متحرک نقشہ

مزاحمت

نازی کی دہشت کا سامنا کرتے ہوئے بہت سے یہودیوں نے جرمنوں اور اُن کے حلیفوں کے خلاف مزاحمت کی۔ نازیوں کے مقبوضہ مشرقی یورپ میں 100 سے زیادہ یہودی بستیوں میں خفیہ مزاحمتی تحریکوں نے جنم لیا۔ اس کے علاوہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی کچھ نازی کیمپوں میں یہودی قیدی بغاوت شروع کرنے میں کامیاب رہے۔ یہودیوں کے منظم یونٹوں نے فرانس، بیلجیم، یوکرین، بیلاروس، لیتھوئینیا اور پولینڈ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ یہودیوں نے عمومی طور پر فرانسیسی، اطالوی، یوگوسلاوین، یونانی اور سوویت مزاحمتی تنظیموں کے خلاف بھی لڑائی جاری رکھی۔ اگرچہ منظم مسلح مزاحمت نازیوں کی مخالفت کی سب سے بڑی براہ راست صورت تھی تاہم مزاحمتی اقدامات میں فرار، چھپ جانا، ثقافتی سرگرمیاں اور روحانی تحفظ کے دیگر اقدامات بھی شامل تھے۔

مکمل نقل

یورپ میں جرمن تسلط کے عروج کے وقت بھی بہت سے یہودیوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے نازیوں کے مظالم کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔

نازیوں کے تمام تر مقبوضہ یورپ کی یہودی بستیوں میں یہودیوں نے اپنی روحانی مزاحمت کے ذریعے نازیوں کی طرف سے روا رکھے جانے والے غیر انسانی اور غیر مناسب رویوں کے خلاف مدافعت کی اور اُنہوں نے اپنی نسلی اور ثقافتی زندگی کے تحفظ کی کوشش کی۔

اُنہوں نے خفیہ مذہبی اجتماعات کئے، اسکول اور لائبریریاں قائم کیں اور خفیہ اشاعتوں، لیکچروں اور پروگراموں کے ذریعے اپنی ثقافتی روایات کو جاری رکھا۔

آرٹ اور تحریری دستاویزات کے خفیہ ریکارڈ میں کچھ یہودی بستیوں کے اندرونی حالات کی عکاسی کی گئی۔

جعلی دستاویزات تیار کرنے والے زیر زمین نیٹ ورک اور اسمگلروں نے یہودی بستیوں کے مکینوں اور تمام تر یورپ میں چھپے ہوئے افراد کی زندگی بچانے کی خاطرسرکاری دستاویزات اور خوراک پہنچائی۔

تاہم منظم مسلح مزاحمت نازیوں کے خلاف یہودیوں کی مخالفت کی سب سے زیادہ براہ راست شکل تھی۔

مغربی یورپ میں منظم جماعتوں نے خطرے میں گھرے لوگوں کو اسمگل کر کے محفوظ مقامات تک پہنچایا اور اُن لوگوں کو بھی مدد فراہم کی جو چھپے ہوئے تھے۔

وہ غیر یہودی مزاحمتی یونٹوں میں بھی شامل ہوئے اور جرمن فوجی تنصیبات کو سبوتاج کیا۔

اگرچہ اُنہیں مقامی آبادیوں کی طرف سے برائے نام ہی حمایت حاصل ہوئی اُنہوں نے 100 سے زائد یہودی بستیوں میں مسلح مزاحمتی یونٹ قائم کئے۔

اپریل 1943 میں وارسا کے یہودیوں نے اسلحہ اور تعداد کم ہونے کے باوجود یہودی بستی میں سب سے بڑی بغاوت شروع کی۔ تقریباً ایک ماہ کے بعد جرمنوں نے بغاوت کچل دی۔

یہودیوں نے جرمنوں کے ساتھ یہودی بستیوں اور قریبی جنگلوں میں فرنٹ لائن کے پیچھے بھی لڑائی کی۔

بہت سے واقعات میں مزاحمتی گرویوں کے ارکان نے مشرقی ہورپ کی یہودی بستیوں کے باہر منظم گروپوں میں بھی شمولیت اختیار کر لی۔

قیدیوں کی طرف سے بغاوت نازی کمپوں میں بھی ہوئی جن میں ٹریبلنکا، سوبی بور، اور آشوٹز۔ برکینو کی قتل گاہوں میں 1943-1944 میں ہونے والی بغاوت بھی شامل ہے۔

اگرچہ وہ نازیوں کی طرف سے نسل کشی کے اقدامات کو روک نہیں پائے تاہم اُن کی اِن اور دیگر کوششوں میں پایا جانے والا جذبہ بہت بھرپور تھا۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum

Share This