تھامس بورجنتھل مئی 1934 میں چیکوسلواکیہ کے شہر لوبوخیا میں پیدا ہوئے۔ اس کے والدین، منڈیک اور گرڈا، یہودی تھے جو جرمنی میں نازیوں کے اقتدار میں آنے سے فرار ہو گئے تھے۔ لوبوخیا میں، منڈیک نے ایک ہوٹل چلایا جس میں نازی ظلم و ستم سے بھاگنے والے دوسرے پناہ گزینوں اور جلاوطنوں کا خیرمقدم کیا گیا۔
1933-39: 1938–1939 کے دوران نازی جرمنی نے چیکوسلوواکیہ کو تحلیل کر دیا اور سلوواکیہ کے نام سے ایک تابع (سیٹلائٹ) ریاست قائم کی۔ اس کے نتیجے میں تھامس اور اس کا خاندان سلوواکیہ سے ہجرت کر کے ہمسایہ ملک پولینڈ چلے گئے۔ ان کی امید تھی کہ وہ بالآخر برطانیہ عظمیٰ میں آباد ہو جائیں گے۔ تاہم، یکم ستمبر 1939 کو جب نازی جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا تو خاندان نے ایک بار پھر نازیوں سے بچ نکلنے کی کوشش کی، مگر جنگی حالات نے ان کے کامیاب انخلا کو ممکن نہ ہونے دیا۔ وہ دیگر مہاجرین کے ساتھ شامل ہو گئے اور پولینڈ کے شہر کیلسے (Kielce) کی طرف روانہ ہوئے۔
1940-45: خاندان کیلسے میں مقیم رہا، جہاں یہودی برادری نے تھامس اور دیگر مہاجرین کی کفالت میں مدد کی۔ 1940 میں جرمن حکام نے کیلسے کے یہودیوں کو زبردستی ایک یہودی بستی (گھیٹو) میں منتقل کر دیا۔ اگست 1942 میں تھامس اور اس کے والدین کیلسے کے گھیٹو کی تباہی (لیکویڈیشن) سے بچ گئے، جس دوران جرمن حکام نے 20,000 یہودیوں کو ٹریبلنکا کے قتل مرکز بھیج دیا۔ بعد ازاں انہیں کیلسے میں ایک جبری مشقت کے کیمپ میں قید کر دیا گیا۔ اگست 1944 میں تھامس اور اس کے والدین کو آشوٹز بھیج دیا گیا۔ عموماً تھامس کی عمر کے یہودی بچوں کو وہاں پہنچتے ہی گیس چیمبروں میں قتل کر دیا جاتا تھا، لیکن چونکہ کیلسے کے جبری مشقت کیمپ سے آنے والی اس ٹرانسپورٹ کے وقت انتخاب (سلیکشن) نہیں ہوا، اس لیے وہ زندہ بچ گیا۔ اس کی والدہ کو کیمپ کے خواتین کے حصے میں لے جایا گیا، جبکہ ابتدا میں تھامس اور اس کے والد مردوں کے کیمپ میں ساتھ رہے، مگر جلد ہی وہ بھی ایک دوسرے سے جدا کر دیے گئے۔ جنوری 1945 میں تھامس کو آشوٹز سے ایک “ڈیتھ مارچ” کے ذریعے نکالا گیا۔ بعد ازاں اسے ریل کے ذریعے زاکسن ہاؤزن کے حراستی کیمپ بھیج دیا گیا، جہاں اپریل 1945 میں اسے آزادی ملی۔
تھامس کے والد زندہ نہ بچ سکے۔ جنگ کے بعد تھامس کی اپنی والدہ سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ بعد میں اس نے امریکہ ہجرت کی اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ تھامس ایک معروف بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکیل بنے۔
آئٹم دیکھیں
پنچس وسطی پولینڈ کے جنوب میں واقع مئیچو نامی قصبے کے ایک بڑے خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کے والد مشین ساز اور تالا ساز تھے۔ پنچس نے تعلیم حاصل کرنے میں لمبے دن گزارے۔ کبھی یہودی اسکول میں عبرانی پڑھتا تھا تو کبھی سرکاری اسکول میں عام مضامین لیتا تھا۔ وہ یہودی نوجوانوں کی تنظیم ھا شومر ھا سائر سے تعلق رکھتا تھا اور ایک یہودی ساکر ٹیم میں لیفٹ ونگ کا کھلاڑی تھا۔
