تصویروں سے متعلق حروف تہجی کی فہرست کو براؤز کریں۔ یہ تاریخی تصاویر دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ سے پہلے، دوران اور بعد کے لوگوں، مقامات اور واقعات کی تصویر کشی کرتی ہیں۔
جنگ سے پہلے ایک مجمع میں دو جرمنی یہودی خاندان۔ ان میں سے صرف دو افراد ہالوکاسٹ سے بچ سکے۔ جرمنی 1928۔
جنگ کے بعد، ہالوکاسٹ کے نتیجے میں ہزاروں یہودی بچے یورپ بھر کے یتیم خانوں میں پہنچ گئے۔ بیلجیم کے شہر ایٹربیک کے اس بچوں کے مرکز میں چھوٹے بچے چھپے رہنے کی وجہ سے بچ گئے لیکن ان کے والدین کو جلاوطن کرکے آشوٹز بھیج دیا گیا۔
جنگی جرائم کے چیف کونسل امریکی بریگیڈیر جنرل ٹیل فورڈ ٹیلر استغاثہ کا ابتدائی بیان پڑھتے ہوئے وزارتوں کے مقدمے کا آغاز کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے ہٹلر کے وزراء پر "انسانیت کے خلاف جرائم" کا مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا۔ نیورمبرگ، جرمنی، 6 جنوری 1948۔
جنگی پناہ گزینوں کے بورڈ کے تیسرے اجلاس کے موقع پر سیکٹری آف اسٹیٹ کورڈل ہل کے دفتر میں اُتاری گئی تصویر۔ بائیں جانب سیکرٹری ہل، وسط میں خزانے کے سیکٹری ہینری مورگینتھاؤ جونئیر اور دائیں جانب جنگ کے سیکٹری ہینری ایل سٹمسن ہیں۔ واشنگٹن ڈی۔ سی، امریکہ، 21 مارچ 1944۔
جین کارسکی اور جنرل کولن پاؤل یو ایس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کی افتتاحی تقریب کے دوران ملے۔ واشنگٹن، ڈی سی، 22 اپریل 1993۔
جین کارسکی پولینڈ کی جلا وطن حکومت کیلئے ایک انڈرگراؤنڈ کوریئر تھے جنہوں نے مغرب کو یہودیوں پر پولینڈ میں ہونے والے نازی ظلم و ستم کے بارے میں موسم خزاں سن 1942 میں آگاہ کیا۔ واشنگٹن، ڈی سی، ریاستہائے متحدہ امریکہ، 1943۔
جین کارسکی (کھڑے ہوئے) پولینڈ کی جلا وطن حکومت کے لیے ایک انڈرگراؤنڈ کوریئر کا کام کرتے تھے۔ انہوں نے 1942 کے موسم خزاں میں پولینڈ میں یہودیوں کے خلاف نازیوں کے ظلم کے بارے میں مغرب کو آگاہ کیا۔ یہ تصویر سن 1944 میں ریاستہائے متحدہ امریکہ واشنگٹن، ڈی سی میں ان کے دفتر کے اندر کی ہے۔
حاجی امین الحسینی بوسنیا کے ایک سرکاری دورے کے دوران جرمن ایس ایس اور ویفن ایس ایس بوسنیائی ارکان کے ہمراہ، 1943۔
حراستی کیمپ میں زندہ بچ جانے والی ایک قیدی جیڈویگا زیڈو نیورمبرگ عدالت میں اپنی نشان زدہ ٹانگ دکھا رہی ہیں جبکہ ایک ماہر طبی گواہ ریوین بروک حراستی کیمپ میں اُن پر 22 نومبر 1942 کو کئے گئے طبی تجربات کی نوعیت بتا رہا ہے۔ ان طبی تجربات میں انتہائی مہلک بیکٹیریا کے ٹیکے بھی شامل تھے۔ یہ…
حراستی کیمپ کے قیدیوں پر طبی تجربات کرنے پر جن نازی ڈاکٹروں پر مقدمہ چلایا گیا، اُن میں سے ایک وکٹر بریک۔ نیورمبرگ، جرمنی، اگست 1947 ۔
حنا زینز، بوڈاپسٹ میں اپنے گھر کے باغ میں فلسطین جا کر امدادی مشن کے لئے چھاتا بردار کارکن بننے سے پہلے۔ بڈاپسٹ، ہنگری، 1939 سے پہلے۔
خار دار تاروں کی باڑ کا منظر جو کراکاؤ کی یہودی بستی کے ایک حصے کو شہر کے باقی حصوں سے الگ کرتی تھی۔ کراکاؤ، پولینڈ، تاریخ نامعلوم۔
