تصویروں سے متعلق حروف تہجی کی فہرست کو براؤز کریں۔ یہ تاریخی تصاویر دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ سے پہلے، دوران اور بعد کے لوگوں، مقامات اور واقعات کی تصویر کشی کرتی ہیں۔
ایک سوویت فوجی انسٹرکٹر حامی مزاحمت کاروں کو دستی بم چلانے کی تربیت دے رہا ہے۔ سوویت یونین، جنگ کے دوران۔
ایک شفاخانے میں زندہ بچ جانے والی یہودی عورتیں۔ سویڈن، 1946
ایک عورت اپنا چہرہ چھپائے ایک پارک کے بنچ پر بیٹھی ہے جس پر لکھا ہوا ہے "صرف یہودیوں کیلئے"، آسٹریہ، سی۔ اے۔ مارچ 1938۔
ایک عورت یہودیوں کی لاشوں کے صندوقوں کے قریب سوگ منارہی ہے جو کیلک کے منظم قتل عام میں ہلاک کردئے گئے۔ پولینڈ، 6 جولائی 1946۔
ایک لاغر بچہ وارسا یہودی بستی کی سڑکوں پر کھانا کھا رہا ہے۔ وارسا، پولنڈ 1940 اور 1943 کے درمیان۔
ایک مصنف اور اداکار جنہیں ہم جنس پرستی کے جرم میں 1937 میں 27 مہینے کیلئے قید رکھا گيا تھا۔ اُنہیں 1942 میں جلا وطن کر کے سیخ سین ہوسین حراستی کیمپ میں پہنچا دیا گیا جہاں وہ تین سال تک قید رہے۔ برلن، جرمنی، 1937 سے پہلے۔
ایک موٹر سائیکل سوار ایک اشتہار پڑھ رہا ہے جس پر لکھا ہے "یہودیوں کی یہاں کوئی ضرورت نہیں"۔ جرمنی، سی اے۔ 1935.
ایک نمایاں پروٹسٹنٹ پادری مارٹن نئیمولر جنہوں نے نازی حکومت کی مخالفت کی تھی۔ اُنہوں نے نازی اقتدار کے آخری سات برس حراستی کیمپوں میں گزارے تھے۔ جرمنی، 1937۔
ایک ٹینک نیورمبرگ میں انصاف کے محل کے دروازے کی حفاظت کر رہا ہے۔
ایک پولش پولیس اہلکار وارسا یہودی بستی میں ایک یہودی رہائشی کے کاغذات کا معائنہ کر رہا ہے۔ وارسا، پولینڈ، فروری 1941 ۔
ایک پولیش پولیس اہلکار یہودی بستی کی ایک رہائشی کے بیگ کی تلاشی لے رہا ہے۔وارسا، پولینڈ، فروری 1941 ۔
ایک چارٹ جس کا عنوان ہے: "نسل سے متعلق نیورمبرگ قوانین"چارٹ میں مختلف کالموں میں یہ تفصیل دی گئی ہےـ "جرمن خون"، "مشلنگ 2 گریڈ"(نصف صحیح النسل 2 گریڈ)، "مشلنگ 1 گریڈ" (نصف صحیح النسل 1 گریڈ) اور "یہودی"۔
ایک چمڑا صاف کرنے والے کارخانے میں یہودی جبری مزدور کام کررہے ہیں۔ پولینڈ، 1944 اور 1944 کے درمیان۔
ایک چیک مزاحمتی جنگجو اور چھاتہ بردار فوجی جوزف گیبنک جو بہیمیا اور موراویا کے نازی گورنر رائن ہارڈ ہیڈرچ کے قتل میں شریک تھا۔ پراگ، چیکوسلاواکیہ، غالباً مئی 1942۔
ایک کمزور اور دبلی پتلی عورت یہودیوں کیلئے لازمی اسٹار آف ڈیوڈ والی بازو کی پٹیاں بیچ رہی ہے۔ پس منظر میں کنسرٹ کے پوسٹر ہیں جو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دئے گئے تھے۔ وارسا یہودی بستی، پولینڈ، 19 ستمبر، 1941 ۔
ایک یہودی اسکول میں پہلی جماعت کی کلاس۔ کولون، جرمنی، 1929-1930۔
ایک یہودی بستی کی ورک شاپ میں جبری مشقت پر معمور یہودی مزدور جوتے بنا رہے ہیں۔ کوونو، لیتھوانیا، دسمبر 1943 ۔
ایک یہودی بستی کے کارخانے میں جبری مشقت پر معمور ایک بچہ۔ کوونو، لیتھوانیا، 1941 اور 1944 کے درمیان۔
