ذاتی تاریخ

روتھ میئرووٹز مالچو گولہ بارود کے کارخانہ میں تخریب کاری کی کوشش کا حال بیان کرتی ہیں

فراینکفرٹ میں روتھ کے خاندان کو بڑھتی ہوئی سام دشمنی کے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا؛ اس کے والد کا کاروبار چھین لیا گیا اور روتھ کا یہودی اسکول بند کر دیا گیا۔ اپریل سن 1943 میں روتھ اور اس کے خاندان کو آش وٹز کیمپ میں جلاوطن کر دیا گیا۔ روتھ کو جبری مشقت کے لئے منتخب کیا گیا اور اسے سڑک کی مرمت کے کام پر لگا دیا گیا۔ اس نے "کناڈا" یونٹ میں کیمپ میں لائے جانے والے سامان کو چھانٹنے کا کام بھی کیا۔ نومبر سن 1944 میں روتھ کو جرمنی کے ریونزبروئک کیمپ میں منتقل کر دیا گيا۔ مئی سن 1945 میں مالچو کیمپ سے ایک موت مارچ کے دوران اسے آزاد کرایا گیا۔

مکمل نقل

ہمیں صبح کے وقت لے جایا گیا اور کئی میل چلا کر کسی جنگل نما جگہ کی جانب لے گئے۔ وہ جنگل ہی تھے۔ اور جہاں درخت کم تھے، وہاں انہوں نے مصنوعی درخت لگا دئے تھے اور وہاں جالیاں تھیں جن کے اوپر پتے بچھائے گئے تھے تاکہ وہاں جو کچھ ہو رہا تھا اسے چھپایا جا سکے۔ وہاں درختوں کے ساتھ ایک ریت کا ٹیلہ بھی بنایا گیا تھا جس میں سے کچھ درخت باہر نکل رہے تھے اور اس کے ایک طرف دروازہ تھا۔ جب آپ اس دروازے میں داخل ہوتے تھے تو وہ ایک جدید طرز کی لیبارٹری یا ایک بہت صاف فیکٹری جیسا تھا۔ در حقیقت یہ ہتھیاروں کا کارخانہ تھا جسے ہوائی حملوں سے بچنے کے لئے بہت اچھی طرح چھپایا گيا تھا۔ در حقیقت کیمپ کے نیچے فیکٹریوں کا ایک جال بچھا ہوا تھا۔ ایک گروپ جسے میں جانتی تھی، دستی بم بناتا تھا۔ ہمارا گروپ ۔۔۔ ہاں۔۔۔۔گولیاں۔۔۔بناتا تھا اور ایک جدید اور عقلمندی کے ساتھ بنائی گئی فیکٹری ہونے کے باوجود بھی گولیاں بنانے کا طریقہ بہت ہی ناپختہ تھا۔ ایک بورڈ تھا جس میں چھوٹے سوراخ تھے۔۔۔ میرا خیال ہے کہ وہاں چوپیس یا جو بھی تعداد تھی، بہت چھوٹے سوراخ تھے۔ اور گولی کا آدھا کیپسول اندر تھا جسے ہم ہر ایک سوراخ میں ڈالتے تھے۔ پھر ہم اس میں بارود کی متعین مقدار ڈال دیتے تھے۔ پھر اس بورڈ کا دوسرہ حصہ اس کے اوپر بند ہو جاتا تھا، ایک سانچے کی طرح، جیسے کہ، ایک ہیمبرگر پریس ہو اور گولی کے کیپسول کا آدھا حصہ نیچے دبایا جاتا تھا اور یہ ایک بلٹ بن جاتی تھی۔ میرا خیال ہے کہ یہ عام گن کے لئے ہے ہاں میز کے دونوں کناروں میں جس پر ہم بیٹھے ہوئے تھے، یہ بہت لمبی میزيں تھیں اور ہر ایک میز پر تقریباً ہم بیس یا تیس قیدی بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ہر ایک طرف ایک ایس ایس عورت تھی جو اس بات کو یقینی بناتی تھی کہ ہم ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ تو بہت مشکل تھا لیکن میں نے پکڑے جانے کے بغر اس بورڈ کے اوپر والے حصے کو نچلے حصے کے ساتھ ايک لائن میں نہ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ مجھے مارا نہ جائے یا قتل نہ کیا جائے یا جو بھی وہ کرتے تھے وہ نہ کیا جائے۔ لیکن میں نے اسے ٹیڑھا کر کے دبانے کی کوشش کی تاکہ وہ بند تو ہو جائے لیکن مکمل طور پر بند نہ ہو اور میں نے اس کے ساتھ دعائيں بھی کیں کہ یہ گولیاں نہ چلیں۔ میں دعا کرتی رہی کہ اس طرح میں نازيوں کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کر سکوں۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.