میوزک

ہمارا قصبہ جل رہا ہے

اصلی عنوان: انڈزر شٹیٹل برینٹ!

موسیقار: ڈینیل کیمپن
شاعر: مورڈیسائی گیبرٹگ
نغمہ گر: مورڈیسائی گیبرٹگ

مورڈیسائی گیبرٹگ پولینڈ کے شہر کراکاؤ میں سن 1877 میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ عبرانی زبان کے ایک عوامی شاعر و نغمہ نگار تھے۔ اُنہوں نے سن 1936 میں پولینڈ کے شہر پریزٹیک میں پوگروم یعنی منظم قتل عام کے بعد یہ گیت "انڈزر شٹیٹل برینٹ!" لکھا۔ جنگ کے دوران یہ گیت کراکاؤ یہودی بستی میں مشہور ہو گیا اور اس گانے نے نوجوانوں کو اتنا متاثر کیا کہ وہ نازیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ بہت سی یہودی بستیوں اور کیمپوں میں گایا گیا۔ نیز اس کا ترجمہ پولینڈی اور کئی دوسری زبانوں میں کیا گيا۔ گیبرٹگ کو جون سن 1942 میں کراکاؤ یہودی بستی سے جلاوطنی کیلئے ایک راؤنڈ اب کے دوران قتل کر دیا گيا۔

آج کل بھی "انڈزر شٹیٹل برینٹ!" بہت زیادہ گائے جانے والے گیتوں میں سے ایک ہے۔

بھائیو! یہ جل رہا ہے! یہ جل رہا ہے!
اوہ! ہمارا بیچارہ گاؤں، بھائیو، جل رہا ہے!
شیطانی ہوائیں غصہ سے بھری ہوئی ہیں،
سخت غصہ اور تبائی و بربادی، پاش پاش کر دینے والی؛
طاقتور شعلے اب مذید سخت ہوتے جا رہے ہیں--
اب چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے!
اور تم وہاں کھڑے ہوئے نظارہ کر رہے ہو
چپ چاپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے
اور تم وہاں کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہو--
جبکہ ہمارا گاؤں جل رہا ہے!

بھائیو! یہ جل رہا ہے، یہ جل رہا ہے
اوہ! ہمارا بیچارہ گاؤں، بھائیو، جل رہا ہے،
جلد ہی آگ کے جنونی شعلے
سارے گھروں کو نیست و نابود کر دیں گے
کیونکہ پاگل ہوائیں تیز تر ہوتی جا رہی ہیں--
پورا شہر شعلوں کی لپیٹ میں ہے!
اور تم وہاں کھڑے ہوئے نظارہ کر رہے ہو
چپ چاپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے،
اور تم وہاں کھڑے دیکھ رہے ہو--
جب کہ ہمارا گاؤں جل رہا ہے!

بھائیو! یہ جل رہا ہے، ہمارا گاؤں جل رہا ہے
اوہ، خدا نہ کرے کہ وہ لمحہ آئے،
کہ ہمارا گاؤں، ہمارے ساتھ اکٹھے،
راکھ اور آگ کی نذر ہو جائے،
وہ تب ختم ہو جب قتل عام کا خاتمہ ہو جائے
دھوئیں کی سیاہی سے آلودہ خالی دیواریں!
اور تم وہاں کھڑے یہ تماشہ دیکھتے رہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے،
اور تم وہاں کھڑے رہ کر نظارہ کرو--
جب ہمارا گاؤں جل رہا ہو!

بھائیو! یہ جل رہا ہے، ہمارا گاؤں جل رہا ہے!
اور ہماری نجات صرف تمہارے ذریعے ہی ممکن ہے
اگر ہمارا گاؤں واقعی تمہیں عزیز ہے،
تو پانی کی بالٹی اُٹھاؤ اور آگ بجھا دو!
تو د کھا دو کہ تم یہ کیسے کر سکتے ہو!
میرے بھائیو، وہاں کھڑے ہو کر تماشہ مت دیکھو،
ہاتھ پر ہاتھ دھرے مت بیٹھو،
میرے بھائیو، وہاں کھڑے مت رہو، آگ کو بجھا دو!--
ہمارا بیچارہ گاؤں جل رہا ہے!