ایک یہودی بچے کو وہ نشان دکھانے پر مجبور کیا گیا جو ایس ایس کے ڈاکٹروں کی طرف سے اُس کے لمفی غدود نکالے جانے سے پیدا ہوا تھا۔ یہ بچہ اُن 20 بچوں میں سے ایک تھا جن کو طبی تجربات کے ایک حصے کے طور پر تپ دق کے جراثیم کے ٹیکے لگا دئے گئے تھے۔ ان تمام بچوں کو 20 اپریل 1945 کو قتل کر دیا گیا تھا۔…
ایک یہودی خاندان ایک سڑک پر چلتے ہوئے۔ کالیسز، پولینڈ، 16 مئی، 1935
ایک یہودی خاندان کی بہنیں اور بھائي؛ یہاں تصویر میں موجود خاندان کے دوسرے ارکان کے ساتھ ایک بہن۔ یہ ہالوکاسٹ میں نہیں بچ سکی۔ نووے زیمکی، چیکوسلواکیہ، مئی 1944۔
ایک یہودی خاندان کی تین نسلوں کی اجتماعی تصویر۔ ولنا، 1938-39
ایک یہودی شخص گراموفون پر موسیقی بجا کر گزر بسر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ گراموفون ایک پرانی بچوں کی گاڑی میں رکھ کر جگہ جگہ لئے پھرتا تھا۔ وارسا یہودی بستی، پولینڈ، زمانہ جنگ۔
ایک یہودی مزاحمتی گروپ (آرگنائزیشن جیویس ڈی کامبیٹ) کے اراکین۔ ایسپیناسئیر، فرانس، دوران جنگ۔
ایک یہودی کیفے کی دیواروں پر پینٹ کی ہوئی سام دشمنی کی عبارتیں۔ ویانا، آسٹریا، نومبر 1938۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر جان پہلے کے دفتر میں جنگی پناہ گزین بورڈ کا اجلاس۔ تصویر میں بائیں سے دائیں: ایلبرٹ ابراہم سن، خزانے کے اسٹنٹ سیکٹری جوزیا ڈوبوئس اور پہلے، واشنگٹن ڈی۔ سی، یونائیٹد اسٹیٹس، 21 مارچ 1944۔
بارہ سالہ اینی فرینک اپنے اسکول کے ڈیسک پر۔ ایمسٹرڈیم، نیدرلینڈ، 1941 ۔
باڑ دار سیل بلاکس کا طائرانہ منظر جہاں بین الاقوامی فوجی عدالت میں جنگی جرائم کے مقدمے کی سماعت کے دوران مدعا علیہان کو قید میں رکھا گیا تھا۔ نیورمبرگ، جرمنی، 20 نومبر، سن 1945 اور یکم اکتوبر سن 1946 کے درمیان۔
برجن بیلسن کیمپ کی آزادی کے بعد ایک قیدی۔ جرمنی، 15 اپریل 1945 کے بعد۔
نارمنڈی کے ساحلوں پر D-Day کے دن یورپ میں جرمنی فوجیوں کے خلاف ایک دوسری فرنٹ قائم کرنے کیلئے فرانس کے حلیفی حملہ کے شروعات میں برطانوی فوجی اتر رہے ہیں۔ نارمنڈی، فرانس، 6 جون، سن 1944۔
نارمنڈی کے ساحلوں پر D-Day کے دن یورپ میں جرمنی فوجیوں کے خلاف ایک دوسری فرنٹ قائم کرنے کیلئے فرانس کے حلیفی حملہ کے شروعات میں برطانوی فوجی اتر رہے ہیں۔ نارمنڈی، فرانس، 6 جون، سن 1944۔
برطانوی فوجی (یہودی جھنڈے میں لپٹی ہوئی) ایک پناہ گزین کی لاش کو ہٹا رہے ہیں جو پناہ گزینوں کے "تھیوڈور ہرزل" نامی جہاز میں اُس وقت مار دیا گیا جب یہ جہاز برطانوی بحریہ کے ناکہ بندی کے علاقے سے زبردستی گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہیفہ بندرگاہ، فلسطین، 14 اپریل 1947۔
اپریل 1947 میں، برطانوی بحریہ نے تھیوڈور ہرزل نامی جہاز کو یورپ سے برطانیہ کے زیر کنٹرول لازمی فلسطین جاتے ہوئے روک لیا۔ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے سینکڑوں افراد سوار تھے، جن میں بچے بھی شامل تھے، جو گھر کی تلاش میں تھے۔ اس تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ برطانوی فوجی کچھ یہودی پناہ گزین بچوں…
