ذاتی تاریخ

ڈیوڈ (ڈوڈی) برگ مین بتاتے ہیں کہ ڈاخاؤ میں میت سوزی کے مقام پر لیجائے جانے سے قبل کیمپ کے قیدیوں نے اُنہیں کیسے بچایا

جرمنی نے ڈیوڈ کے قصبے پر 1944 میں قبضہ کرلیا جو پہلے ہنگری کے تسلط میں تھا۔ ڈیوڈ کو آشوٹز کیمپ میں بھیج دیا گیا اور پھر اُن کے والد کے ساتھ اُنہیں پلاسزوف پہنچا دیا گیا۔ ڈیوڈ کو گراس روزن کیمپ اور ریخن باخ (لینگین بیلاؤ) میں بھیج دیا گيا۔ اُس کے بعد جانوروں کی گاڑی میں وہ 150 لوگوں میں شامل ان تین افراد میں سے ایک تھے جو ڈاخو کیمپ میں بھیجے جانے سے بچ گئے۔ جرمنی اور امریکہ کی لڑائی کے دوران انزبرک سے ایک محاذ کی طرف موت کے مارچ کے بعد اُنہیں آزاد کرا لیا گیا۔

مکمل نقل

جب ہم پہنچے تو میں پہلے ہی تقریباً بے ہوش ہوچکا تھا۔ میں 150 لوگوں میں شامل اُن تین افراد میں سے ایک تھا جو بچ گئے تھے۔ باقی سب لوگ مرے پڑے تھے۔ ان لوگوں نے یہ کیا کہ کچھ نے مجھے ہاتھ سے اور کچھ نے پیرسے پکڑ کراٹھایا اور ایک اسٹریچر پر پھینکا اور وہ مجھے لاشیں جلانے کی بھٹی کی طرف لے جانے کیلئے تیار تھے۔ یہی آخری جگہ تھی جہاں وہ لے جا سکتے تھے۔۔۔ اور یہی ان کا حتمی مقصد بھی تھا۔ کسی طرح مجھے اٹھانے والوں میں سے کسی نے میرے ہاتھ حرکت کرتے دیکھے اور اُنہیں احساس ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ لہذا وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مجھے بیرک میں لے آیا۔ وہ حقیقت میں ایک شاور روم کی طرح تھا۔ میں اس وقت بہت ہی حیرت زدہ تھا، حقیقت میں مجھے کچھ سوج نہیں رہا تھا۔ میں نے سوچا۔۔۔ جب میں وہاں غسل خانے میں داخل ہوا، میں بیداری کی حالت میں تھا۔ میں نے سوچا کہ میں مر چکا ہوں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کہ میں کسی دوسری دنیا میں ہوں۔ "یہ لوگ یہاں کیا کررہے ہیں؟ میں کہاں ہوں؟" اور میں نے سوچا کہ میں پوری طرح حواس باختہ ہو چکا ہوں۔ حتی کہ مجھے کوئی اندازاہ نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں۔ پھر کوئي شخص آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ کیا ہوا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ "تم لاشیں جلانے کی بھٹی میں پھینکے جانے سے محض چند سکنڈ کے فاصلہ پر تھے کہ ان لوگوں نے دیکھا کہ تم اب تک زندہ ہو۔" اُنہوں نے کہا "تم اس عمر کے پہلے جوان ہو جو حقیقت میں زندہ بچ سکے ہو۔" پھر ان لوگوں نے مجھے اپنی بیرکوں میں چھپا دیا۔ اس طور پر کہ کسی کو خیال بھی نہیں تھا کہ میں وہاں ہوں۔ میں انکے لئے ایک ہیرو کی طرح ہوگیا۔ یہاں وہ باپ تھے جنھوں نے کہا کہ اگر میں نے ایسا کیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ انکی اولاد بھی ایسا ہی کر پائے۔ مجھے کوئی راشن نہیں ملا تھا۔ وہاں راشن ایک روٹی کے ٹکڑے کی صورت میں اتنی مقدار میں ملتا تھا جس سے وہ اس وقت تک زندہ رہیں جب تک کہ انہیں لاشیں جلانے کی بھٹی میں پہنچا دیا جائے۔ بہرحال ان میں سے ہر کوئی اپنے حصے کی روٹی سے میرے لئے ایک ٹکڑا توڑتا اور مجھے کھانے کیلئے دیتا تاکہ میں زندہ رہ سکوں۔ اُنہوں نے کہا "ڈیوڈ تمہیں زندہ رہنا ہو گا تاکہ تم دنیا کو بتا سکو کہ کیا ہوا تھا۔"


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.