چیم اینجل

چیم اینجل

پیدا ہوا: 1916

بروڈزیو, پولنڈ

چیم کے خاندان کا تعلق ایک چھوٹے قصبے سے تھا جہاں اُّن کے والد ایک ٹیکسٹائل اسٹور کے مالک تھے۔ جب بروڈزیو میں سام دشمنی کا منظم قتل عام پھیل گیا تو اینجل خاندان صنعتی شہر لوڈز چلا آیا۔ اُس وقت چیم کی عمر 5 برس تھی۔ لوڈز میں وہ ایک یہودی اسکول میں داخل ہوئے جہاں غیر مذہبی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ مڈل اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد چیم نے اپنے چچا کے ٹکسٹائل کارخانے میں کام کرنا شروع کر دیا۔

1933-39: لوڈز میں ہمارے قرب و جوار میں زیادہ تر یہودی رہتے تھے۔ لہذا میرے بیشتر دوست بھی یہودی تھے۔ میں نے ایک نوجوان کی حیثیت سے اپنی لازمی فوجی سروس شروع کی۔ یکم ستمبر 1939 کو جب میری تعیناتی ختم ہونے میں صرف دو ہفتے باقی تھے تو جرمنوں نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ چند ہفتوں کے بعد مجھے جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ جرمن قابضوں میں سے ایک جان گیا کہ میں یہودی ہوں لیکن اُس نے مجھے گولی نہیں ماری۔ مجھے جبری مشقت کیلئے جرمنی لے جایا گیا۔

1940-44: مارچ 1940 میں تمام یہودی جنگی قیدیوں کو پولنڈ واپس بھیج دیا گیا۔ مجھے 1942 کے موسم گرما میں سوبی بور قتل گاہ بھیج دیا گیا۔ اکتوبر 1943 میں قیدیوں کے ایک چھوٹے گروپ نے بغاوت کردی۔ میں نے اپنے نگران کو چھرا گھونپ کر مار ڈالا۔ ہر وار پر میں چلاتا کہ "یہ میرے والد کیلئے ہے، یہ میری والدہ کیلئے ہے اور یہ اُن تمام یہودیوں کیلئے ہے جنہیں تم نے قتل کیا ہے"۔ میرے ہاتھ سے چاقو پھسل گیا اور مجھے زخم آیا جس سے میرے سارے جسم پر خون پھیل گیا۔ ہر طرف افراتفری پھیل گئی۔ بہت سے قیدی بڑے دروازے سے باہر بھاگ گئے۔ اِن میں سے کچھ کا پیر بارودی سرنگ پر پڑ گیا۔ کچھ نے یہ دیکھ کر ہار مان لی اور بھاگنے کا ارادہ بالکل ترک کر دیا۔ میں نے اپنی گرل فرینڈ کا ہاتھ تھاما اور ہم جنگل کی طرف بھاگ گئے۔

چیم اپنی گرل فرینڈ سلما کے ساتھ پولینڈ کے جنگل میں چھپے رہے۔ جنگ کے بعد اُنہوں نے شادی کر لی اور یورپ اور اسرائیل میں رہنے لگے۔ اینجلز جوڑا 1957 میں امریکہ آ کر آباد ہو گیا۔