تصویروں سے متعلق حروف تہجی کی فہرست کو براؤز کریں۔ یہ تاریخی تصاویر دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ سے پہلے، دوران اور بعد کے لوگوں، مقامات اور واقعات کی تصویر کشی کرتی ہیں۔
برلن کے اوپرن پلاٹز میں ایس اے کا ایک اہلکار "غیر جرمن" قرار دی جانے والی کتابوں کو نذر آتش کر رہا ہے۔ برلن، جرمنی، 10 مئی، 1933 ۔
برلن کے اوپرن پلاٹز میں جرمن طلباء کا ہجوم اور ایس اے کے اہلکار "غیر جرمن" قرار دی جانے والی کتابوں کو نظر آتش کرنے کیلئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ برلن، جرمنی، 10 مئی، 1933 ۔
برلن کے لسٹ گارٹن میں یوم مئی کی پریڈ کے لئے نازی کے نشان سواسٹیکا سے سجا ہوا مئی پول کھڑا کیا گیا ہے۔ نازی کیلنڈر میں مئی کی اس چھٹی کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ جرمنی، اپریل 26، 1939
برٹ اور این بوخوو جنھوں نے ایمسٹرڈیم کے مضافاتی علاقے ھوئزین میں اپنی فارمیسی میں 37 یہودیوں کو چھپائے رکھا، یہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ۔ ان دونوں کو "قوم کے راست باز لوگوں" کا خطاب دیا گیا۔ نیدرلنڈ، 1944 یا 1945۔
برین ڈونک ٹرانزٹ کیمپ کے باہر ایک سائن جس کے ذریعے خبردار کیا جا رہا ہے کہ بغیر اجازت داخل ہونے والوں کو گولی مار دی جائے گی۔ برین ڈونک، بیلجیم، 1940-1944۔
بریکن رج لونگ (1958-1881)، امریکہ کی اسٹینٹ سیکٹری آف اسٹیٹ امیگریشن اور پناہ گزینوں کے معاملات پر اختیار کے ساتھ ہالوکاسٹ کے دوران۔ واشنگٹن ڈی۔ سی، امریکہ، اگست 1943۔
بلغارہ کے مقبوضہ مقدونیہ اور تھریس سے یھودیوں کو "مونوپول" تمباکو فیکٹری میں قید کیا جاتا تھا جو ٹرانزٹ کیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ بالآخر انہیں ٹریبلنکا کی قتل گاہ میں جلا وطن کر دیا جاتا تھا۔ اسکوپجے، مقدونیہ، مارچ 11-31، 1943ء:
بلغاریہ کے مقبوضہ مقدونیہ اور تھریس سے یھودیوں کو "مونوپول" تمباکو فیکٹری میں قید کیا جاتا تھا جو ٹرانزٹ کیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ بالآخر انہیں ٹریبلنکا کی قتل گاہ میں جلا وطن کر دیا جاتا تھا۔ اسکوپجے، مقدونیہ، مارچ 11-31، 1943ء:
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں آزاد ہونے والے قیدیوں کا سخت بھیڑ کے باعث احتجاجی مظاہرہ، جرمنی، 23 اپریل 1945۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں آزادی کے بعد لاشوں کا ڈھیر۔ بوخن والڈ، جرمنی، مئی 1945 ۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں ایس ایس کا چیف ڈاکٹر ولادیمار ھوون امریکی فوجی عدالت کے روبرو مقدمے کے دوران۔ ھوون نے قیدیوں پر طبی تجربات کئے تھے۔ نیورمبرگ، جرمنی، 23 جون، 1947 ۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں بیرکوں کا ایک منظر۔ یہ تصویر کیمپ کی آزادی کے بعد لی گئی۔ بوخن والڈ، جرمنی، 11 اپریل، 1945 ۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں رول کال کے دوران ایس ایس کے ارکان اور پولیس اہلکار ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ بوخن والڈ، جرمنی، 1938 ۔ 1940 ۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں رول کال کے دوران قیدی۔ اُن کی وردی پر تکونے بیج اور شناختی نمبر موجود ہیں۔ بوخن والڈ، جرمنی، 1938 ۔ 1941 .
