئے جانے والے قیدیوں کی لاشوں کو نذر آتش کرنے کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ لیکن تیزی سے ہونے والے انخلاء کی بنا پر گیس چیمبر قائم ہی رہے۔ 1944 کے موسم گرما میں سوویت فوجوں نے بیل زیک، سوبی بور اور ٹریبلنکا کی قتل گاہوں پر بھی چڑھائی کردی۔ جرمنوں نے پولینڈ کے بیشتر یہودیوں کو ہلاک کر دینے کے بعد 1943 میں اِن کیمپوں کو مسمار کر دیا تھا۔

سوویت افواج نے جنوری 1945 میں آشوٹز کو آزاد کرایا جو سب سے بڑی قتل گاہ اور قیدی کیمپ تھا۔ نازیوں نے آشوٹز میں موجود قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو مغرب کی جانب مارچ کرنے پر مجبور کر دیا(اِنہیں عام طور پر موت کا مارچ کہا جاتا تھا) اور جب سوویت فوجی کیمپ میں داخل ہوئے تو انہیں محض چند ھزار قیدی ہی زندہ ملے۔ آشوٹز میں وسیع پیمانے پر قتل کے بے شمار ثبوت موجود تھے۔ پسپا ہوتے ہوئے جرمنوں نے کیمپ میں زیادہ تر گوداموں کو تباہ کر دیا تھا لیکن باقی گوداموں سے سوویت فوج کو ہلاک شدگان کی ذاتی چیزیں ملیں۔ مثال کے طور پر اُنہیں لاکھوں کی تعداد میں مردوں کے سوٹ، 8 لاکھ خواتین کے کپڑے اور 14 ھزار پاؤنڈ سے زائد انسانی بال ملے۔

بعد میں آنے والے مہینوں میں سوویت افواج نے پولینڈ اور بالتک ریاستوں میں مزید کیمپوں کو آزاد کرایا۔ جرمنی کے ہتھیار ڈالنے سے کچھ عرصہ پہلے سوویت افواج نے اسٹٹ ھوف، سیخ سین ھوزن اور ریوینز بروک کے حراستی کیمپوں کو آزاد کرایا۔

امریکی افواج نے 11 اپریل 1945 کو جرمنی کے مقام وائمار کے قریب بوخن والڈ حراستی کیمپ کو آزاد کرایا جس کے چند روز بعد نازیوں نے کیمپ سے انخلاء شروع کر دیا۔ آزادی کے دن قیدیوں کی ایک خفیہ مزاحمتی تنظیم نے بوخن والڈ کا کنٹرول سنبھالا تاکہ پسپا ہوتے کیمپ گارڈز کے ظلم و ستم کو روکا جا سکے۔ امریکی افواج نے بوخن والڈ میں 20 ھزار سے زائد قیدیوں کو رہا کرایا۔ اُنہوں نے ڈورا۔ مٹل باؤ، فلوسین برگ، ڈاخو اور موٹ ھوسین کو بھی آزاد کرایا۔

برطانوی فوجوں نے مشرقی جرمنی میں حراستی کیمپوں کو واگزار کرایا۔ اِن میں نوئی این گاہمے اور برگن۔ بیلسن کیمپ شامل تھے۔ وہ 1945 کے وسط اپریل میں سیل کے قریب برجین۔ بیلسن میں داخل ہوئے۔ تقریباً 60 ھزار قیدی زندہ ملے جن میں سے بیشتر کی حالت ٹائفس وباء کی وجہ سے تشویشناک تھی۔ اُن میں سے 10ھزار سے زائد چند ہفتوں کے بعد بیماریوں یا ناقص غذا کی بنا پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

کیمپوں کو آزاد کرانے والوں کو نازی کیمپوں میں ناقابل بیان صورت حال کا سامنا رہا جہاں لاشوں کے ڈھیر موجود تھے جنہیں دفنایا نہیں گیا تھا۔ اِن کیمپوں کی آزادی کے بعد ہی نازیوں کے ظلم کھل کر دنیا کے سامنے آ گئے۔ قیدیوں کی جو معمولی تعداد بچ نکلی وہ بھی خوراک کی کمی اور جبری مشقت کی وجہ سے ڈھانچے بن چکی تھی۔ متعدد افراد اِس قدر کمزور تھے کہ اُن کیلئے حرکت کرنا بھی دشوار تھا۔ بیماری ایک مستقل خطرہ تھی اور متعدد کیمپوں کو اِس لئے جلانا پڑا تاکہ وباؤں کو پھیلنے سے روکا جائے۔ کیمپوں سے بچ نکلنے والوں کے سامنے بحالی کا ایک طویل اور دشوار سفر تھا۔