ذاتی تاریخ

بیلا جاکوبوویچ ٹووے برجن بیلسن میں موجود صورت حال کی وضاحت کرتی ہیں

بیلا سوسنوویک ميں رہنے والے ایک یہودی خاندان کے چار بچوں ميں سب سے بڑی تھیں۔ اُن کے والد ایک بُنائی کی فیکٹری کے مالک تھے۔ جب 1939 میں جرمنوں نے پولینڈ پر حملہ کیا تو انہوں نے فیکٹری پر قبضہ کر لیا۔ خاندان کا فرنیچر ایک جرمن عورت کو دے دیا گیا۔ بیلا کو 1941 میں سوسنوویک بستی کی ایک فیکٹری میں کام کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ 1942 میں اواخر میں اس خاندان کو بیڈزن یہودی بستی میں جلاوطن کر دیا گیا۔ 1943 میں بیلا کو گراس روزن کے گرائبن نامی ایک ذیلی کیمپ میں جلاوطن کردیا گیا اور 1944 میں برگن۔بیلسن بھیج دیا گیا۔ انھیں اپریل 1945 میں آزاد کرایا گیا اور وہ 1946 میں ہجرت کر کے ریاستہائے متحدہ امریکہ آ گئیں۔

مکمل نقل

برجن۔بیلسن آشوٹز جیسا نہیں تھا۔ وہاں گیس چیمبر نہیں تھے۔ انھیں گیس چیمبرز کی ضرورت نہیں تھی، وہ واقعی موت کا کیمپ تھا۔ مجھے یاد ہے، ہم لوگوں کو ایک بڑی خالی بیرک میں لایا گیا۔ وہاں فرش پر صرف کچھ سوکھی گھاس تھی۔ ہمیں بیرک میں دھکیل دیا گیا تاکہ ہم پیر نہ پھیلا سکیں۔ ہم لوگ اپنے گھٹنوں کے بل یوں بیٹھے تھے کہ گھٹنے ٹھوڑی سے لگ رہے تھے۔ اور، اف، آپ اپنے پیر نہیں پھیلا سکتے تھے۔ وہاں سردی تھی اور ہم بھوکے تھے۔ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس میں زیادہ وقت نہیں لگا اور ہم اپنے پیر پھیلا پائے، کیونکہ لوگ مر رہے تھے۔ تقریباً فوراً ہی ہمارے آس پاس لوگ مر رہے تھے۔ ہمیں مردہ لوگوں کو اٹھا کر باہر لے جانا تھا جہاں ہمیشہ لاشوں کا ڈھیر لگا ہوتا تھا۔ میں نے کئی لاشوں کو اٹھایا۔ میں نہیں جانتی میں کیسے یہ کام جاری رکھ سکی تھی۔ میں بتاتی ہوں لوگوں کے پاس اپنی حفاظت کے کچھ طریقے ہوتے ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ میں نے کبھی بھی آنکھ اُٹھا کر چہروں کو نہیں دیکھا، بالکل نہیں دیکھا۔


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.