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں زندہ بچ جانے والے قیدی امریکی فوجیوں سے بھری ہوئی گاڑیوں کے گرد اکٹھے ہو رہے ہیں۔ جرمنی، مئی 1945 ؕ
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں نئے قیدیوں کی حاضری۔ ان میں سے زیادہ تر یہودی تھے جنہیں کرسٹل ناخٹ ("ٹوٹے شیشوں کی رات") کے دوران گرفتار کیا گیا۔ بوخن والڈ، جرمنی، 1938 ۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں پہنچنے والے نئے قیدی۔ بوخن والڈ، جرمنی، 1938-1940۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ کا ایک منظر آزادی کے بعد۔ بوخن والڈ، جرمنی، 11 اپریل، 1945 کے بعد۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ کی آزادی کے بعد امریکی فوجی کیمپ میں داخل ہو رہے ہیں۔ بوخن والڈ، جرمنی، 11 اپریل 1945 کے بعد۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ کے دروازے کے سامنے مزاحمتی تنظیم کے اراکین کی امریکی فوجیوں سے ملاقات۔ بوخن والڈ، جرمنی 11 اپریل 1945 کے بعد۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ کے قریب امریکی فوجیوں کو ملنے والی شادی کی انگوٹھیاں۔ جرمنی، مئی 1945 ۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ کے قریب جنگل میں قیدیوں کو پھانسی دی جا رہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ یہودی تھے۔ جرمنی، 1942 یا 1943 ۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ کے نگرانی کے ٹاور اور خاردار تاروں کی باڑ کا منظر۔ جرمنی، جنگ کے زمانے میں۔
بوخن والڈ میں لاشوں کی بھٹی کے عقب میں لاشوں کا ڈھیر۔ جرمنی، مئی 1945 ۔
بویریا کی ایک سٹرک پر نصب یہود مخالف سائن کی عبارت میں لکھا ہے "یہودیوں کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔" جرمنی، 1937۔
بچوں کا ایک گروپ جسے جنوبی فرانس کے قصبے لی چیمبون۔ سر۔ لگنون میں پناہ دی گئی تھی۔ لی۔ چیمبون۔ سر۔ لگنون، فرانس، اگست 1942 ۔
بچوں کی ایک پینٹنگ جس میں یہودیوں کو ھنوکہ یعنی جشن چراغاں مناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر مائیکل یا میرئیٹا گرنباؤم نے تھیریسئن شٹٹ میں بنائی تھی اور پھر ان کی والدہ نے رہائی کے کچھ عرصے بعد اسے ایک اسکریپ بک میں چپکا دیا تھا۔ تھیریسئن شٹٹ, چکوسلواکیا, 1943.
بچوں کی ایک کتاب سے تصویر۔ شہ سرخیاں ہیں "یہودی ہماری بدقسمتی ہیں" اور "یہودی کیسے دھوکہ دیتا ہے۔" جرمنی، سن 1936۔
بچوں کی سام دشمنی سے متعلق ایک ابتدائی کتاب سے ایک تصویر ۔ سائن میں لکھا ہے "یہاں یہودیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے"۔ جرمنی، 1936۔
بچے یہودی بستی کی گلیوں میں کھانا کھا رہے ہیں۔ وارسا، پولینڈ، 1940 اور 1943 کے درمیان۔
بڈاپیسٹ میں جوزسیفواروسی ٹرین اسٹیشن سے یہودیوں کی جلاوطنی۔ ہنگری، نومبر 1944۔
بڑھئی کی ایک دوکان میں جبری مشقت پر معمور بچے۔ کوونو گھیٹو، لیتھوانیا، 1941 اور 1944 کے درمیان۔
بیئلسکی حامی گروپ کے ایک بانی رکن ایلگزانڈر بیئلسکی کا جنگ کے بعد ایک پورٹریٹ۔ 1945-1948 ۔
بیالسٹاک گھیٹو کی زیر زمین تنظیم کے منتظمین میں سے ایک اور بیالسٹاک گھیٹو کی بغاوت میں شریک ایک شخص ھیکا گروزمین۔ پولینڈ، 1945۔
بیلاروس کے ناروچ جنگل میں یہودی حامی جماعت کے اراکین جن میں گانے اور ناچنے والا ایک گروپ بھی شامل تھا۔مسلح مزاحمت کے علاوہ یہودی مزاحمتی گروپ نے روحانی مزاحمت پر بھی زور دیا۔ یہ روایات اور ثقافت کو تحفظ دینے کی ایک کوشش تھی۔ سوویت یونین، 1943۔
"سینٹ لوئیس" جہاز کو کیوبا سے یورپ لوٹنے پر مجبور کئے جانے کے بعد بیلجیم کے سرکاری اہلکار جہاز کے عرشے پر۔ بیلجیم نے کچھ مسافروں کو بیلجیم میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ اینٹ ورپ، بیلجیم، جون 1939
بیلزیک کی قتل گاہ میں قیدیوں کے ایک دستے کی آمد۔ بیلزیک، پولینڈ 1942.
