ذاتی تاریخ

بیلا جاکوبوویچ ٹووے سوسنووچ میں یہودی کونسل کے لیڈر کے ساتھ اپنے والد کی ملاقات کی تفصیل بتاتی ہیں

بیلا سوزنوویک ميں رہنے والے ایک یہودی خاندان کے چار بچوں ميں سب سے بڑي تھی۔ اس کے والد ایک بنائی کی فیکٹری کے مالک تھے۔ جب 1939 میں جرمنوں نے پولینڈ پر حملہ کیا تو انہوں نے فیکٹری پر قبضہ کر لیا۔ خاندان کا سازوسامان ایک جرمن عورت کو دے دیا گیا۔ سن 1941 میں بیلا کو سوزنوویک کی یہودی بستی میں ایک فیکٹری مں کام کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ سن 1942 کے اختتام میں اس کے خاندان کو بیڈزن یہودی بستی میں جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ 1943 میں بیلا کو گراس روزن کے گرابن نامی ایک ذیلی کیمپ میں جلاوطن کر دیا گیا اور 1944 میں برجن بیلسن بھیج دیا گیا۔ اس کو اپریل 1945 میں آزاد کر دیا گیا۔

 

مکمل نقل

[موشے] موئنییک میرن، جو مالک تھے۔۔۔ جو بستی کے سربراہ تھے، میرے والد سے سڑک پر ملے۔ وہ میرے والد کو جانتے تھے اور انہیں پسند کرتے تھے۔ انہوں نے میرے والد کے لیے کام کیا تھا۔ اُنہوں نے میرے والد کو ملیشیا مین کے کام کی پیشکش کی۔ میرے والد نے کہا، "آپ کیوں مجھے ملیشیا مین بننے کے لیے کہہ رہے ہیں؟ میرا مطلب ہے، آپ جانتے ہیں کہ یہ کام کرنا میرے لیے بہت مشکل ہوگا۔" موئنییک میرن نے ان سے کہا، "خوفناک وارداتیں ہو رہی ہیں اور آپ جانتے ہیں، لوگ غائب ہو رہے ہیں۔ لیکن ایک جنگ چل رہی ہے، اور ہو سکتا ہے جنگ بند ہو۔ ہو سکتا ہے اس ماہ کے آخر تک۔ ہو سکتا ہے چھ ماہ بعد۔ میں اس بستی کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں جتنے لوگوں کو بچا سکتا ہوں انھیں بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر آپ ملیشیا مین کے طور پر کام کر رہے ہوں تو آپ کے پاس اپنے خاندان کو بچانے کا امکان اتنا ہی بہتر ہے۔" اور میرے والد نے اس سے کہا۔ "میں ایک مذہبی یہودی ہوں۔ میں کسی کے دروازے پر دستک دے کر نہیں کہہ سکتا۔۔۔ کہ کسی کو کسی ایسی جگہ لے جائے جہاں بقول آپ کے، خوفناک چیزیں ہو رہی ہیں۔" اور موئنییک میرن بہت بے چین ہو گیا اور کہنے لگا، "مجھے سمجھ نہیں آ رہی آپ کیوں انکار کر رہے ہیں۔" میں آپ کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اور یہ آپ کا خدا ہے۔۔۔ میں آپ کو جانتا ہوں۔۔۔ یہ آپ کا خدا ہے جو یہ سب کچھ کر رہا ہے۔ وہ ان پورے مصائب کو دیکھ رہا ہے، ہماری تمام مشکلات کو، اور وہ ایک انگلی تک نہیں اٹھا رہا ہے۔ آپ جو کر سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ آپ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں۔ وہ آپ کی مدد نہیں کر رہا ہے۔" اور میرے والد نے اس سے کہا، "مجھے نہیں معلوم یہ کون کر رہا ہے. لیکن اگر یہ خدا ہے تو میں اس کا ملک الموت بننے کو تیار نہیں ہوں۔ میں اس کا موت کا فرشتہ نہیں بنوں گا۔"


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.