وہ یہودی پناہ گذیں جنہیں برطانوی فوجیوں نے بحری جہاز "ایکسوڈس 1947 " سے زبردستی اتارا تھا، پاپینڈورف کے بے دخل افراد کے کیمپ میں پہنچ گئے۔ یہ تصویر ہینری ریئس نے اُتاری تھی۔ جرمنی، 8 ستمبر 1947۔
کیپٹن لیسڈن ڈی ڈے پر نارمنڈی پر اتحادیوں کے حملے سے دو دن پہلے 4 جون 1944 کو برطانوی فوج کے فوجیوں کو بریفنگ دیتے ہیں۔
برطانوی یہودی لیڈر سڈنی سلور مین نے جنیوا میں ورلڈ جیوئش کانگریس کے نمائیندے گرھارٹ ریگنر کی طرف سے بھیجی گئی کیبل کی یہ کاپی امریکی یہودی لیڈر اسٹیفن وائز کو روانہ کی۔ ریگنر نے اُن کی حکومتوں کی وساطت سے دو کیبلز روانہ کی تھیں جن میں سلورمین اور وائز کو یورپین یہودی برادری کو ختم…
برلن اولمپک کھیلوں کے دوران نازی اشاعتوں کی نمائش ۔۔ ان میں سے سام دشمن عنوانات کو احتیاط کے ساتھ حذف کر دیا گیا تھا۔ پوسٹر میں اُن ملکوں کو دکھایا گیا جہاں ہٹلر کی کتاب مائن کیمپف کے تراجم مقامی زبانوں میں شائع ہوئے تھے۔ برلن، جرمنی، اگست 1936 ۔
برلن اوپرن پلاٹز میں ایس اے کے اہلکاروں اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء کی طرف سے برلن میں "غیر جرمن" قرار دی جانے والی کتابوں اور دیگر اشاعتی مواد کو نظر آتش کیا جا رہا ہے۔ جرمنی، 10 مئی، 1933 ۔
برلن میں اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں ایڈولف ہٹلر اولمپک کھیلوں کے جھنڈے کو سلامی دے رہا ہے۔ یکم اگست، 1936 ۔
برلن میں اولمپک کھیلوں کے دوران جرمن (سواسٹیکا) اور اولمپک جھنڈے برلن شہر میں آویزاں ہیں۔ اگست 1936 ۔
برلن میں ایک جرمن خاتون برلائنر السٹرائٹ اخبار کا مطالعہ کر رہی ہیں، جس میں ستمبر 1937 میں مسولینی کی باضابطہ طور پر برلن کا دورہ کرنے سے متعلق تصاویر ہیں۔
برلن میں ایک راہ گیر رُک کر ایک ڈسپلے بکس پر لگے سام دشمن اخبار "دیئر شٹوئرمر" (حملہ آور) کا ایک شمارہ پڑھ رہا ہے۔ "دیئر شٹوئرمر" کو جرمنی بھر کے بس اڈوں، مصروف سڑکوں، پارکوں اور فیکٹری کینٹینوں جیسی جگہوں پر نمایاں طور پر لگایا جاتا تھا۔ برلن، جرمنی، غالباً 1930 کی دہائی میں۔
برلن میں کتابوں کو نذر آتش کئے جانے کے دوران طلباء اور ایس اے کے ارکان گاڑی سے وہ کتابیں باہر نکال رہے ہیں جنہیں "غیر جرمن" قرار دیا گیا تھا۔ بینر پر تحریر ہے: "جرمن طالب علم غیر جرمن جزبے کے خلاف مارچ کر رہے ہیں۔" برلن، جرمنی، 10 مئی، 1933 ۔
برلن میں کتابوں کو نذر آتش کئے جانے کے دوران طلباء اور ایس اے کے اہلکار ہاتھوں میں "غیر جرمن" قرار دیا گیا اشاعتی مواد اُٹھائے ہوئے ہیں۔ جرمنی، 10 مئی، 1933 ۔
برلن میں کتابیں نظر آتش کی جا رہی ہیں۔ جرمنی، 10 مئی، 1933 ۔
برلن میں ہونے والی ایک نازی ریلی میں جرمن تماشائی نازی جھنڈوں اور نازی نشان سواسٹیکا سے سجی ایک یادگار کے ساتھ کھڑے ہيں۔ جرمنی، 1937۔
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.