1933-39: 13 برس کی عمر میں ميں نے اسکول ختم کیا اور ٹھیکیدار کی دکان میں بطور اپرنٹس مشین ساز اور لوہار کام شروع کیا۔ 1939 میں جب جرمن فوج نے پولینڈ پر حملہ کیا تو میرے والدین نے فیصلہ کیا کہ میں اور میرا بڑا بھائی ہرشیل سوویت مقبوضہ پولینڈ کی طرف بھاگ جائيں۔ ہم پیدل سفر کر رہے تھے مگر گاڑیوں میں سوار جرمن ڈویژن ہم سے پہلے ہی مئیچو پہنچ گئی۔ گھر واپس لوٹ جانے کے علاوہ کوئی اور کوئی چارا نہ تھا۔
1940-44: میں مئیچو اور اس کے بعد کراکاؤ کے ائر بیس میں جرمنوں کی گاڑیوں کی مرمت کرتا تھا۔ 1943 میں مجھے پلازوا کے مضافات کراکاؤ میں جلاوطن کر دیا گیا جہاں نازیوں نے ایک بہت پرانے یہودی قبرستان پر لیبر کیمپ تعیر کیا تھا۔ وہاں میں نے اپنے والد کے ساتھ بطور مشین ساز اور لوہار کام کیا۔ ہر روز میں اپنی آنکھوں سے ایس ایس کے گارڈ کے ہاتھوں یہودیوں کی موت دیکھتا تھا۔ ان کو کبھی گولیوں سے مارا جاتا تھا تو کبھی کتوں کو کھلایا جاتا تھا۔ کیمپ کے کمانڈر گوئتھ کے پاس ہمیشہ دو بہت بڑے کتے ہوا کرتے تھے۔ بس وہ صرف اتنا کہتا تھا "کسی کو ختم کر دو!"۔ میں ہمیشہ خوفزدہ رہتا تھا کہ میری موت کب آنیوالی ہے۔
1945 کے آغاز میں پنچس کو آش وٹز میں جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ وہ دو ہفتوں کے جان لیوا مارچ سے چند افراد کے ساتھ بچ گیا۔ اپریل میں ڈاخاؤ کیمپ کے قریب ان کو آزاد کر دیا گیا۔ 1948 میں انہوں نے امریکا ہجرت کر لی۔
آئٹم دیکھیں
للی اپیل بوم اینٹورپ، بیلجیئم میں یہودی والدین، اسرائیل اور جسٹن کے ہاں پیدا ہوئی تھیں۔ للی کے یہودی والدین ان کی پیدائش سے پہلے ہی ایک دوسرے سے الگ ہو گئے تھے۔ ان کے والد ہجرت کرکے امریکہ چلے گئے۔ للی کے دو بڑے بہن بھائی تھے، لیون (پیدائش 1927) اور ماریہ (پیدائش 1925 )۔ وہ اینٹورپ میں اپنے نانا نانی کے ساتھ رہتی تھیں۔ ہفتے کے دوران ان کی ماں برسلز میں رہتی تھی، جہاں وہ ایک چھوٹی ورکشاپ چلاتی تھیں جہاں ارش کے کوٹ بنتے تھے۔
1933-39: للی اور ان کے دادا دادی اینٹورپ کے ایک یہودی اکثریتی محلے میں رہتے تھے۔ وہ ایک سرکاری اسکول میں گئی جہاں وہ فلیمش بولتی تھی۔ گھر میں وہ اپنے دادا دادی کے ساتھ یدش استعمال کرتی تھیں۔ 1939 میں للی کی دادی کینسر کی وجہ سے چل بسیں۔ جسٹن کے ساتھ رہنے کے لئے للی برسلز چلی گئیں۔ برسلز میں للی نے فرانسیسی بولنا سیکھا۔
1940-44: نازی جرمنی نے 10 مئی، 1940 کو بیلجیم پر حملہ کردیا۔ اگلے کئی سالوں میں جرمن قابض افواج نے بیلجیم میں یہودیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیاں عائد کردیں۔ پھر اگست 1942 میں جرمنوں نے منظم طریقے سے یہودیوں کو بیلجیم سے آشوٹز جلاوطن کرنا شروع کر دیا۔
