بچاؤ (مقالے کی تلخیص)

ہولوکوسٹ کے دوران یہودیوں کے قتل میں اکثر یورپی لوگوں اور دوسرے شرکاء کی بے اعتنائی کے باوجود، ہر یورپی ملک میں ہر مذھب سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہودیوں کی مدد کرنے کیلئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا۔ بچانے کی یہ کوششیں انفرادی سطح کے ساتھ ساتھ منظم اجتماعی انداز میں بھی چھوٹے اور بڑے پیمانہ پر ہوئیں۔ 1943 کے موسم خزاں کے دوران، جرمن مقبوضہ ڈنمارک میں مزاحمتی تحریک نے ایک امدادی کارروائی منظم کی جس میں ماہی گیروں نے خفیہ طور پر ملک کی 7800 یہودیوں کی آبادی میں سے 7،200 یہودیوں کو ایک چھوٹی سی کشتی میں حفاظت کی غرض سے غیرجانبدار سویڈن پہنچایا۔ مقبوضہ پولینڈ میں جولائی 1942 سے وارسا گھیٹو سے ٹریبلنکا کی قتل گاہوں میں یہودیوں کی جلاوطنی کے آغاز سے لے کر 1944ء کے موسم خزاں میں جرمنوں کے چلے جانے تک 20،000 سے زیادہ یہودی، پولش شہریوں کی مدد سے وارسا اور اس کے مضاقات میں رہ رہے تھے۔ بعض یورپی گرجا گھروں، یتیم خانوں اور خاندانوں نے یہودیوں کے لئے چھپنے کی جگہ مہیا کی، اور بعض حالات میں چھپے ہوئے یہودی افراد کی مدد کی (جیسے ہالینڈ میں این فرینک اور اس کا خاندان)۔ فرانس میں لی چیمبون۔سر۔لیگنان نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والے پروٹسٹنٹوں نے ہزاروں پناہ گزینوں کو، جو کہ اکثر یہودی تھے، پناہ دی۔

کچھ اور شخصیات نے یہودیوں کو بچانے کیلئے اپنے ذاتی اثرورسوخ کا استعمال کیا۔ بوڈاپیسٹ میں، سویڈش سفارتکار راؤل والینبرگ، سویس سفارتکار کارل لوٹز اور اٹلی کے باشندے گیورگیو پرلاسکا (اپنے آپ کو ہپسانوی ڈپلومیٹ ظاہر کر کے) نے جرمنی کی حمایتی ہنگیرین حکومت کی طرف سے ہزاروں یہودیوں کو نقلی "حفاظتی پاس" مہیا کئے۔ ان پاسوں نے ان ہزاروں یہودیوں کو یہود مخالف معیاروں اور ہجرت سے مستثنی رکھا۔ 1943 ء میں ایک کھلی بغاوت میں بلغاریہ کی اہم سیاسی، فکری اور مذہبی طور پر مشہور شخصیتوں نے بادشاہ بورس ثوم کو اس امر کی ترغیب دی کہ وہ جرمنوں کی درخواست کے تحت ملک کی عام سرحدوں کے اندر رہنے والے یہودیوں کو جلاوطن نہ کرے۔ لندن سے جان کارسکی نے پولینڈ انکسائل حکومت کو جرمنی کے نازیوں کے یورپی یہودیوں کو مارنے کے منصوبہ کے بارے میں متنبہ کیا۔ کارسکی نے حمایتی رہنماؤں جیسے کہ صدر فرینکلن ڈی. روزویلٹ کو بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اطلاعات دیں جن سے وہ جولائی 1943 میں ملے تھے. امریکہ میں موجود بعض گروپ امدادی کوششوں میں مصروف ہو گئے۔ کویکرز امریکی دوست خدمت کمیٹی، یونیٹیرئنز، اور دیگر گروپوں نے فرانس، پرتگال، اور اسپین میں یہودیوں کیلئے ریلیف سرگرمیوں کو مربوط کیا۔ 1934 اور 1942 کے درمیان دیگر مختلف امریکی گروپ (دونوں مذہبی اور غیر مذہبی ، یہودی اور غیر یہودی) نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخلے کے ویزے مہیا کرنے اور جگہ کا انتظام اور ، بعض صورتوں میں 1،000 کے لگ بھگ یہودی پناہ گزیں بچوں کیلئے ممکنہ وطن واپسی کیلئے خدمات فراہم کرنے میں مدد کی۔