ذاتی تاریخ

اسٹیون اسپرنگ فیلڈ شٹٹہاف حراستی کیمپ کے حالات بیان کرتے ہیں

سن 1941 میں جرمنی نے ريگا پر قبضہ کر لیا اور یہودیوں کو یہودی بستی میں بھیج دیا گیا۔ 1941 کے آخر میں یہودی بستی سے تقریباً 28،000 یہودیوں کو ریگا کے قریب رمبولا جنگل میں اجتماعی طور پر قتل کر دیا گیا۔ اسٹیون اور اس کے بھائی کو تندرست آدمیوں کے لئے ایک چھوٹی یہودی بستی میں بھیج دیا گیا۔ سن 1943 میں اسٹیون کو کائزروالڈ کیمپ میں جلاوطن کر دیا گیا اور ایک قریبی مزدور کیمپ میں بھیج دیا گیا۔ سن 1944 میں اسے آش وٹز کیمپ میں منتقل کر دیا گيا اور پھر ایک بحری جہاز کے کارخانے میں اس سے جبری مشقت کروائی گئی۔۔1945 میں اسٹیون اور اس کے بھائی موت کے مارچ سے زندہ بچ گئے اور انہيں سوویت فوجوں نے آزاد کرا لیا۔

مکمل نقل

ڈينزگ میں پہنچنے کے بعد جب ہمیں معلوم ہوا کہ ہم اسٹٹہاف جا رہے ہیں تو ہم انتہائی پریشان ہو گئے کیونکہ اسٹٹہاف کیمپ جو سب سے زیادہ بد ترین ہے۔ وہاں کوئی کھانا نہیں تھا اور اس میں بہت سفاکی اور بہت زیادہ قتل و غارتگری تھی۔ کسی کے لئے وہاں سے یعنی اسٹٹہاف سے بچ نکلنا بہت ہی مشکل تھا۔ تو ہم تین، میرا بھائی، میرے والد اور میں اسٹٹہاف گئے اور کئی ہفتوں تک وہاں رہے۔ میں اسٹٹہاف کے حالات بیان نہيں کر سکتا۔ دائیں اور بائيں طرف لوگ بھوک سے مر رہے تھے۔ صبح اٹھیں تو آپ کے ساتھ سوکھے ہوئے مردہ لوگ پڑے ہوئے ہوتے تھے۔ دن بہ دن حالت خراب تر ہوتی گئی کیونکہ جنگ کی کایا ہی پلٹ گئی۔ اب جرمن اپنا غصہ ان تھوڑے سے باقی ماندہ یہودیوں پر نکال رہے تھے کیونکہ ان کے لئے۔۔۔ان کے لئے ظاہر ہو چکا تھا کہ اس وقت وہ جنگ ہار رہے ہیں۔ اسٹٹہاف پہنچنے کے کچھ ہفتے بعد ہمیں ایک دن قطار میں کھڑا کیا گيا اور ایک جرمن افسر نے کہا کہ ہم جرمن جہاز سازی کے ایک کارخانے کے لئے رضاکار مزدور تلاش کر رہے ہیں۔ یہ کارخانہ ڈینزگ میں تھا جس کا نام سخیچاؤ۔ورفت تھا۔ میرے بھائی، میں اور میرے والد نے رضا کارانہ مزدوری کی حامی بھر لی۔ لیکن جیسے ہی میرے والد ہمارے ساتھ آنے کے لئے آگے بڑھے، جرمن افسر نے دیکھا کہ میرے والد معذور ہيں۔ وہ اپنی ٹانگ گھسیٹ رہے تھے۔ ان کی جوانی میں انہيں اسکارلیٹ بخار ہو گیا تھا۔ جس وقت اس نے یہ دیکھا، اس نے کہا "تم نہیں جا سکتے۔ واپس جاؤ" میں اور میرے بھائي نے اس کی منتیں کرنا شروع کر دیں،" یہ ہمارے والد ہیں۔ ہمیں ساتھ ساتھ چلنا ہو گا" صرف ہمیں تنگ کرنے کے لئے اس نے کہا، "تم جا رہے ہو اور وہ یہاں رہے گا" اور ہماری لاکھ منتیں کرنے اور پاؤں پڑنے کے باوجود بھی کوئی فرق ہی نہيں پڑا۔ ہمیں لاتیں ماری گئيں اور مار پیٹ کر کے زبردستی ہمارے والد کو ہم سے الگ کر دیا گيا۔ اور یہ میرے بہائی اور میرے لئے بہت واضح تھا کہ جیسے ہی میرے والد کو ہم اسٹٹہاف میں چھوڑ دیں گے، ان کا فیصلہ ہو جائے گا اور ان کو وہاں چھوڑ کر ہمارا دل ٹوٹ گیا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یہ اختتام کا وقت ہے۔ لیکن ہم مجبور تھے۔ اور یوں ہم نے اسٹٹہاف چھوڑ دیا۔


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

Share This