ذاتی تاریخ

بینجمن (بیرل) فیرنز بتاتے ہیں کہ اُنہوں نے جنگی جرائم کے گواہوں کی شہادتیں کیسے لیں

بینجمن رومانیہ میں ٹرانسلوانیہ کے کارپیتھین پہاڑوں کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ جب وہ ایک شیرخوار بچہ تھے اس وقت ان کا خاندان امریکہ منتقل ہوگیا۔ بینجمن ہارورڈ یونیورسٹی میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے جرائم سے متعلق قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بینجمن نے ہارورڈ یونیورسٹی کے لاء اسکول سے 1943 میں تعلیم مکمل کی۔ وہ امریکہ کی طیارہ شکن بٹالین میں شامل ہو گئے۔ یہ بٹالین مشرقی یورپ میں اتحادی فوجوں کے حملوں کی تیاری کی غرض سے تربیت حاصل کررہی تھی۔ یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر بینجمن کوامریکی فوج کی جنگی جرائم کی تفتیش سے متعلق شعبے میں منتقل کردیا گیا۔ ان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ نازی جنگی مجرمین کے خلاف ثبوت اکھٹا کریں اور انہیں پکڑیں۔ بعد میں وہ نیورمبرگ سے متعلق کارروائی کیلئے آئن سیٹزگروپین کیس میں امریکہ کے چیف پراسیکیوٹر بن گئے۔

مکمل نقل

ہمارے پاس کوئی مستقل عدالت کا کمرہ تو نہیں تھا جہاں ہم کسی گواہ کو بلا سکتے اور ایک سیکریٹری کی موجودگی میں خود یا کوئی اور اُس پر جرح کرتا تاکہ اُس کے حقوق کی مکمل پاسداری ہو سکے۔ ہم شہادت لیتے وقت ایسے گواہوں سے ایک حلف نامہ ہی لے لیتے جو تعاون کیلئے تیار ہوتے۔ وہ کسی افسر کے سامنے قسم کھاتے۔ اگر کوئی گواہ تعاون پر آمادہ نہ ہوتا تو ہم اس سے اکیلے میں پوچھ گچھ کرتے تاکہ ہم اس سے سچ اگلوا سکیں اور جب ہمیں حقیقت جان لینے کا احساس ہوجاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسی بات کو اپنے ہاتھ سے لکھے اور اِس بات کی تصدیق کرے کہ یہ سچ ہے۔ ہم عام طور پر اِس کارروائی کا مشاہدہ کرنے کیلئے ایک افسر کو بلا لیتے یا مقدمے کے حوالے سے کسی زیادہ سازگار حالات میں ایک تفصیلی بیان لے لیتے۔ اُس وقت یم یہی شہادتیں استعمال کرتے تھے۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

شیئر کریں

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.