ذاتی تاریخ

سام اشپیگل ہالوکاسٹ کے دوران بقا کے تصورات کی عکاسی کرتے ہیں

1942 میں سام کو اپنے ہی وطن میں ایک یہودی بستی میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا اور اُنہیں گولہ بارود کے کارخانے میں کام پر معمور کر دیا گیا۔ 1944 میں اُنہیں آشوٹز کیمپ بھیج دیا گيا جہاں اُنہیں ایک ریل گاڑی کے کارخانے میں کام پر لگا دیا گیا۔ جب نازیوں نے آشوٹز کو خالی کرایا تو وہ آٹھ دن تک جاری رہنے والے موت کے مارچ سے زندہ بچنے میں کامیاب ہو گئے۔ اُنہیں جنوری 1945 میں سوویت فوجی یونٹوں نے آزاد کرایا۔ وہ جرمنی میں پناہ گذینوں کے ایک کیمپ میں رہے جہاں اُنہوں نے اقوام متحدہ کی امداد اور آبادکاری کی انتظامیہ میں خدمات انجام دیں۔ وہ 1947 میں نقل مکانی کر کے امریکہ چلے آئے۔

مکمل نقل

کئی بار حتی کہ اب بھی میں سوچتا ہوں کہ میں ہی کیوں، میرے علاوہ میرے خاندان کا کوئی اور شخص کیوں نہیں؟ میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ لیکن جس چیز نے ہمیں ایک ساتھ رکھا وہ یہ ہے کہ ہم نوجوان تھے۔۔۔ بہت ہی کم عمر۔ زیادہ عمر کے لوگ جنہیں زندگی کے تجربات یا زندگي کی معلومات زیادہ تھیں، ان میں سے اکثر لوگوں نے یا تو خودکشی کرلی یا وہ یہ سب کچھ برداشت نہ کر پائے۔ لیکن ہم لوگ جو نوجوان تھے ہم نے ایک ساتھ مل کر چلنا جاری رکھا۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم نے اس وقت زندگي میں قدم رکھا ہی تھا اور ہم نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ اِس صورت حال کو ختم ہونا ہی ہے۔ ہم جانتے تھے کہ کوئی بھی جنگ ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی۔ ہم نے ایک دوسرے سے وعدہ کررکھا تھا کہ کسی نہ کسی کو زندہ رہنا ہو گا تاکہ وہ دنیا کو بتا سکے کہ یہ جہنم کیسا تھا اور اُن کیمپوں میں اور دوسرے مقامات پر کیا ہوا تھا۔ لہذا ہمارے علاوہ ان کو کون یہ سب کچھ بتا سکے گا کیونکہ اس وقت سب سے چھوٹی عمر کے لوگ تقریباً میری عمر کے ہی تھے۔ اور تھوڑے ہی دنوں میں ہم میں سے بہت ہی کم لوگ باقی رہ پائیں گے۔ خاص طور پر وہ گواہ جو موقع پر موجود تھے۔


آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.