خاردار تاروں کی باڑوں کے اندر سے فلوسین برگ حراستی کیمپ میں قیدیوں کی بیرکوں کا منظر۔ فلوسین برگ، جرمنی، 1942 ۔
دشمن سے تعاون کرنے والی نارویجین حکومت کا رہنماہ وڈکون کوئسلنگ اوسلو میں ایک تقریب کے دوران سلامی کا جواب دے رہا ہے۔ ناروے، اپریل 1940ء کے بعد۔
دو یہودی لڑکیاں (کزنز مارگوٹ اور لوٹے کیسل) بریسلاؤ، جرمنی میں اپنے اسکول کے پہلے دن کیلئے تیار ہیں۔ 1937۔ جرمنی میں تمام بچوں کے لئے اسکول کے پہلے دن کو منانے کیلئے روایتی طور پر کونز کو تحائف کے ساتھ بھرا جاتا ہے۔ مارگوٹ کے والد ساؤل، ٹیٹز ڈیپارٹمنٹ اسٹور میں کام کرتے تھے جنہیں…
دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی حکومت نے یروشلم کے مفتی اعظم الحاج امین الحسینی، جو ایک عرب نژاد اور مشہور مسلم مذہبی رہنما تھے، کو برطانیہ مخالف اور یہودی مخالف نشریات کرنے کیلئے مالی امداد فراہم کی تاکہ جرمنی اور محوری ممالک کیلئے بلقان اور مشرق وسطی کے مسلمانوں کی حمایت حاصل کی جا…
دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے کے چار روز بعد سیکٹری آف اسٹیٹ کورڈل ہل نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ واشنگٹن ڈی۔ سی میں غیرجانبدای قانون پر دستخط کئے (سب سے پہلے صدر فرینکلن ڈی۔ روزویلٹ نے دستخط کئے)، ریاستہائے متحدہ امریکہ، 5 ستمبر، 1939۔
دیئر شٹرمر کے انتہائی مقبول شمارے کا سرورق جو ہمیشہ سے ایک نازی اشاعت رہا، جس میں یہودیوں کے ذریعہ پہلے کی جانے والی ایک مذہبی قربانی کی تصویر دکھائی گئی ہے۔
"دیر ایویگے جوڈے" (آوارا یہودی) سے ایک ڈسپلے – یہ ایک نازی سام دشمن نمائش ہے جس کا دعوی تھا کہ یہودی جرمن پرفارمنگ آرٹس پر بہت زیادہ حاوی تھے۔ ڈسپلے کے اوپر لکھا گيا ہے "بے ہودہ تفریح" برلن، جرمنی، نومبر 11، 1948
رائن لینڈ (1918-1930) کے قبضے سے متعلق ایک جرمن اشاعت کی تصاویر، مغربی جرمنی کا ایک خطہ، اور سفید فام جرمن ماؤں نیز سیاہ فام فوجیوں سے پیدا ہونے والے کثیر النسل بچے۔ تاریخ اشاعت1936-1339۔
رائن ھارڈ ھیڈرش ایس ڈی (سیکورٹی سروس) کا سربراہ اور بوہیمیا اور موراویہ کا نازی گورنر تھا۔ جگہ نامعلوم، 1942
رافائل لیمکین (دائیں) برازیل کے سفیر اماڈو (بائیں) کے ساتھ جنرل اسمبلی کے عمومی اجلاس سے قبل جس میں نسل کُشی کی روک تھام اور سزا سے متعلق قوانین کی منظوری دی گئی۔ پلائس ڈی چیلٹ، 11 دسمبر، 1948 ۔
روتھ کوہن (اوپر والی لائن میں بائيں جانب سے دوسرے نمبر پر) پراگ کے ایک اسکول میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ۔ پراگ، چیکوسلواکیا، 1928
روشا مقدمے میں پندرہ سالہ ڈولیزلووا استغاثہ کے گواہ کی حیثیت سے حلف اُٹھا رہی ہیں۔ ڈولیزلووا اُن بچوں میں شامل تھیں جنہیں جرمن فوجیوں نے چیکوسلواکیا کے قصبے لیڈی سی کو تباہ کرنے کے بعد اغوا کرلیا تھا۔ نیورمبرگ، 30اکتوبر1947۔
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.