ذاتی تاریخ

چیم اینجل سوبی بور میں آمد کے بارے میں بتاتے ہیں

سن 1939 میں جب پولش فوج میں چیم کی تعیناتی شیڈول کے مطابق ختم ہونے والی تھی، جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ جرمنوں نے چیم کو گرفتار کیا اور اس کو زبردستی مشقت کے لئے جرمنی بھیج دیا۔ بطور ایک یہودی جنگی قیدی کے چیم کو بعد میں پولینڈ لوٹا دیا گيا۔ بعد میں اس کو سوبیبور کیمپ میں بھیج دیا گيا جہاں اس کے خاندان کے باقی لوگ مر گئے۔ 1943 میں سوبیبور بغاوت میں چیم نے ایک گارڈ کو قتل کر دیا۔ وہ اپنی محبوبہ سیلما کے ساتھ بچ کر بھاگ نکلا اور بعد میں اس سے شادی کر لی۔ ایک کسان نے ان کو اُس وقت تک خفیہ طور پر پناہ دی جب تک کہ سوویت فوجیوں نے جون سن 1944 میں اُنہیں آزاد نہیں کرا دیا۔

مکمل نقل

ہم سوبیبور پہنچے۔ میں اپنے بھائی اور دوست کے ساتھ تھا۔ ہم وہاں دوسرے لوگوں سے ملے۔ تقریبا سات آٹھ سو لوگ۔ وہ ہم سب کو ٹرین سے باہر لے گئے اور ہمیں دو لائینوں میں کھڑا کیا اور انہوں نے لوگوں کو چن کر جمع کرنا شروع کیا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح لوگوں کو چننے کا کیا مطلب ہے۔ ایک جرمن نے مجھ سے پوچھا "تم کہاں کے رہنے والے ہو؟" میں نے کہا "لوڈز۔" "باہر جاؤ" پھر وہ آگے بڑھ گئے۔ "تم کیا کام کرتے ہو؟" "میں ایک بڑھئی ہوں۔" "باہر جاؤ" اس طرح سے انہوں نے تقریبا اٹھارہ بیس افراد چنے۔ اتنا کہنا مناسب ہو گا کہ جانے سے پہلے ہم نے پولینڈ میں سنا تھا کہ یہودیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ ان کو قتل کیا جاتا ہے اور گیس کے ذریعے ہلاک کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی چیزیں۔ مگر ہمیں حقیقتا یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ شاید جوان لوگوں کو کام پر لگا دیا جائے گا۔ شاید صرف بوڑھے لوگوں کے ساتھ ایسا کیا جاتا تھا۔ ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ہمارے لئے ناقابل فہم تھا۔ اتنا ناقابل یقین تھا کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ چاہیے آپ کتنی ہی آگاہی کیوں نہ رکھتے ہوں، آپ کو یہ بات ناقابل یقین ہی لگے گی۔ جب انہوں نے ہمیں کیمپ کے باہر چن کر رکھا، حقیقتا مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ آیا زندگی یا موت۔۔۔ سو وہ ہم بیسوں کو لے گئے۔ وہ ہمیں ایک طرف لے گئے اور باقی لوگوں کو کیمپ میں گیس چیمبر میں بھیج دیا گیا۔ یہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا۔ وہاں ہم کام کرنے لگے۔ دوپہر کے وقت وہ ہم سب کو دیگر افراد کے ساتھ لے گئے کپڑے الگ کرنے کیلئے۔ یہ ہمارا کام بن گیا اور جب میں نے کپڑے الگ کرنے شروع کئے۔ یہ کپڑے ان لوگوں کے تھے جو ابھی ابھی ہمارے ساتھ لائے گئے تھے۔ جب میں اپنا کام کر رہا تھا مجھے اپنے بھائی کے کپڑے ملے۔ اس کی اور ہمارے خاندان کی تصویر۔ اس وقت مجھے معلوم ہو گيا تھا۔ مجھے پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ میرے بھائی اور دوست کو گیس چیمبر میں بھیج دیا گيا تھا اور میں یہاں اس کے کپڑے الگ کر رہا تھا۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

شیئر کریں