تصویروں سے متعلق حروف تہجی کی فہرست کو براؤز کریں۔ یہ تاریخی تصاویر دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ سے پہلے، دوران اور بعد کے لوگوں، مقامات اور واقعات کی تصویر کشی کرتی ہیں۔
تھیریسئن شٹٹ کی یہودی بستی میں 21 اپریل 1945 کو منعقد ہونے والے آپرا کے لئے اسٹینڈنگ روم کا ٹکٹ۔
تھیریسئن شٹٹ کی یہودی بستی میں رہنے کے کوارٹر۔ تھیریسئن شٹٹ، چکوسلواکیا، 1941 اور 1945 کے درمیان۔
تھیریسئن شٹٹ کی یہودی بستی میں عورتوں کے کیمپ میں عورتیں بیرکوں کی زمین پر پتلے گدے پر لیٹی ہوئی ہيں۔ چکوسلواکیا، 1941 اور 1945 کے درمیان۔
تھیریسئن شٹٹ کی یہودی بستی میں عورتیں باہر کھانا پکارہی ہیں۔ تھیریسئن شٹٹ، چکوسلواکیا، 1941 اور 1945 کے درمیان۔
تھیریسئن شٹٹ کی یہودی بستی میں کھانے کی تیاری۔ تھیریسئن شٹٹ، چکوسلواکیا، 1941 اور 1945 کے درمیان۔
تھیریسئن شٹٹ کی یہودی میں حال ہی میں پہنچنے والے ڈچ یہودی۔ چکوسلواکیا، فروری 1944
تھیریسین شٹٹ کی یہودی بستی میں ایک یہودی پولیس مین کی تصویرجسے بین الاقوامی ریڈکراس کے دورے کے دوران لیا گیا تھا۔ ایس ایس نے لوگوں کو گمراہ کر کے یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہودی بستیاں یہودیوں کے زیر انتظام علاقے ہیں۔ چیکو سلواکیہ، 23 جون 1944۔
تین یہودی تاجروں کو لیپزگ میں لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی سڑک پر ان کتبوں کے ساتھ مارچ کرنے پر مجبور کیا گیا جن پر لکھا تھا "یہودیوں سے خریدوفروخت مت کرو۔ جرمنوں سے ہی خریدوفروخت کیا کرو!" لیپزگ، جرمنی، 1935
جان ڈیمجنجوک کے مقدمے کے دوران اخباری نمائیندے۔ یروشلم، اسرائیل، 18 مارچ، 1987 ۔
سن 1930-1939 وارسا میں موجود کورجیک کے یتیم خانے میں جانوس کورزاک (بیچ میں) اور سبینہ لیزروویکز (دائیں طرف) بچوں اور نوعمر عملے کے ساتھ۔ حالانکہ جب 1942 میں ٹریبلنکا میں انہیں قتل کرنے کے لیے جلاوطن کر دیا گیا تھا، کورجیک اور ان کا عملہ اپنے بچوں کے ساتھ ہی رہے۔
جانوس کورزاک کا پورٹریٹ، جو پولینڈ کے یہودی ڈاکٹر اور مصنف تھے اور سن 1930 میں وارسا میں یہودی یتیم خانہ چلاتے تھے۔
پولش یہودی ڈاکٹر جانوس کورزاک کی یاد میں ایک دیواری مجسمہ۔ یہ مجسمہ پولینڈ کے اولزٹن میں واقع تدریسی ہسپتال کے باہر واقع ہے۔
جبری مشقت پر معمور قیدی کیمپ کے اضافی حصے کی تعمیر کررہے ہیں۔ آش وٹز۔برکیناؤ، پولنڈ، 1942-1943۔
جبری مشقت پر معمور قیدی۔ بوخن والڈ حراستی کیمپ، جرمنی، 1940 اور 1945 کے درمیان۔
جبری مشقت پر معمور مزدور آش وٹز میں نکاسی آب کے ایک نالے کی کھودائی کر رہے ہیں۔ آش وٹز، پولینڈ، 1942-1943۔۔
جبری مشقت کیلئے گرفتار کی گئی یہودی عورتیں زبردستی چھین لئے گئے کپڑوں کو الگ الگ کر رہی ہیں۔ لوڈز یہودی بستی، پولینڈ، تاریخ نامعلوم۔
جبری مشقت کے ایک کیمپ کے قیدی۔ یہ تصویر ایس ایس کے ایک معائنے کے دوران لی گئی تھی۔ ڈاخو حراستی کیمپ، جرمنی، 28 جون 1938۔
رھائن لینڈ کے علاقے کی فوجی تشکیل نو کے بعد بیلجیم کی سرحد پر واقع شہر آچن میں جرمن فوجیں داخل ہو رہی ہیں۔ آچن، جرمنی، 18 مارچ، 1936
جرمن بچے سام دشمن پراپیگنڈہ پر مبنی کتاب دیئر گفٹپلز ("زہریلی کھمبیاں") پڑھ رہے ہیں۔ بائیں طرف موجود لڑکی اس کتاب کی اضافی کتاب اُٹھائے ہوئے ہے۔ کتاب کے عنوان کا ترجمہ ہے "لومڑیوں پر بھروسہ مت کرو۔" جرمنی، ca 1938 ۔
جرمن حملہ آور فوجی بڈگاش پہنچتے ہوئے۔ پولینڈ، 18 ستمبر 1939۔
جرمن حکام کیلئے یہودیوں کی مذمت مختلف ذرائع سے کی گئی اورکبھی کبھار تو ان کے بچانے والوں کی طرف سے بھی ایسا کیا گیا۔ 1944 میں ایوا اور لی این (جنہيں اس تصویر میں دکھایا گیا ہے) کے بچانے والوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں ان کی اطلاع پولیس کو دے دی گئی۔ شوہر نے طیش میں آکر اپنی بیوی اور…
جرمن سپاہی وارسا یہودی بستی کی بغاوت کے دوران گرفتار ہونے والے یہودیوں کو جلاوطنی کیلئے اکٹھے ہونے کے مقام پر لے جا رہے ہیں پولینڈ، مئی 1943۔
جرمن طالب علم اُن کتابوں کے اردگرد اکٹھے ہوئے ہیں جنہیں وہ "غیر جرمن" تصور کرتے تھے۔ یہ کتابیں برلن کے علاقے اوپن پلاٹز میں کھلے عام نظر آتش کی جائیں گی۔ برلن، جرمن، 10 مئی، 1933 ۔
جرمن فزیشن اور ایس ایس کیپٹن جوزف مینگیلے۔ اسے 1943 میں آشوٹز کا ایس ایس گیریزن فزیشن (اسٹینڈورٹارٹز)بنایا گیا۔ اس حیثیت میں اس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ مشقت کیلئے موذوں افراد اور گیس کے ذریعے ہلاک کئے جانے والوں کا انتخاب کرے۔ مینگیلے نے قیدیوں پر طبی تجربات بھی کئے جن میں خاص…
جرمن فوجی وارسا یہودی بستی میں بغاوت کے دوارن یہودیوں کو گرفتار کرتے ہوئے۔ پولنڈ، مئی 1943۔
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.