تاریخی فلم فوٹیج

فرانسیسی مزاحمتی تحریک کے ارکان کے خلاف جرمن فوجی عدالت کا مقدمہ

فرانس نے 22 جون 1940 میں جرمنی کے ساتھ التواء جنگ کے معاہدے پر دستخط کئے جس کی رو سے جرمنی کے اس حق کو تسلیم کیا گیا کہ وہ فرانسیسی انتظامیہ کی نگرانی کر سکے۔ اس کے علاوہ جرمن فوجی حکام نے داخلی سلامتی کے معاملات پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس فوٹیج میں ایک جرمن فوجی عدالت پیرس میں ان فرانسیسی شہریوں پر مقدمہ چلا رہی ہے جن پر فوجی قبضے کے خلاف مزاحمت کا الزام تھا۔ سخت فوجی قانون کے باوجود جرمن فرانس میں اپنی مخالفت کو دبا نہیں سکی تھی اور مزاحمت کی کارروائیاں جون 1944 میں فرانس پر اتحادیوں کے حملے کے دوران اپنے عروج کو پہنچ گئیں۔

مکمل نقل

جرمن فوجی عدالت کی طرف سے فرانسیسی مزاحمتی تحریک کے ارکان پر مقدمہ۔ پیرس، اپریل سن 1942۔ ملزمان میں سے تئیس کو 17 اور 18 مارچ کو پھانسی دے دی گئی۔ [عدالت کے کمرے کے مناظر]۔ مقدمے کے وقت رومانیہ کے یہودی والدین کا بیٹا آندرے کرشین صرف پندرہ برس کا تھا اور جرمن فوجی قانون کے مطابق اسے موت کی سزا نہیں دی جا سکتی تھی۔ سیمون شلوس کو، جو یہودی تھا، 2 جولائی، 1942 کو پھانسی دے دی گئی۔


ٹیگ


  • Chronos Film
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.