جسٹن نے اپنے بچوں کی حفاظت کرنے اور ان کیلئے چھپنے کی جگہیں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ للی کو پہلے ٹانسلکٹومی کی ضرورت ہے، تاکہ وہ چھپنے کے دوران بیمار نہ ہو۔ جب للی ہسپتال میں صحت یاب ہو رہی تھیں، تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کی بہن ماریہ کی اس شخص کی طرف سے مذمت کی گئی تھی جسے اسے چھپانا تھا۔ ستمبر 1942 میں ماریا کو آشوٹز جلاوطن کر دیا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد للی کی ماں اور بھائی کو ایک راؤنڈ اپ میں پکڑ لیا گیا اور انہیں آشوٹز جلاوطن بھی کر دیا گیا۔ للی ملک بدری سے بچ گئیں کیونکہ اس وقت وہ اپنی خالہ اور چچا دووجرا Dwojraاور آرون اپیلبوم کے ساتھ رہ رہی تھیں۔
للی برسلز کے مضافات میں اپنی خالہ اور چچا کے ساتھ چھپی ہوئی تھیں۔ 1944 کے موسم بہار میں انہیں دریافت کرلیا گیا، گرفتار کیا گیا، اور مچلن ٹرانزٹ کیمپ بھیج دیا گیا، جہاں وہ ہفتوں تک رہے۔ 19 مئی، 1944 کو للی اور ان کی خالہ اور چچا کو میکیلن سے ٹرانسپورٹ نمبر XXV پر آشوٹز- برکیناؤ قتل گاہ میں جلاوطن کر دیا گیا۔
آشوٹز میں پندرہ سالہ للی اپنے رشتہ داروں سے الگ ہوگئی تھیں۔ وہ غیر انسانی کیمپ رجسٹریشن کے عمل سے گزریں اور انھیں کیمپ نمبر A -5143 کے ساتھ ٹیٹو کیا گیا۔ آخر کار، انھیں کیمپ کے باورچی خانے میں جبری مشقت کے لئے لگا دیا گیا۔
جنوری 1945 میں للی کو آشوٹز کے دیگر قیدیوں کے ساتھ ڈیتھ مارچ پر نکالا گیا۔ اس کے بعد انھیں برجن بیلسن حراستی کیمپ لے جایا گیا، جہاں انھیں ٹائیفس کی بیمار ہو گئی۔ 15 اپریل 1945 کو انھیں آزاد کیا گیا۔ للی برسلز واپس آ گئیں۔ وہاں، وہ 1947 میں امریکہ ہجرت کرنے سے پہلے ایک اور خالہ کے ساتھ دوبارہ ملیں۔ ان کی ماں، بھائی، بہن، خالہ اور چچا ہولوکاسٹ میں مار دیے گئے۔
آئٹم دیکھیںفرٹزی کے والد ریاستہائے متحدہ امریکہ میں جا بسے۔ لیکن اس سے قبل کہ وہ اپنے خاندان کو لیکر آتے، جنگ شروع ہو چکی تھی۔ فرٹزی کی والدہ کو ڈر تھا کہ بحر اوقیانوس میں جہاز رانی پر حملے شروع ہو جائیں گے۔ فرٹزی، اسکی والدہ اور اسکے دو بھائیوں کو آخر میں آش وٹز کیمپ میں بھیج دیا گیا جہاں اسکی والدہ اور اس کے بھائیوں کا انتقال ہو گیا۔ فرٹزی اپنے آپ کو اپنی عمر سے زيادہ ظاہر کر کے جسمانی طور پر زیادہ طاقتور کارکن کا تاثر دینے کی وجہ سے بچ گئی۔ وہ آش وٹز سے ایک موت کے مارچ کے دوران جنگل میں بھاگ گئی جہاں بعد میں اسے آزادی حاصل ہوئی۔
آئٹم دیکھیںسن 1941 میں جرمنی نے ريگا پر قبضہ کر لیا اور یہودیوں کو یہودی بستی میں بھیج دیا گیا۔ 1941 کے آخر میں یہودی بستی سے تقریباً 28،000 یہودیوں کو ریگا کے قریب رمبولا جنگل میں اجتماعی طور پر ہلاک کر دیا گیا۔ اسٹیون اور اس کے بھائی کو تندرست آدمیوں کے لئے ایک چھوٹی یہودی بستی میں بھیج دیا گیا۔ سن 1943 میں اسٹیون کو کائزروالڈ کیمپ میں جلاوطن کر دیا گیا اور ایک قریبی مزدور کیمپ میں بھیج دیا گیا۔ سن 1944 میں اسے آش وٹز کیمپ بھیج دیا گيا اور پھر ایک بحری جہاز کے کارخانے میں اس سے جبری مشقت کروائی گئی۔ 1945 میں اسٹیون اور اس کے بھائی ایک موت مارچ سے زندہ بچ گئے اور انہيں سوویت فوجوں نے آزاد کرا لیا۔
آئٹم دیکھیں
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.