ذاتی تاریخ

جان ڈولی بوئیس جنگ کے بعد مقدمے کیلئے جرمن قیدیوں سے تفتیش کا حال بیان کرتے ہیں

جان ڈولی بوئیس 13 سال کی عمر میں 1931 میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں جا بسے۔ کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد ڈولی بوئیس نے امریکی فوج کے 16 ویں بکتر بند ڈویژن میں شمولیت اختیار کی۔ جرمن زبان میں مہارت کی وجہ سے وہ ملٹری انٹیلی جنس میں شامل ہو گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے قریب وہ اس عہدہ و صلاحیت کے ساتھ یورپ میں واپس آئے۔ ڈولی بوئیس نے جنگ کے بعد کے مقدمات کی تیاری کیلئے سرکردہ نازیوں سمیت جرمن قیدیوں سے تفتیش کی۔ بعد میں اُنہیں اپنے پیدائشی ملک لگزمبرگ میں امریکی سفیر مقرر کیا گیا۔

مکمل نقل

لیکن ہماری مشکل ذاتی طور پر ملوث نہ ہونا، ہمدردی نہ جتانا اور یہ ظاہر نہ کرنا تھا کہ آپ اُن کے معاملے کو سمجھ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے یہ وہی معاملہ ہے جہاں رچی میں ہماری تربیت بہت زبردست تھی۔ جسمانی حرکات و سکنات کی زبان میں ہم کوشش کرتے کہ اُن سے متفق نہ ہوں، اور جب وہ کوئی گہرا بیان دیتے تو اپنے سر کو حرکت دیتے ہوئے کوئی ایسا اشارہ نہ کرتے گویا ہم اُن سے اتفاق کر رہے ہیں یا پھر "یہ تاثر دینا کہ اگر ہم اُن کی جگہ ہوتے ہوتے تو ویسا ہی کرتے۔" آپ کو انہیں ایسا موقع دینے سے بچنا ہوتا کہ وہ اپنے اعمال، اپنے فلسفہ کو آپ تک منقل کر سکیں۔ باالفاظ دیگر "وہ دشمن ہو سکتا ہے لیکن وہ مجھ سے اتفاق کرتا ہے کیونکہ میں نے اس کو سر کا اشارہ کرتے دیکھا تھا، میں نے جب یہ کہا تو اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔" چنانچہ ہمیں حد درجہ غیر متعلق رہنا اور پتھر کی طرح دکھنے والا چہرا بننا سیکھنا تھا، اور نہ کہ ہم ان باتوں کو اپنے دل پر لے لیں جو وہ کہتے ہیں یا جو انہوں نے بعض مرتبہ کہیں۔ لہذا ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے جسم کی زبان نہایت اہم ہے۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

شیئر کریں

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.