بین الاقوامی ریڈ کراس کا پوسٹر جس میں چاڈ کے پناہ گزیں کیمپوں میں بچوں کی تصویروں کو دکھایا گیا ہے۔ عنوان ہے " ہمارے گھر والوں کو تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں"۔ چاڈ، 2005۔
بین الاقوامی فوجی عدالت ایک ایسی عدالت تھی جو فاتح اتحادی حکومتوں نے قائم کی تھی۔ یہاں ججوں کے بینچ کے پیچھے روسی، برطانوی، امریکی اور فرانسیسی جھنڈے لٹکے ہوئے ہیں۔
سیاسی کارٹونسٹ سیپلا (جوزف پلانک) کی جانب سے تیار کردہ نازی پروپیگنڈے کا کارٹون۔ جرمنی، تاریخ غیر یقینی ہے [غالباً دوسری جنگ عظیم کے دوران]۔1920 کی دہائی کے آغاز میں، نازی پروپیگنڈہ کرنے والوں نے سام دشمنی کی جھوٹی کہانی کو فروغ دیا کہ یہودی دنیا پر قبضہ کرنے کے لئے ایک بڑی سازش میں لگے…
بے دخل ہونے والے افراد کے بیڈ ریخن ھال کیمپ میں بچے۔ جرمنی، 1945۔
بے گھر لوگوں کے کیمپ لینڈز برگ میں ایک او۔ آر۔ ٹی (تربیت کے ذریعہ آبادکاری کی تنظیم) کی ایک آٹو مکینک کلاس۔ جرمنی، جنگ کے بعد۔
تصویر میں برٹا روزن ھائم اسکول کے پہلے دن پر مٹھائیوں اور اسٹیشنریوں سے بھری ہوئی ایک بڑی کون پکڑے کھڑی ہے۔ لیپزگ،جرمنی، اپریل 1929
تصویری پوسٹ کارڈ جس میں سلامی دینے والوں کو ہٹلر اور ایک نازی اسٹارم ٹروپر کی بڑی تصویر پر سوپر امپوز کیا گیا ہے۔ میونخ، جرمنی، سن 1932.
تصویریں، نمونے اور ایک نقشہ جو بین الاقوامی فوجی عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا گيا۔ نیورمبرگ، جرمنی، 20 نومبر 1945 اور یکم اکتوبر 1946 کے درمیان۔
تل ابیب کی سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم اسرائیل کے قیام کی سالانہ تقریب کا جشن منانے کیلئے اکھٹا ہوا۔ تل ابیب، اسرائیل، مئی 1949
تھیراسئین شٹٹ گھیٹو میں ڈچ یہودیوں کی آمد۔ چیکوسلواکیہ، فروری 1944۔
تھیریسئن شٹٹ جلاوطن ہونے والے جرمن یہودیوں سے بھری ہوئی ٹرین کی روانگی۔ ھاناؤ، جرمنی، 30 مئي، 1942۔
تھیریسئن شٹٹ جلاوطنی سے پہلے شناختی ٹیگ پہننے والے جرمن یہودی۔ ویزبیڈن، جرمنی، اگست 1942.
تھیریسئن شٹٹ میں چیک سیاسی قیدی کیرن برمل کا پہنا ہوا تکون کی شکل کا لال پیچ۔ حرف "ٹی" سے مراد "شیشے" ہے۔ ("چیک" کے لئے جرمن زبان کا لفظ)۔
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.