A witness is sworn in at the trial of 61 former personnel and prisoners from the Mauthausen concentration camp. [LCID: 11724]

جنگی جرائم کے مقدمے

قتل عام کے بعد انصاف حاصل کرنے کا ایک ذریعہ قانونی راستہ ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی اور داخلی دونوں طرح کی عدالتوں نے جنگی جرائم کے ملزموں پر مقدمہ چلایا۔ 1942 کے موسمِ سرما میں اتحادی قوتوں کی حکومتوں نے نازی جنگی مجرموں کو قانونی طریقے سے سزا دینے کا اعلان کیا۔ 17 دسمبر 1942 میں امریکہ، برطانیہ اور سویت یونین کے راہنماؤں نے پہلا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں اُنہوں نے یورپ کے یہودیوں کے قتلِ عام کا نوٹس لیا اور شہری آبادیوں کے خلاف تشدد کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

اکتوبر 1943 کے ماسکو اعلامیے پر امریکی صدر فرینکلن ڈی۔ روزویلٹ، برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل اور سوویت راہنما جوزف اسٹالن نے دستخط کئے۔ اِس اعلامیے میں کہا گیا کہ وہ جنگی مجرم جنھیں اس جنگ کا ذمہ دار خیال کیا جاتا ہے ان کو ان ملکوں میں واپس بھیج دیا جائے گا جہاں وہ جرم سرزد ہوئے تھے اور وہاں کے قانون کے مطابق ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ایسے بڑے جنگی مجرم جن کے جنگي جرائم کسی خاص جغرافیائی علاقے سے وابستہ نہیں کئے جا سکتے، ان کو اتحادی حکومتوں کے مشترکہ فیصلوں کے مطابق سزا دی جائے گی۔ کلیدی جرمن اہلکاروں کے مقدمے بین الاقوامی فوجی عدالت یعنی انٹرنیشنل ملٹری ٹرائبیونل IMT کے سامنے پیش کئے گئے۔ یہ جنگِ عظیم کے بعد کے مشہور ترین مقدمے قرار دئے گئے۔ اِن مقدموں کا انعقاد نورمبرگ جرمنی میں اُن ججوں کے سامنے ہوا جو چاروں اتحادی قوتوں کی نمائیندگی کر رہے تھے۔

18 اکتوبر1945 اور یکم اکتوبر1946 کے درمیان بین الاقوامی فوجی عدالت نے سازش کرنے، امن کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے سلسلے میں بائیس بڑے جرمن مجرموں کے مقدمے سنے۔ بین الاقوامی فوجی عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کو سیاسی، نسلی یا مذہبی بنیادوں پر"قتل، ہلاکت، افراد کو غلام بنانے، جلا وطنی اور لوگوں پر ظلم و ستم روا رکھنے کے حوالے سے تعبیر کیا۔ عدالت نے اُن مجرموں میں سے بارہ کو سزائے موت دے دی۔ ان میں ھانس فرینک، ہرمان گورنگ، ایلفریڈ روزن برگ اور جولیئس اسٹریخرشامل تھے۔ آئی۔ ایم۔ ٹی نے تین ملزموں کو عمر قید اور چار کو دس سے بیس برس تک کی قید کی سزائیں سنائیں۔ عدالت نے تین ملزموں کو بری بھی کر دیا۔

آئی۔ ایم۔ ٹی کے زیر اہتمام امریکی فوجی ٹرائبیونلز نے نیورمبرگ میں اعلیٰ سطح کے چار جرمن اہلکاروں کے مقدمات بھی نمٹائے۔ یہ مقدمات اکثر مجموعی طور پر نیورمبرگ کارروائیوں کے نام سے جانے جاتے تھے۔ جرمنی کی خفیہ ریاستی پولیس اور ایس ایس کے ارکان کے ساتھ ساتھ جرمن صنعتکاروں پر بھی نیورمبرگ قوانین پر عملدرآمد، نام نہاد آریانائزیشن پالیسیوں، جبری کیمپوں میں یہودیوں کے قتل عام، آئن سٹز گروپن نامی گشتی قاتل یونٹوں، جلاوطنی، جبری مشقت لینے، گیس سے قتل کے عمل میں استعمال ہونے والی زہریلی گیس زائکلون بی کی فروخت کرنے اور کیمپوں کے قیدیوں پر نیم سائینسی تجربات کرنے کے حوالے سے مقدمے چلائے گئے۔

1945 کے بعد کے جنگی جرائم کے مقدمات کی واضح اکثریت نچلی سطح کے اہلکاروں اور افسروں سے متعلق تھی۔ اِن میں جبری کیمپوں کے گارڈ اور کمانڈنٹ، پولیس افسر، آئن سیٹز گروپن کے ارکان اور طبی تجربات میں شامل ڈاکٹر شامل تھے۔ اِن جنگی مجرموں کے مقدمات برطانیہ، امریکہ، جرمنی اور آسٹریہ کے فرانسیسی اور سوویت مقبوضہ علاقوں اور اٹلی میں منعقد ہوئے۔

دوسرے مجرموں پر ان ملکوں کی عدالتوں نے مقدمے چلائے جہاں انھوں نے جرم کئے تھے۔ 1947 میں پولنڈ کی ایک عدالت نے آشوٹز کیمپ کے کمانڈنٹ روڈولف ہیس کو موت کی سزا دی۔ مغربی جرمنی کی عدالتوں میں بہت سے سابق نازیوں کو سخت سزائیں نہیں ملیں کیونکہ اُن کا دعویٰ تھا کہ یہ لوگ اعلی افسروں کے احکام کے مطابق ایسا کرنے پر مجبور تھے اور یوں عدالت نے اُن کے ساتھ قدرے نرمی برتی۔ یوں بہت سے نازی مجرم جرمن معاشرے کی عام زندگي خاص طور پر کاروباری دنیا میں واپس لوٹ گئے۔

سائمن وائزن تھل اور بیٹ کلارس فیلڈ جیسے نازی مجرموں کا تعاقب کرنے والوں کی کوششوں کے ذریعے جنگ کے بعد جرمنی سے فرار ہونے والے بہت سے نازیوں کی گرفتاری، ملک بدری اور اُن کے خلاف مقدمات چلانا ممکن ہو سکا۔ ایڈولف آئخمین کا مقدمہ 1961 میں یروشلم میں منعقد ہوا جس نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔

تاہم بہت سے جنگی مجرموں پر مقدمے نہیں چلائے جا سکے اور اُنہیں سزائیں نہیں دی جا سکیں۔ بہت سے سزا یافتہ افراد کی سزاؤں میں بھی بالآخر تخفیف کر دی گئی۔ بہر طور نازی جنگی مجرموں کی تلاش اب تک جاری ہے۔