
بچاؤ اور مزاحمت
کچھ یہودی جرمنی کے مقبوضہ یورپ سے فرار ہو کر یا چھپ کر "حتمی حل" یعنی یورپ کے یہودیوں کو قتل کرنے کے نازی کے منصوبے سے زندہ بچ گئے۔ زيادہ تر غیریہودیوں نے "حتمی حل" میں نہ تو مدد کی اور نہ ہی اس میں مداخلت کی۔ بہت ہی کم افراد ایسے تھے جنہوں نے یہودیوں کو فرار ہونے میں مدد دی۔ یہودیوں کی مدد کرنے والوں نے اپنے دلوں میں نازی نسل پرستی کی مخالفت یا انسانی ہمدردی، یا مذہب یا اخلاقیات کے جذبوں کی وجہ سے ایسا کیا۔ کچھ نایاب واقعات میں تمام کی تمام برادریوں اور افراد نے یہودیوں کی مدد کی۔ ایسا کرنا ان کے لئے خطرے سے خالی نہ تھا۔ کئی جگہوں پر یہودیوں کو پناہ دینا ایک جرم تھا، جس کی سزا موت تھی۔
جنوبی فرانس کے ایک پروٹیسٹنٹ گاؤں، لی چیمبون۔ سر۔ لگنان کے مکینوں نے 1940 اور 1944 کے درمیان ہزاروں پناہ گزينوں کو، جن میں سے زيادہ تر یہودی تھے، نازیوں کے تشدد سے فرار ہونے میں مدد دی۔ خطرات کے متعلق مکمل علم ہونے کے باوجود، وہ اسے اپنا اخلاقی فرض اور مذہب کا جذبہ سمجھ کر ڈتے رہے۔ پناہ گزینوں کو، جن میں کئی بچے بھی شامل تھے، گھروں اور قریبی کیتھلک کانوینٹس اور خانقاہوں میں چھپایا گيا۔ لی چیمبون۔ سر۔ لگنان کے مکینوں نے پناہ گزینوں کو خفیہ طور پر غیرجانبدار سوٹزرلینڈ بھی لے جانے میں مدد دی۔
مقبوضہ یورپ بھر میں کئی یہودیوں نے مسلح مزاحمت کی بھی کوششیں کیں۔ انفرادی طور پر اور گروہوں میں، یہودیوں نے منصوبے کے تحت اور اس کے بغیر جرمنوں کی مخالفت کی۔ یہودی حلیفوں کے یونٹس فرانس اور بیلجیم میں کام کرتے تھے۔ وہ خاص طور پر مشرق میں سرگرم تھے، جہاں وہ گھنے جنگلوں اور یہودی بستیوں میں قائم کردہ اڈوں سے جرمنوں کا مقابلہ کرتے تھے کیونکہ سام دشمنی پھیلی ہوئی تھی۔ انہيں آس پاس کی آبادی سے حمایت کم ہی ملی۔ اس کے باوجود، بیس اور تیس ہزار کے درمیان یہودیوں نے مشرقی یورپ کے جنگلات میں جرمنوں کا مقابلہ کیا
منظم مسلح مزاحمت یہودی مخالفت کی سب سے براہ راست شکل تھی۔ یورپ کے کئی علاقوں میں یہودی مزاحمت نے امداد، بچاؤ اور روحانی مزاحمت کی طرف توجہ دی۔ نازیوں کی نسل کشی کی پالیسیوں کے خلاف روحانی مزاحمت نے یہودی ثقافتی تنظیموں کی حفاظت اور مذہبی رسومات کی پیروی کرنے کی شکل اختیار کر لی۔