ذاتی تاریخ

سام اٹزکووٹز آزادی کے بعد کے اولین لمحات کا ذکر کرتے ہیں

جرمنی نے 1939 میں پولینڈ پر حملہ کیا۔ مکاؤ پر قبضہ ہونے کے بعد سام بھاگ کرسوویت علاقے میں چلے گئے۔ وہ اپنی ضرورت کی اشیاء حاصل کرنے کیلئے مکاؤ واپس آئے مگر اُنہیں گھیٹو یعنی یہودی بستی میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ 1942 میں اُنہیں آشوٹز بھجوا دیا گیا۔ جب 1944 میں سوویت فوجوں نے پیش قدمی کی تو سام اور دوسرے قیدیوں کو جرمنی کے کیمپوں میں بھیج دیا گيا۔ اِن قیدیوں کو 1945 میں موت کے مارچ پر روانہ کر دیا گیا۔ سام کو امریکی فوجیوں نے اُس وقت آزاد کرا لیا جب وہ بمباری کے دوران وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

مکمل نقل

ٹینکوں کی رفتار کم ہوئی اور انھوں نے مجھے جنگل سے نکلتے دیکھا۔ انھوں نے سوچا کہ میں کوئی جرمن ہوں۔ لہذا وہ رک گئے اور مجھے ایک جنگی قیدی کی حیثیت سے گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ پھر جب انھوں نے میری وردی اور میری حالت دیکھی تو میں اس کے کہے ہوئے الفاظ دہرانا نہیں چاہتا۔ اس نے لعنت ملامت شروع کردی اور کہا "خدا کی مار ہو ۔۔۔۔" بالکل ایک فوجی کی طرح۔ اس نے اپنی جیب سے ایک چاکلیٹ نکالی اور مجھے دی۔ چاکلیٹ بہت ہی سخت تھی اور کسی قدر میٹھی بھی۔ اس میں غذائیت تھی۔ میں نے اُسے چبانے کی کوشش کی۔ اگر میں پورا نگل سکتا تو اسے نگل جاتا۔ چونکہ میں ایسا نہیں کرسکا اس لئے میں اسے چوستا رہا۔ وہ وہاں کھڑا مجھے صرف دیکھتا رہا۔ اُس نے مجھے سگریٹ کا ایک پیکٹ نکال کر دیا۔ مگر میں نے سگریٹ نہیں پیا۔ میں نے پیکٹ جیب میں رکھ لیا۔ پھر اس نے کچھ "کے" راشن (فوجی راشن) نکالا یعنی کریکر بسکٹ، سپام [ڈبے میں بند گوشت] اور جو کچھ بھی اس کے پاس تھا۔ یہ سب اُس نے مجھے دینا شروع کر دیا اور میں وہاں ایک ایسے بچے کی طرح کھڑا تھا جو کھلونوں کی کسی دوکان میں ہو۔ اُس نے میرے کندھے کو تھپتھپایا اور کہا "ڈاکٹر۔" وہ مجھے یہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ میرے لئے کسی ڈاکٹر کو بلائے گا۔ تقریبا دس منٹ کے بعد وہ ڈاکٹر کے ساتھ واپس آیا۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ آيا وہ ڈاکٹر تھا یا کوئی اور طبی اہلکار۔ اس نے میری طرف ایک نظر دیکھا اور ایک اشارہ کیا۔ وہ ایک اسٹریچر کے ساتھ آئے اور مجھے اس پر ڈال کر کھیت میں واقع ایک ڈسپنسری میں لے گئے۔ میرے خیال میں وہاں ایک یہودی ڈاکٹر تھا۔ اس نے میری طرف دیکھا اور میری دیکھ بھال کرتا رہا۔ اس نے شروع میں مجھے کھانے کو کچھ نہ دیا۔ اس نے مجھے چائے دی اور کریم نکلے ہوئے دودھ کے ساتھ کچھ سیریل دیا۔ میں اس قدر بھوکا تھا کہ اگر وہاں پورا گھوڑا بھی ہوتا تو میں اسے بھی کھا جاتا۔ وہ چیختا رہا "آرام سے کھاؤ۔ آرام سے کھاؤ۔" لہذا میں نے سوچا "میں آرام سے کھاؤں۔ یہ مجھے مارنا چاہتا ہے۔ ہٹلر نے تو مجھے نہیں مارا لیکن یہ مجھے مارنے کی کوشش کررہا ہے۔" لیکن وہ ہر دو گھنٹے کے بعد میرے کھانے کی مقدار بڑھاتا رہا۔ اور پھر میں نے جان لیا کہ وہ میرا بھلا ہی چاہتا ہے۔ میں اب بھی بھوکا تھا لہذا میں دوسرے اور تیسرے دن بھی مسلسل کھاتا رہا۔ وہ وہاں پر بیٹھا صرف مجھے دیکھ رہا تھا کہ وہ جو بھی میز پر رکھ رہا ہے میں کتنے شوق و اشتیاق سے کھارہا ہوں-- بھنے ہوئے آلو، بیکن، سوسیج وغیرہ جو بھی اس نے میز پر رکھا میں سب کچھ کھاتا رہا۔ میں چار دن تک اسی طرح کھاتا رہا حتٰی کہ میرا پیٹ بھر ہی گيا۔


  • Jewish Community Federation of Richmond
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.